سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ان کی حکومت سیلاب سے متاثرہ کسانوں کے ساتھ مکمل طور پر کھڑی ہے اور قانون و انصاف کی بحالی کے ساتھ ساتھ معذور افراد کے لیے سماجی شمولیت کو بھی فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔
مراد علی شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے کراچی کے کورنگی میں سینٹر آف ایکسیلنس فار ڈس ایبلیٹی انکلژن (سی ای ڈی آئی) کا افتتاح کیا، جسے سندھ حکومت کے ڈیپارٹمنٹ آف ایمپاورمنٹ آف پرسنز ود ڈس ایبیلٹیز (ڈی ای پی ڈی) اور این او ڈبلیو پی ڈی پی کے اشتراک سے قائم کیا گیا ہے۔
مالی امور کے حوالے سے مراد علی شاہ نے بتایا کہ نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) آئین کے آرٹیکل 160 کے تحت قائم کیا گیا ہے اور اس میں وفاقی وزیر خزانہ اور چاروں صوبوں کے وزرائے خزانہ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زرعی ٹیکسیشن کا دوبارہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے، ہم کسانوں پر مکمل طور پر ٹیکس ختم نہیں کر سکتے، لیکن یہ یقینی بنائیں گے کہ ہمارے ریونیو کے اہداف پورے ہوں۔
وزیر اعلیٰ نے خبردار کیا کہ اگر مکمل زرعی ہنگامی صورتحال نہ اپنائی گئی تو دسمبر-جنوری کے بعد ملک میں گندم کی قلت پیدا ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا، گزشتہ سال، کسانوں کو منصفانہ قیمت نہ ملنے کی وجہ سے گندم کی پیداوار میں 20 فیصد کمی آئی۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو بحران مزید سنگین ہو جائے گا۔ بلاول بھٹو کا زرعی ہنگامی حالت کا مطالبہ صرف کسانوں کے لیے نہیں بلکہ پورے ملک کے مفاد میں ہے۔
انہوں نے مزید کہا، “سیلاب کی وجہ سے کسانوں کو زبردست نقصان اٹھانا پڑا ہے، اور اس کا حل تلاش کرنا ضروری ہے۔ میں وزیراعظم شہباز شریف کا شکر گزار ہوں جنہوں نے زرعی ہنگامی صورتحال کا اعلان کیا اور ایک کمیٹی قائم کی۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت نے پہلے ہی بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر کسانوں کی مدد کے لیے ریلیف پیکیج تیار کر لیا ہے اور ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔ سیلاب کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ گڈو بیراج میں سیلاب کی شدت کم ہو رہی ہے جبکہ سکھر بیراج میں پانی کی سطح زیادہ ہے، اور کوٹری بیراج میں اگلے 7-10 دنوں میں زیادہ بہاؤ متوقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی میں متعدد انتظامی اداروں کی الگ الگ کارروائی کے باوجود مسائل حل کرنے کی ذمہ داری حکومت کی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کورنگی میں قائم اس سینٹر کے ذریعے معذور افراد کو پیشہ ورانہ تربیت، معاشی آزادی اور باعزت روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
مراد علی شاہ نے سینٹر میں مختلف تربیت حاصل کرنے والے بچوں، نوجوانوں اور خواتین سے ملاقات کی اور ان کی مہارتوں کو سراہا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ سندھ حکومت فلاح و بہبود اور شمولیت میں سرمایہ کاری جاری رکھے گی اور آنے والی نسلوں کے لیے روشن مستقبل بنایا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے معذور افراد کے لیے ریکشہ چلانے کی تربیت حاصل کرنے والوں کو ڈرائیونگ لائسنس جاری کرنے کی ہدایت بھی دی اور خود ایک ڈرائیور کے ساتھ مختصر ریکشہ کی سواری بھی کی۔
























Comments
Comments are closed.