BR100 Increased By (0.29%)
BR30 Increased By (0.37%)
KSE100 Increased By (0.07%)
KSE30 Increased By (0.23%)
BAFL 57.20 Increased By ▲ 0.46 (0.81%)
BIPL 26.89 Decreased By ▼ -0.15 (-0.55%)
BOP 33.69 Increased By ▲ 0.01 (0.03%)
CNERGY 10.61 Increased By ▲ 0.80 (8.15%)
DFML 18.05 Decreased By ▼ -0.47 (-2.54%)
DGKC 209.90 Increased By ▲ 2.03 (0.98%)
FABL 98.95 Increased By ▲ 0.05 (0.05%)
FCCL 53.74 Increased By ▲ 0.22 (0.41%)
FFL 16.46 Decreased By ▼ -0.22 (-1.32%)
GGL 23.82 Increased By ▲ 0.25 (1.06%)
HBL 302.42 Decreased By ▼ -1.97 (-0.65%)
HUBC 218.94 Increased By ▲ 0.83 (0.38%)
HUMNL 10.54 Decreased By ▼ -0.12 (-1.13%)
KEL 7.28 Decreased By ▼ -0.07 (-0.95%)
LOTCHEM 29.65 Increased By ▲ 0.54 (1.86%)
MLCF 96.36 Increased By ▲ 0.86 (0.9%)
OGDC 318.22 Increased By ▲ 0.28 (0.09%)
PAEL 41.77 Decreased By ▼ -0.06 (-0.14%)
PIBTL 16.81 Increased By ▲ 0.31 (1.88%)
PIOC 296.62 Increased By ▲ 16.61 (5.93%)
PPL 220.17 Increased By ▲ 0.43 (0.2%)
PRL 49.05 Increased By ▲ 4.46 (10%)
SNGP 106.13 Decreased By ▼ -1.36 (-1.27%)
SSGC 29.14 Increased By ▲ 0.21 (0.73%)
TELE 8.82 Increased By ▲ 0.06 (0.68%)
TPLP 12.51 Increased By ▲ 0.41 (3.39%)
TRG 60.22 Increased By ▲ 0.19 (0.32%)
UNITY 10.02 Decreased By ▼ -0.09 (-0.89%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)

اسلامی نظریاتی کونسل نے کیش نکالنے اور ٹرانسفر پر عائد متنازع ودہولڈنگ ٹیکس (ڈبلیو ایچ ٹی) کے بارے میں اپنے پہلے مؤقف کو بدھ کے روز واپس لیتے ہوئے تسلیم کیا کہ اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

ابتدائی طور پر، کونسل نے ایک اجلاس کے بعد جاری کیے گئے سرکاری بیان میں، جس کی صدارت چیئرمین ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی نے کی، ودہولڈنگ ٹیکس کو زیادہ اور غیر اسلامی قرار دیا تھا۔

تاہم چند گھنٹوں بعد ہی کونسل نے اپنے مؤقف سے یوٹرن لیتے ہوئے وضاحت دی کہ اس نے ابھی اس معاملے پر کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی، جس سے مزید ابہام پیدا ہو گیا۔

ودہولڈنگ ٹیکس (ڈبلیو ایچ ٹی) ایک پیشگی انکم ٹیکس ہے جو بینک افراد کی کیش نکالنے یا ٹرانسفر پر خودکار طور پر کٹوتی کرتے ہیں۔ بعد ازاں یہ ٹیکس انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 اور سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے تحت حکومت کے پاس اکاؤنٹ ہولڈر کی طرف سے جمع کرا دیا جاتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق، اسلامی نظریاتی کونسل کے اس اچانک مؤقف کی تبدیلی پر بااثر معاشی اسٹیک ہولڈرز کے دباؤ کا اثر ہو سکتا ہے، جس نے کونسل کی پالیسی معاملات میں خودمختاری پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ معاشی حقیقتوں کے بجائے زیادہ تر نظریاتی بنیادوں پر کیا گیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک شدید مالی بحران کا شکار ہے۔

یہ یوٹرن کونسل کی حالیہ متنازعہ کارروائیوں کی ایک کڑی ہے، جن میں دیت قانون میں ترامیم کو مسترد کرنا اور سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی مخالفت شامل ہے جس میں قرار دیا گیا تھا کہ طلاق یافتہ عورت کو نکاح کی تکمیل سے قطع نظر نان و نفقہ کا حق حاصل ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ مؤقف ظاہر کرتا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کا اثر و رسوخ قانونی اور سماجی پالیسیوں پر بڑھ رہا ہے، حالانکہ اس کا کردار صرف مشاورتی ہے۔

اگرچہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات قانونی طور پر پابند نہیں ہوتیں، لیکن قومی پالیسیوں پر اس کا اثر نمایاں ہے۔ ودہولڈنگ ٹیکس پر حالیہ یوٹرن نے یہ سوال مزید شدت سے اٹھا دیا ہے کہ آیا کونسل کی نظریاتی سمت ملک کی معاشی ضروریات سے ہم آہنگ ہے یا نہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.