وزارتِ تجارت نے پرانی گاڑیوں کی کمرشل درآمد کی اجازت دے دی
وزارتِ تجارت نے منگل کے روز ایک ایس آر او جاری کیا ہے، جس کے تحت فوری طور پر پانچ سال تک پرانی استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد کی اجازت دے دی گئی ہے، تاہم ان پر 40 فیصد اضافی ڈیوٹی عائد ہوگی۔
18 ستمبر 2025 کو وفاقی وزیر خزانہ و ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت ہونے والے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں وزارتِ تجارت کی جانب سے بھیجی گئی سمری پر اس اسکیم کی منظوری دی گئی تھی۔ اس فیصلے کی توثیق وفاقی کابینہ نے بھی کی۔
وزارتِ تجارت کی جانب سے 30 ستمبر 2025 کو جاری ہونے والے ایس آر او نمبر 1895 (1) 2025 کے مطابق، درآمدات و برآمدات (کنٹرول) ایکٹ 1950 کی دفعہ 3 کی ذیلی شق (I) کے تحت وفاقی حکومت نے درآمدی پالیسی آرڈر 2022 میں ترمیمات کا اعلان کیا۔
ترمیم کے مطابق، آرڈر کی ٹیبل میں اپینڈکس-سی کے تحت، سیریل نمبر 10 کی کالم (2) میں شق (xv) کے بعد ایک نئی شق (xvi) شامل کی گئی ہے، جس کے تحت پی سی ٹی ہیڈنگز 8702، 8703، 8704 اور 8711 کے تحت پانچ سال سے کم پرانی استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد 30 جون 2026 تک اجازت دی گئی ہے۔ اس کے بعد گاڑیوں کی عمر کی حد ختم کی جا سکتی ہے۔ تاہم یہ درآمد ماحولیاتی، حفاظتی اور کوالٹی اسٹینڈرڈز، ٹیسٹنگ اور سرٹیفکیشن کی شرائط سے مشروط ہوگی، جیسا کہ انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی)، وزارتِ صنعت و پیداوار نے مقرر کیا ہے۔
ایس آر او میں مزید کہا گیا ہے کہ اس شق میں شامل کوئی بھی چیز اس آرڈر کے دیگر حصوں میں دیے گئے انہی پی سی ٹی ہیڈنگز سے متعلق دفعات کو منسوخ یا محدود تصور نہیں کی جائے گی۔
مزید یہ کہ حکومت نے پانچ سال سے کم پرانی استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد پر موجودہ کسٹمز ڈیوٹیز کے علاوہ 40 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی بھی عائد کر دی ہے۔ یہ اضافی ڈیوٹی 30 جون 2026 تک لاگو رہے گی، جس کے بعد ہر سال 10 فیصد پوائنٹس کی کمی کے ساتھ بتدریج کم کی جائے گی اور مالی سال 2029-30 تک اسے مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا، جیسا کہ ٹیرف پالیسی بورڈ کی سفارشات میں تجویز کیا گیا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.