BR100 Increased By (0.03%)
BR30 Decreased By (-0.03%)
KSE100 Decreased By (-0.1%)
KSE30 Increased By (0%)
BAFL 56.99 Increased By ▲ 0.25 (0.44%)
BIPL 26.82 Decreased By ▼ -0.22 (-0.81%)
BOP 33.36 Decreased By ▼ -0.32 (-0.95%)
CNERGY 10.22 Increased By ▲ 0.41 (4.18%)
DFML 18.05 Decreased By ▼ -0.47 (-2.54%)
DGKC 208.90 Increased By ▲ 1.03 (0.5%)
FABL 98.97 Increased By ▲ 0.07 (0.07%)
FCCL 53.68 Increased By ▲ 0.16 (0.3%)
FFL 16.40 Decreased By ▼ -0.28 (-1.68%)
GGL 23.85 Increased By ▲ 0.28 (1.19%)
HBL 302.32 Decreased By ▼ -2.07 (-0.68%)
HUBC 219.03 Increased By ▲ 0.92 (0.42%)
HUMNL 10.55 Decreased By ▼ -0.11 (-1.03%)
KEL 7.20 Decreased By ▼ -0.15 (-2.04%)
LOTCHEM 29.38 Increased By ▲ 0.27 (0.93%)
MLCF 96.01 Increased By ▲ 0.51 (0.53%)
OGDC 317.70 Decreased By ▼ -0.24 (-0.08%)
PAEL 41.88 Increased By ▲ 0.05 (0.12%)
PIBTL 16.63 Increased By ▲ 0.13 (0.79%)
PIOC 296.12 Increased By ▲ 16.11 (5.75%)
PPL 219.75 Increased By ▲ 0.01 (0%)
PRL 47.85 Increased By ▲ 3.26 (7.31%)
SNGP 106.30 Decreased By ▼ -1.19 (-1.11%)
SSGC 29.02 Increased By ▲ 0.09 (0.31%)
TELE 8.83 Increased By ▲ 0.07 (0.8%)
TPLP 12.25 Increased By ▲ 0.15 (1.24%)
TRG 60.19 Increased By ▲ 0.16 (0.27%)
UNITY 10.05 Decreased By ▼ -0.06 (-0.59%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)

صدر آصف علی زرداری نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان، چین اور دیگر ممالک کے ساتھ مل کر ثقافتی تبادلوں کو فروغ دینے، تخلیقی صنعتوں کو مضبوط بنانے اور برداشت و باہمی فہم و ادراک کے کلچر کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ ثقافت امن، خوشحالی اور انسانیت کے مشترکہ مستقبل کی طرف جانے والا ایک لازمی پل ہے۔

صدر زرداری نے چین کے صوبہ سیچوان کے شہر چنگدو میں منعقدہ دوسرے گولڈن پانڈا ایوارڈز انٹرنیشنل کلچر فورم سے خطاب کرتے ہوئے فن اور ثقافت کی طاقت کو اجاگر کیا، جو لوگوں کو یکجا کرنے اور تہذیبوں کو قریب لانے کا ذریعہ بنتی ہے۔

صدر سیکریٹریٹ پریس وِنگ کے مطابق فورم میں سینئر چینی رہنماؤں، ثقافتی نمائندوں، فنکاروں اور بین الاقوامی مندوبین نے شرکت کی۔

۔

صدر زرداری نے اس بات پر زور دیا کہ پاک-چین دیرینہ دوستی باہمی احترام اور تعاون کی ایک بہترین مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک آئندہ سال سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ منانے جا رہے ہیں اور یہ شراکت داری اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں اقوام کے درمیان تعلقات نہ صرف اسٹریٹجک ہیں بلکہ عوامی دوستی کی زندہ مثال بھی ہیں۔

انہوں نے چین کے تہذیبی تبادلے اور باہمی سیکھنے کے وژن کی مکمل حمایت کی اور گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو ، گلوبل سکیورٹی انیشی ایٹو اور گلوبل گورننس انیشی ایٹو کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ ان اقدامات کو انہوں نے پائیدار ترقی، علاقائی استحکام اور شمولیتی بین الاقوامی تعاون کا ضامن قرار دیا۔

صدر زرداری نے کہا کہ گلوبل گورننس انیشی ایٹو تہذیبوں کے تنوع کے احترام، ثقافتوں کے مابین مساوات، عوامی روابط اور ثقافتی مکالمے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، جو تصادمِ تہذیبوں کے بیانیے کا توڑ ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بڑی تبدیلیوں کے عمل سے گزر رہی ہے اور صدر شی جن پنگ کی قیادت میں چین نے محاذ آرائی کے بجائے تعاون اور ون-ون حل پیش کیے ہیں، جو قابلِ تعریف ہیں۔

صدر زرداری نے ایوارڈ جیتنے والوں کو مبارکباد دی اور ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ فنونِ لطیفہ کی یہ کاوشیں سرحدوں سے بالاتر ہیں اور مشترکہ انسانی قدروں کے ذریعے لوگوں کو قریب لاتی ہیں۔

دریں اثنا، صدر زرداری نے چینگدو میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے پبلسٹی ڈیپارٹمنٹ کے وزیر اور پولیٹ بیورو و سیکریٹیریٹ کے رکن لی شو لی سے ملاقات کی۔

اس موقع پر صدر نے سیاسی، معاشی اور ثقافتی میدانوں میں پاکستان اور چین کے درمیان تعاون کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا اور عوامی روابط و پبلک ڈپلومیسی کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

انہوں نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے رہنما کا شکریہ ادا کیا اور فورم کے کامیاب انعقاد پر انہیں اور منتظمین کو مبارکباد دی۔

لی شو لی نے کہا کہ صدر شی جن پنگ نے صدر زرداری کے لیے نیک تمناؤں اور خیرسگالی کے پیغامات بھیجے ہیں اور رواں سال فروری میں ہونے والی ملاقات کو یاد کیا۔

انہوں نے صدر زرداری کے حالیہ مضمون کو، جو چائنا ڈیلی میں شائع ہوا، بھی سراہا اور کہا کہ چین میں پاکستان کے نقطۂ نظر کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صدر شی اور وہ دونوں صدر زرداری کی قیادت کو بے حد قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، جنہوں نے پاک-چین شراکت داری کو مزید مستحکم کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بدل رہی ہے لیکن چین اور پاکستان ہمیشہ آہنی بھائی رہیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج دنیا کو بارود کی بدبو نہیں بلکہ کتابوں کی خوشبو کی ضرورت ہے۔

Comments

Comments are closed.