وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی برائے سیاسی امور رانا ثناءاللہ منگل کو ضمنی انتخاب میں سینیٹر منتخب ہو گئے ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے پنجاب کی اُس نشست پر کامیابی حاصل کی جو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر اعجاز چوہدری کی نو مئی کے مقدمات میں سزا کے باعث نااہلی کے بعد خالی ہوئی تھی۔
سینیٹ کے ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ پنجاب اسمبلی ہال میں صبح 9 بجے سے شام 4 بجے تک بلا تعطل جاری رہی۔
اس نشست پر رانا ثناءاللہ اور پی ٹی آئی کی سلمیٰ اعجاز کے درمیان مقابلہ تھا۔
سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق رانا ثناءاللہ نے ضمنی انتخاب میں شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے 250 ووٹ اپنے نام کیے۔
گنتی کے دوران صرف ایک ووٹ مسترد ہوا۔ رانا ثناءاللہ کو کامیابی کے لیے 181 ووٹ درکار تھے، مگر انہوں نے باآسانی یہ حد عبور کرتے ہوئے بھاری برتری حاصل کی۔
دوسری جانب سلمیٰ اعجاز کوئی ووٹ حاصل نہ کر سکیں کیونکہ اپوزیشن نے پولنگ کا بائیکاٹ کیا تھا۔
اے پی پی کے مطابق ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد صوبائی الیکشن کمشنر اور ریٹرننگ آفیسر شریف اللہ نے باضابطہ طور پر نتیجے کا اعلان کیا۔
یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اعجاز چوہدری نے 5 ستمبر کو لاہور ہائی کورٹ میں ایک اور درخواست دائر کی ہے جس میں مئی 9 کے مقدمات میں سزا کے بعد اپنی نااہلی کو چیلنج کیا ہے۔
درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے 9 مئی کے مقدمات میں اس کی سزا کے بعد ایک نوٹیفکیشن جاری کر کے اسے سینیٹ کی رکنیت سے نااہل قرار دے دیا ہے۔
انہوں نے موقف اپنایا کہ سینیٹ سے نااہلی سزا کے خلاف اپیل کا حق دیے بغیر نہیں کی جا سکتی۔
درخواست گزار نے سینیٹ کے ضمنی انتخاب پر بھی اعتراض اٹھاتے ہوئے اسے غیر قانونی قرار دیا۔
چنانچہ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ نااہلی کا نوٹیفکیشن اور ضمنی انتخاب کا شیڈول، دونوں کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا جائے۔






















Comments
Comments are closed.