قرضے، خسارے اور انتظامی بگاڑ وہ تین بنیادی دراڑیں ہیں جو پاکستان کے سر پر منڈلاتے معاشی احتساب کی نشاندہی کرتی ہیں۔ پاکستان کا معاشی بحران اب ایک ایسی دہرائی جانے والی داستان بن چکا ہے جس میں عوامی قرضوں میں مسلسل اضافہ، ٹیکس اہداف کا حاصل نہ ہونا اور سست روی کا شکار معاشی نمو شامل ہیں۔ مالی سال 2024-25 کے اختتام تک عوامی قرضہ 80.6 کھرب روپے تک جا پہنچا، جو 13 فیصد اضافہ ہے، جس کی بنیادی وجوہات میں 7.1 کھرب روپے کا وسیع مالی خسارہ اور توقع سے کم جی ڈی پی نمو شامل ہیں۔
ایشین ڈیولپمنٹ بینک نے رواں برس کے لیے محض 3 فیصد معاشی نمو کی پیش گوئی کی ہے، جو حکومت کے مقرر کردہ 4.2 فیصد ہدف سے خاصی کم ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بھی فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے اصلاحاتی منصوبے پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔
یہ خلیج، خواہش اور حقیقت کے درمیان، محض کمزور معاشی کارکردگی کی عکاسی نہیں کرتی؛ بلکہ یہ عشروں پر محیط طرزِ حکمرانی کی خرابی کو نمایاں کرتی ہے۔
ایک کے بعد دوسری حکومت نے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے وعدے کیے، مگر جب طاقتور مفادات نے مزاحمت کی، تو یہ وعدے پس پشت ڈال دیے گئے۔ اس کا نتیجہ ایک غیر منصفانہ نظام کی صورت میں نکلا، جہاں کارپوریٹ ادارے اور تنخواہ دار طبقہ سب سے زیادہ بوجھ برداشت کرتا ہے، جبکہ زراعت، تاجر اور سیاسی سرپرستی کے حامل شعبے تقریباً محفوظ رہتے ہیں۔ اس خلا کو پُر کرنے کے لیے ریاست مزید قرض لیتی ہے، یوں قرض اور انحصار کا ایک نہ ختم ہونے والا چکر جاری رہتا ہے۔
اصل سوال یہ ہے: یہ دراڑیں ہمیں کہاں لے جا رہی ہیں؟ اور اس زوال کی جڑ میں ہے کیا ؟
معاشی تباہ کاری کے اثرات اب واضح طور پر نظر آنے لگے ہیں۔ سب سے پہلے، بڑھتا ہوا قرض ملکی مالی خودمختاری کو کھوکھلا کر چکا ہے۔ قرضوں کی ادائیگی سرکاری اخراجات کا بڑا حصہ نگل جاتی ہے، جس کے بعد صحت، تعلیم یا بنیادی ڈھانچے کے لیے بہت کم وسائل بچتے ہیں۔ ترقیاتی بجٹ معمول کے مطابق قرض کی قسطوں کی نذر کر دیے جاتے ہیں۔
دوسرا اثر حکومت کی پیش گوئیوں اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے اندازوں کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتبار کے فرق کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، جو سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مجروح کرتا ہے۔ جب ایشیائی ترقیاتی بینک 3 فیصد شرحِ نمو کی پیش گوئی کرتا ہے اور اسلام آباد 4.2 فیصد پر اصرار کرتا ہے، تو سرمایہ کار اسے حکمتِ عملی نہیں بلکہ انکار کی علامت سمجھتے ہیں۔ محض خوش فہمی پر مبنی پالیسی سرمایہ کاری کو متوجہ نہیں کر سکتی۔
تیسرا، کمزور محصولات کا نظام پاکستان کو کم شرحِ نمو کے ایک مستقل چکر میں پھنسا چکا ہے۔ جب معیشت میں ٹیکنالوجی، توانائی اور انسانی وسائل میں سرمایہ کاری کے لیے وسائل ہی دستیاب نہ ہوں، تو وہ بمشکل آبادی کے بڑھتے ہوئے بوجھ کے ساتھ قدم ملا پاتی ہے۔
اس کے سیاسی اثرات بھی اتنے ہی خطرناک ہیں۔ محض فرمانبردار طبقے سے ٹیکس وصول کرنا اور بااثر طبقوں کو رعایت دینا ایک ایسی پالیسی ہے جو عوام کے اعتماد کو کھو دیتی ہے۔ عوام اسے ایک ایسا ریاستی نظام سمجھتے ہیں جو اشرافیہ کے قبضے میں ہے، اور وہ ان لوگوں سے قربانی کا تقاضا کرنے سے قاصر ہے جو قربانی دے سکتے ہیں۔ اس سے عوام میں بے چینی جنم لیتی ہے، اداروں کی ساکھ مجروح ہوتی ہے، اور ایسے عوامی رجحانات کو ہوا ملتی ہے جو مایوسی کی بنیاد پر پروان چڑھتے ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر، قرض پر انحصار قومی فیصلوں کے اختیارات کو محدود کر دیتا ہے۔ ایک ایسا ملک جو مسلسل بیل آؤٹ کے لیے مذاکرات میں مصروف ہو، وہ خارجہ پالیسی میں خودمختاری سے فیصلے نہیں کر سکتا۔ یوں معاشی بقا کی قیمت پر تزویراتی خودمختاری قربان کر دی جاتی ہے۔
