BR100 Decreased By (-0.2%)
BR30 Decreased By (-0.39%)
KSE100 Decreased By (-0.07%)
KSE30 Increased By (0.01%)
BAFL 56.48 Increased By ▲ 0.01 (0.02%)
BIPL 24.66 Increased By ▲ 0.03 (0.12%)
BOP 29.98 Decreased By ▼ -0.14 (-0.46%)
CNERGY 12.73 Decreased By ▼ -0.25 (-1.93%)
DFML 18.00 Increased By ▲ 0.51 (2.92%)
DGKC 188.50 Increased By ▲ 1.28 (0.68%)
FABL 93.30 Decreased By ▼ -0.41 (-0.44%)
FCCL 51.68 Increased By ▲ 0.03 (0.06%)
FFL 14.43 Decreased By ▼ -0.06 (-0.41%)
GGL 18.88 Decreased By ▼ -0.16 (-0.84%)
HBL 303.00 Decreased By ▼ -0.78 (-0.26%)
HUBC 199.48 Increased By ▲ 0.52 (0.26%)
HUMNL 9.77 Decreased By ▼ -0.08 (-0.81%)
KEL 6.02 Decreased By ▼ -0.04 (-0.66%)
LOTCHEM 26.23 Increased By ▲ 0.06 (0.23%)
MLCF 91.15 Decreased By ▼ -0.08 (-0.09%)
OGDC 314.95 Increased By ▲ 1.56 (0.5%)
PAEL 35.00 Decreased By ▼ -0.24 (-0.68%)
PIBTL 14.30 Decreased By ▼ -0.41 (-2.79%)
PIOC 237.99 Decreased By ▼ -1.63 (-0.68%)
PPL 220.45 Decreased By ▼ -0.91 (-0.41%)
PRL 89.90 Decreased By ▼ -1.32 (-1.45%)
SNGP 91.15 Increased By ▲ 0.28 (0.31%)
SSGC 23.25 Decreased By ▼ -0.05 (-0.21%)
TELE 7.41 Decreased By ▼ -0.20 (-2.63%)
TPLP 12.17 Decreased By ▼ -0.39 (-3.11%)
TRG 55.15 Decreased By ▼ -0.64 (-1.15%)
UNITY 7.96 Decreased By ▼ -0.06 (-0.75%)
WTL 1.01 Increased By ▲ 0.01 (1%)

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو 2023-24 کے دوران پولٹری، ٹیکسٹائل سیکٹرز اور متفرق درآمدی اشیا پر کسٹمز ڈیوٹی کی چھوٹ اور رعایتوں کے باعث 161 ارب روپے کے ریونیو کا نقصان اٹھانا پڑا، جو کسٹمز ایکٹ کے پانچویں شیڈول کے تحت دی گئیں۔

ایف بی آر کی جاری کردہ ٹیکس ایکسپنڈیچر رپورٹ 2025 کے مطابق دالیں، آلو وغیرہ جیسی ضروری خوردنی اشیا، تیل اور تیل کی مصنوعات، برآمدی شعبوں کے ان پٹس وغیرہ کی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی میں چھوٹ/کم شرحوں کے باعث 2023-24 میں 124 ارب روپے کے ریونیو کا نقصان ہوا۔ پاک-چین فری ٹریڈ ایگریمنٹ (ایف ٹی اے) کے تحت چین سے درآمدات پر کسٹمز ڈیوٹی کی عمومی چھوٹ کا ریونیو اثر اس عرصے میں 47 ارب روپے رہا۔

سرکردہ 10 کیٹیگریز میں کسٹمز ڈیوٹی کا مجموعی خرچ 566 ارب روپے رہا، جو 2023-24 کے دوران کسٹمز ڈیوٹی کے مجموعی خرچ کا 87.73 فیصد ہے۔

2023-24 کے لیے کسٹمز ڈیوٹی کا کُل خرچ 652.39 ارب روپے تخمینہ کیا گیا ہے۔ یہ کسٹمز ڈیوٹی رعایتیں بنیادی طور پر کم شرحوں، صفر شرحوں اور مخصوص شعبوں یا اشیاء کو دی گئی چھوٹ کی صورت میں فراہم کی گئیں۔ یہ رعایتیں وسیع طور پر مختلف کیٹیگریز میں تقسیم ہیں جن میں پلانٹ مشینری، آلات، کیمیکلز، پرزہ جات اور قابلِ تجدید توانائی کے آلات وغیرہ شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، 2023-24 میں کسٹمز ڈیوٹی کا خرچ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا 0.62 فیصد ہے اور کُل ٹیکس اخراجات میں اس کا حصہ 26.80 فیصد ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.