BR100 Decreased By (-0.67%)
BR30 Decreased By (-1.27%)
KSE100 Decreased By (-0.52%)
KSE30 Decreased By (-0.51%)
BAFL 56.86 Decreased By ▼ -0.01 (-0.02%)
BIPL 24.91 Decreased By ▼ -0.05 (-0.2%)
BOP 30.16 Decreased By ▼ -0.19 (-0.63%)
CNERGY 12.95 Decreased By ▼ -0.17 (-1.3%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.38 Decreased By ▼ -5.07 (-2.63%)
FABL 93.85 Decreased By ▼ -0.29 (-0.31%)
FCCL 52.25 Decreased By ▼ -0.54 (-1.02%)
FFL 14.59 Decreased By ▼ -0.13 (-0.88%)
GGL 19.14 Decreased By ▼ -0.42 (-2.15%)
HBL 306.01 Decreased By ▼ -0.09 (-0.03%)
HUBC 199.99 Decreased By ▼ -1.43 (-0.71%)
HUMNL 9.98 Decreased By ▼ -0.18 (-1.77%)
KEL 6.11 Increased By ▲ 0.02 (0.33%)
LOTCHEM 26.25 Decreased By ▼ -0.21 (-0.79%)
MLCF 91.49 Decreased By ▼ -1.67 (-1.79%)
OGDC 314.00 Decreased By ▼ -2.73 (-0.86%)
PAEL 35.14 Decreased By ▼ -0.49 (-1.38%)
PIBTL 14.68 No Change ▼ 0.00 (0%)
PIOC 240.89 Decreased By ▼ -2.32 (-0.95%)
PPL 222.35 Decreased By ▼ -4.56 (-2.01%)
PRL 91.20 Decreased By ▼ -1.82 (-1.96%)
SNGP 90.82 Decreased By ▼ -1.02 (-1.11%)
SSGC 23.25 Decreased By ▼ -0.56 (-2.35%)
TELE 7.70 Decreased By ▼ -0.10 (-1.28%)
TPLP 12.62 Decreased By ▼ -0.35 (-2.7%)
TRG 56.30 Decreased By ▼ -0.26 (-0.46%)
UNITY 8.04 Decreased By ▼ -0.03 (-0.37%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)

اسلامی نظریاتی کونسل نے کیش نکالنے اور ٹرانسفر پر عائد متنازع ودہولڈنگ ٹیکس (ڈبلیو ایچ ٹی) کے بارے میں اپنے پہلے مؤقف کو بدھ کے روز واپس لیتے ہوئے تسلیم کیا کہ اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

ابتدائی طور پر، کونسل نے ایک اجلاس کے بعد جاری کیے گئے سرکاری بیان میں، جس کی صدارت چیئرمین ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی نے کی، ودہولڈنگ ٹیکس کو زیادہ اور غیر اسلامی قرار دیا تھا۔

تاہم چند گھنٹوں بعد ہی کونسل نے اپنے مؤقف سے یوٹرن لیتے ہوئے وضاحت دی کہ اس نے ابھی اس معاملے پر کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی، جس سے مزید ابہام پیدا ہو گیا۔

ودہولڈنگ ٹیکس (ڈبلیو ایچ ٹی) ایک پیشگی انکم ٹیکس ہے جو بینک افراد کی کیش نکالنے یا ٹرانسفر پر خودکار طور پر کٹوتی کرتے ہیں۔ بعد ازاں یہ ٹیکس انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 اور سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے تحت حکومت کے پاس اکاؤنٹ ہولڈر کی طرف سے جمع کرا دیا جاتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق، اسلامی نظریاتی کونسل کے اس اچانک مؤقف کی تبدیلی پر بااثر معاشی اسٹیک ہولڈرز کے دباؤ کا اثر ہو سکتا ہے، جس نے کونسل کی پالیسی معاملات میں خودمختاری پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ معاشی حقیقتوں کے بجائے زیادہ تر نظریاتی بنیادوں پر کیا گیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک شدید مالی بحران کا شکار ہے۔

یہ یوٹرن کونسل کی حالیہ متنازعہ کارروائیوں کی ایک کڑی ہے، جن میں دیت قانون میں ترامیم کو مسترد کرنا اور سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی مخالفت شامل ہے جس میں قرار دیا گیا تھا کہ طلاق یافتہ عورت کو نکاح کی تکمیل سے قطع نظر نان و نفقہ کا حق حاصل ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ مؤقف ظاہر کرتا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کا اثر و رسوخ قانونی اور سماجی پالیسیوں پر بڑھ رہا ہے، حالانکہ اس کا کردار صرف مشاورتی ہے۔

اگرچہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات قانونی طور پر پابند نہیں ہوتیں، لیکن قومی پالیسیوں پر اس کا اثر نمایاں ہے۔ ودہولڈنگ ٹیکس پر حالیہ یوٹرن نے یہ سوال مزید شدت سے اٹھا دیا ہے کہ آیا کونسل کی نظریاتی سمت ملک کی معاشی ضروریات سے ہم آہنگ ہے یا نہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.