پاکستان کے معاشی مسائل تکنیکی حلوں کی کمی سے نہیں، بلکہ سیاسی معیشت میں جڑ پکڑ چکی خرابیوں سے جنم لیتے ہیں۔ اشرافیہ کا قبضہ اس بگاڑ کا مرکز ہے۔ جاگیردار، تاجر، اور صنعتی لابیاں اتنی طاقت رکھتی ہیں کہ اصلاحات کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کا نعرہ ہمیشہ لگایا جاتا ہے، مگر اسے عملی جامہ نہیں پہنایا جاتا۔
سیاست میں قلیل مدتی سوچ اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتی ہے۔ حکومتیں اصلاحات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دیتی ہیں، اور مشکل مگر ضروری ڈھانچہ جاتی تبدیلیوں کے بجائے عوامی مقبولیت حاصل کرنے والی سبسڈیوں یا قرضوں کی توسیع کو ترجیح دیتی ہیں۔ اس ”آگ بجھاؤ“ طرزِ حکمرانی نے طویل مدتی منصوبہ بندی کو ناممکن بنا دیا ہے۔
کمزور ادارے اس بگاڑ کو مزید بڑھاتے ہیں۔ ایف بی آر بار بار جدید بنانے میں ناکام رہا ہے، جبکہ ریاستی ادارے ہر سال اربوں روپے کا نقصان کرتے رہتے ہیں۔
بالآخر، مسئلے کی جڑ جواب دہی کی کمی ہے۔ وہ عناصر جو چھوٹ، سبسڈی یا قرض معافی سے فائدہ اٹھاتے ہیں، شاذ و نادر ہی کسی نتائج کا سامنا کرتے ہیں۔ جب احتساب نہ ہو، تو اصلاحات محض نمائشی ہوتی ہیں، اور انہیں کسی بھی وقت واپس لیا جا سکتا ہے۔
اس چکر کو توڑنے کے لیے تخلیق سے زیادہ جُرات کی ضرورت ہے۔
اول، ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا ناگزیر ہے۔ زراعت، جائیداد اور تھوک و پرچون کا شعبہ اپنی جائز حصہ داری دے۔ ٹیکنالوجی، جیسے ڈیجیٹل ریکارڈ اور نادرا کے ساتھ انضمام، مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، مگر فیصلہ کن عامل سیاسی عزم ہے۔
دوم، مالی نظم و ضبط ناقابلِ مفاہمت تقاضا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ غیر ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی کی جائے، سبسڈیوں کو معقول بنایا جائے، اور وسائل کو صحت، تعلیم اور ٹیکنالوجی پر مرکوز کیا جائے۔ خسارے کو پورا کرنے کے لیے قرض لینا اب مزید قابلِ برداشت نہیں۔
سوم، اداروں کی ازسرِ نو تعمیر ضروری ہے۔ ایف بی آر کو نتائج پر مبنی مراعات دی جائیں، اور ریاستی اداروں کو یا تو ازسرِ نو منظم کیا جائے یا نجکاری کے ذریعے مسلسل خسارے کو روکا جائے۔
چہارم، ایک قومی اتفاقِ رائے ناگزیر ہے۔ جس طرح اٹھارہویں ترمیم کے لیے سیاسی مفاہمت درکار تھی، اسی طرح معاشی اصلاحات بھی قومی سطح کے اتفاق کی متقاضی ہیں۔ جب تک تمام فریق ان اصلاحات کے مالک نہیں بنیں گے، ہر نئی حکومت پچھلی کی کوششوں کو ختم کر دے گی، اور معیشت جمود کا شکار رہے گی۔
آخر میں معیشت کے انجن کا رخ تبدیل کرنا ہوگا۔ صرف صارفین پر مبنی ترقی کا ماڈل پائیدار نہیں۔ اگر پاکستان کو 6 سے 7 فیصد ترقی کی وہ رفتار حاصل کرنی ہے جو اس کی افرادی قوت کو جذب کر سکے، تو برآمدات، قابلِ تجدید توانائی، آئی ٹی، اور انسانی سرمایہ کو ترقی کا محور بنانا ہو گا۔
کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025


























Comments
Comments are closed.