انڈس ڈائینگ اینڈ مینوفیکچرنگ لمیٹڈ (آئی ڈی وائے ایم) جو پاکستان کی ایک یارن بنانے والی کمپنی ہے نے انکشاف کیا ہے کہ اس کے دو ملازمین بڑے پیمانے پر مالی بدعنوانی میں ملوث پائے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق غبن کی گئی جائیداد اور اثاثوں کی مالیت تقریباً 52 کروڑ 20 لاکھ روپے (522 ملین) بنتی ہے۔
لسٹڈ کمپنی نے یہ پیش رفت جمعہ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کو دیے گئے نوٹس میں ظاہر کی۔
نوٹس میں کمپنی نے بتایا کہ اس نے دو افراد کی نشاندہی کی ہے جن کے نام ندیم الحق اور بختیار مسعود ہیں، ان پر کمپنی کے فنڈز میں مبینہ طور پر خوردبرد کرنے کا الزام ہے۔
آئی ڈی وائے ایم نے بتایا کہ اس نے مشکوک مالی سرگرمیوں پر اندرونی تحقیقات شروع کیں اور اس دوران مذکورہ بالا ملازمین کمپنی کے فنڈز میں خردبرد میں ملوث پائے گئے۔
کمپنی نے فوری طور پر متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اطلاع دی جس کے نتیجے میں ان افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ کمپنی نے مزید کہا کہ ان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
حکام نے سابق ملازمین اور ان کے بے نامی داروں (benamidars) کے نام پر کچھ اثاثوں/جائیدادیں شناخت کی ہیں اور انہیں منجمد کردیا ہے جن کی مالیت کا تخمینہ تقریباً 52 کروڑ 20 لاکھ روپے لگایا گیا ہے۔
مزید یہ کہ کمپنی بدعنوانی کے مکمل حجم کا اندازہ لگانے اور حکام کی جانب سے شناخت شدہ و منجمد اثاثوں/جائیداد کے ذریعے ممکنہ ریکوری کے لیے تمام ضروری اقدامات کررہی ہے۔ موجودہ اندازے کے مطابق کمپنی پر اس کا منفی مالی اثر تقریباً 43 کروڑ 90 لاکھ روپے ہے جس کے لیے کمپنی کی جانب سے مناسب پروویژننگ تجویز کی جا رہی ہے۔
آئی ڈی وائی ایم نے مزید کہا کہ اس نے مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اندرونی کنٹرولز اور رسک مینجمنٹ کے نظام کو مزید مضبوط بنادیا ہے۔
فائلنگ میں کہا گیا کہ کمپنی شفافیت برقرار رکھنے اور کارپوریٹ گورننس کے اعلیٰ ترین معیاروں کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے، مکمل مالی اثرات کا تعین ہونے کے بعد مزید انکشافات کیے جائیں گے۔























Comments
Comments are closed.