BR100 Increased By (0.63%)
BR30 Increased By (0.84%)
KSE100 Increased By (0.41%)
KSE30 Increased By (0.45%)
BAFL 58.60 Increased By ▲ 0.16 (0.27%)
BIPL 25.50 Increased By ▲ 0.30 (1.19%)
BOP 34.31 Increased By ▲ 0.32 (0.94%)
CNERGY 8.15 Increased By ▲ 0.04 (0.49%)
DFML 20.95 Increased By ▲ 0.11 (0.53%)
DGKC 195.11 Increased By ▲ 2.14 (1.11%)
FABL 89.92 Increased By ▲ 0.13 (0.14%)
FCCL 53.30 Increased By ▲ 0.47 (0.89%)
FFL 18.02 Increased By ▲ 0.07 (0.39%)
GGL 19.60 Increased By ▲ 0.63 (3.32%)
HBL 287.50 Increased By ▲ 2.00 (0.7%)
HUBC 215.10 Increased By ▲ 0.72 (0.34%)
HUMNL 10.90 Increased By ▲ 0.02 (0.18%)
KEL 8.14 Increased By ▲ 0.12 (1.5%)
LOTCHEM 27.50 Decreased By ▼ -0.39 (-1.4%)
MLCF 87.20 Increased By ▲ 0.69 (0.8%)
OGDC 322.98 Increased By ▲ 3.02 (0.94%)
PAEL 39.80 Increased By ▲ 0.38 (0.96%)
PIBTL 17.39 Increased By ▲ 0.72 (4.32%)
PIOC 268.99 Increased By ▲ 2.93 (1.1%)
PPL 229.25 Increased By ▲ 1.07 (0.47%)
PRL 34.75 Increased By ▲ 0.07 (0.2%)
SNGP 99.22 Increased By ▲ 0.04 (0.04%)
SSGC 26.97 Increased By ▲ 0.37 (1.39%)
TELE 8.57 Increased By ▲ 0.29 (3.5%)
TPLP 8.64 Increased By ▲ 0.42 (5.11%)
TRG 69.66 Decreased By ▼ -0.05 (-0.07%)
UNITY 11.70 Increased By ▲ 0.03 (0.26%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)

صدر آصف علی زرداری نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان، چین اور دیگر ممالک کے ساتھ مل کر ثقافتی تبادلوں کو فروغ دینے، تخلیقی صنعتوں کو مضبوط بنانے اور برداشت و باہمی فہم و ادراک کے کلچر کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ ثقافت امن، خوشحالی اور انسانیت کے مشترکہ مستقبل کی طرف جانے والا ایک لازمی پل ہے۔

صدر زرداری نے چین کے صوبہ سیچوان کے شہر چنگدو میں منعقدہ دوسرے گولڈن پانڈا ایوارڈز انٹرنیشنل کلچر فورم سے خطاب کرتے ہوئے فن اور ثقافت کی طاقت کو اجاگر کیا، جو لوگوں کو یکجا کرنے اور تہذیبوں کو قریب لانے کا ذریعہ بنتی ہے۔

صدر سیکریٹریٹ پریس وِنگ کے مطابق فورم میں سینئر چینی رہنماؤں، ثقافتی نمائندوں، فنکاروں اور بین الاقوامی مندوبین نے شرکت کی۔

۔

صدر زرداری نے اس بات پر زور دیا کہ پاک-چین دیرینہ دوستی باہمی احترام اور تعاون کی ایک بہترین مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک آئندہ سال سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ منانے جا رہے ہیں اور یہ شراکت داری اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں اقوام کے درمیان تعلقات نہ صرف اسٹریٹجک ہیں بلکہ عوامی دوستی کی زندہ مثال بھی ہیں۔

انہوں نے چین کے تہذیبی تبادلے اور باہمی سیکھنے کے وژن کی مکمل حمایت کی اور گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو ، گلوبل سکیورٹی انیشی ایٹو اور گلوبل گورننس انیشی ایٹو کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ ان اقدامات کو انہوں نے پائیدار ترقی، علاقائی استحکام اور شمولیتی بین الاقوامی تعاون کا ضامن قرار دیا۔

صدر زرداری نے کہا کہ گلوبل گورننس انیشی ایٹو تہذیبوں کے تنوع کے احترام، ثقافتوں کے مابین مساوات، عوامی روابط اور ثقافتی مکالمے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، جو تصادمِ تہذیبوں کے بیانیے کا توڑ ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بڑی تبدیلیوں کے عمل سے گزر رہی ہے اور صدر شی جن پنگ کی قیادت میں چین نے محاذ آرائی کے بجائے تعاون اور ون-ون حل پیش کیے ہیں، جو قابلِ تعریف ہیں۔

صدر زرداری نے ایوارڈ جیتنے والوں کو مبارکباد دی اور ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ فنونِ لطیفہ کی یہ کاوشیں سرحدوں سے بالاتر ہیں اور مشترکہ انسانی قدروں کے ذریعے لوگوں کو قریب لاتی ہیں۔

دریں اثنا، صدر زرداری نے چینگدو میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے پبلسٹی ڈیپارٹمنٹ کے وزیر اور پولیٹ بیورو و سیکریٹیریٹ کے رکن لی شو لی سے ملاقات کی۔

اس موقع پر صدر نے سیاسی، معاشی اور ثقافتی میدانوں میں پاکستان اور چین کے درمیان تعاون کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا اور عوامی روابط و پبلک ڈپلومیسی کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

انہوں نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے رہنما کا شکریہ ادا کیا اور فورم کے کامیاب انعقاد پر انہیں اور منتظمین کو مبارکباد دی۔

لی شو لی نے کہا کہ صدر شی جن پنگ نے صدر زرداری کے لیے نیک تمناؤں اور خیرسگالی کے پیغامات بھیجے ہیں اور رواں سال فروری میں ہونے والی ملاقات کو یاد کیا۔

انہوں نے صدر زرداری کے حالیہ مضمون کو، جو چائنا ڈیلی میں شائع ہوا، بھی سراہا اور کہا کہ چین میں پاکستان کے نقطۂ نظر کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صدر شی اور وہ دونوں صدر زرداری کی قیادت کو بے حد قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، جنہوں نے پاک-چین شراکت داری کو مزید مستحکم کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بدل رہی ہے لیکن چین اور پاکستان ہمیشہ آہنی بھائی رہیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج دنیا کو بارود کی بدبو نہیں بلکہ کتابوں کی خوشبو کی ضرورت ہے۔

Comments

Comments are closed.