BR100 Increased By (1.01%)
BR30 Increased By (1.45%)
KSE100 Increased By (0.55%)
KSE30 Increased By (0.63%)
BAFL 58.40 Decreased By ▼ -0.04 (-0.07%)
BIPL 25.40 Increased By ▲ 0.20 (0.79%)
BOP 34.28 Increased By ▲ 0.29 (0.85%)
CNERGY 8.17 Increased By ▲ 0.06 (0.74%)
DFML 21.00 Increased By ▲ 0.16 (0.77%)
DGKC 197.00 Increased By ▲ 4.03 (2.09%)
FABL 89.52 Decreased By ▼ -0.27 (-0.3%)
FCCL 53.90 Increased By ▲ 1.07 (2.03%)
FFL 18.02 Increased By ▲ 0.07 (0.39%)
GGL 19.74 Increased By ▲ 0.77 (4.06%)
HBL 286.90 Increased By ▲ 1.40 (0.49%)
HUBC 215.68 Increased By ▲ 1.30 (0.61%)
HUMNL 10.92 Increased By ▲ 0.04 (0.37%)
KEL 8.13 Increased By ▲ 0.11 (1.37%)
LOTCHEM 27.50 Decreased By ▼ -0.39 (-1.4%)
MLCF 88.15 Increased By ▲ 1.64 (1.9%)
OGDC 324.12 Increased By ▲ 4.16 (1.3%)
PAEL 39.98 Increased By ▲ 0.56 (1.42%)
PIBTL 17.30 Increased By ▲ 0.63 (3.78%)
PIOC 270.70 Increased By ▲ 4.64 (1.74%)
PPL 231.75 Increased By ▲ 3.57 (1.56%)
PRL 34.90 Increased By ▲ 0.22 (0.63%)
SNGP 99.51 Increased By ▲ 0.33 (0.33%)
SSGC 27.13 Increased By ▲ 0.53 (1.99%)
TELE 8.58 Increased By ▲ 0.30 (3.62%)
TPLP 8.75 Increased By ▲ 0.53 (6.45%)
TRG 71.59 Increased By ▲ 1.88 (2.7%)
UNITY 11.66 Decreased By ▼ -0.01 (-0.09%)
WTL 1.27 Decreased By ▼ -0.01 (-0.78%)

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو 2023-24 کے دوران پولٹری، ٹیکسٹائل سیکٹرز اور متفرق درآمدی اشیا پر کسٹمز ڈیوٹی کی چھوٹ اور رعایتوں کے باعث 161 ارب روپے کے ریونیو کا نقصان اٹھانا پڑا، جو کسٹمز ایکٹ کے پانچویں شیڈول کے تحت دی گئیں۔

ایف بی آر کی جاری کردہ ٹیکس ایکسپنڈیچر رپورٹ 2025 کے مطابق دالیں، آلو وغیرہ جیسی ضروری خوردنی اشیا، تیل اور تیل کی مصنوعات، برآمدی شعبوں کے ان پٹس وغیرہ کی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی میں چھوٹ/کم شرحوں کے باعث 2023-24 میں 124 ارب روپے کے ریونیو کا نقصان ہوا۔ پاک-چین فری ٹریڈ ایگریمنٹ (ایف ٹی اے) کے تحت چین سے درآمدات پر کسٹمز ڈیوٹی کی عمومی چھوٹ کا ریونیو اثر اس عرصے میں 47 ارب روپے رہا۔

سرکردہ 10 کیٹیگریز میں کسٹمز ڈیوٹی کا مجموعی خرچ 566 ارب روپے رہا، جو 2023-24 کے دوران کسٹمز ڈیوٹی کے مجموعی خرچ کا 87.73 فیصد ہے۔

2023-24 کے لیے کسٹمز ڈیوٹی کا کُل خرچ 652.39 ارب روپے تخمینہ کیا گیا ہے۔ یہ کسٹمز ڈیوٹی رعایتیں بنیادی طور پر کم شرحوں، صفر شرحوں اور مخصوص شعبوں یا اشیاء کو دی گئی چھوٹ کی صورت میں فراہم کی گئیں۔ یہ رعایتیں وسیع طور پر مختلف کیٹیگریز میں تقسیم ہیں جن میں پلانٹ مشینری، آلات، کیمیکلز، پرزہ جات اور قابلِ تجدید توانائی کے آلات وغیرہ شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، 2023-24 میں کسٹمز ڈیوٹی کا خرچ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا 0.62 فیصد ہے اور کُل ٹیکس اخراجات میں اس کا حصہ 26.80 فیصد ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.