BR100 Decreased By (-0.81%)
BR30 Decreased By (-1.11%)
KSE100 Decreased By (-0.81%)
KSE30 Decreased By (-0.81%)
BAFL 59.73 Decreased By ▼ -0.11 (-0.18%)
BIPL 27.00 Decreased By ▼ -0.18 (-0.66%)
BOP 34.11 Decreased By ▼ -1.17 (-3.32%)
CNERGY 12.84 Decreased By ▼ -0.29 (-2.21%)
DFML 18.25 Increased By ▲ 0.17 (0.94%)
DGKC 213.02 Decreased By ▼ -3.99 (-1.84%)
FABL 98.99 Decreased By ▼ -0.96 (-0.96%)
FCCL 57.66 Decreased By ▼ -0.31 (-0.53%)
FFL 16.20 Decreased By ▼ -0.22 (-1.34%)
GGL 23.80 Decreased By ▼ -0.56 (-2.3%)
HBL 333.71 Increased By ▲ 7.50 (2.3%)
HUBC 211.43 Decreased By ▼ -1.99 (-0.93%)
HUMNL 10.52 Decreased By ▼ -0.29 (-2.68%)
KEL 7.48 No Change ▼ 0.00 (0%)
LOTCHEM 27.99 Increased By ▲ 0.24 (0.86%)
MLCF 100.65 Decreased By ▼ -2.33 (-2.26%)
OGDC 320.29 Decreased By ▼ -3.49 (-1.08%)
PAEL 43.12 Decreased By ▼ -0.78 (-1.78%)
PIBTL 16.56 Decreased By ▼ -0.12 (-0.72%)
PIOC 271.73 Decreased By ▼ -4.46 (-1.61%)
PPL 228.84 Decreased By ▼ -0.63 (-0.27%)
PRL 71.02 Increased By ▲ 0.91 (1.3%)
SNGP 102.22 Decreased By ▼ -1.44 (-1.39%)
SSGC 26.68 Decreased By ▼ -0.43 (-1.59%)
TELE 8.61 Decreased By ▼ -0.11 (-1.26%)
TPLP 15.11 Decreased By ▼ -0.57 (-3.64%)
TRG 59.84 Decreased By ▼ -1.29 (-2.11%)
UNITY 12.05 Increased By ▲ 0.01 (0.08%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)

وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی برائے سیاسی امور رانا ثناءاللہ منگل کو ضمنی انتخاب میں سینیٹر منتخب ہو گئے ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے پنجاب کی اُس نشست پر کامیابی حاصل کی جو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر اعجاز چوہدری کی نو مئی کے مقدمات میں سزا کے باعث نااہلی کے بعد خالی ہوئی تھی۔

سینیٹ کے ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ پنجاب اسمبلی ہال میں صبح 9 بجے سے شام 4 بجے تک بلا تعطل جاری رہی۔

اس نشست پر رانا ثناءاللہ اور پی ٹی آئی کی سلمیٰ اعجاز کے درمیان مقابلہ تھا۔

سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق رانا ثناءاللہ نے ضمنی انتخاب میں شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے 250 ووٹ اپنے نام کیے۔

گنتی کے دوران صرف ایک ووٹ مسترد ہوا۔ رانا ثناءاللہ کو کامیابی کے لیے 181 ووٹ درکار تھے، مگر انہوں نے باآسانی یہ حد عبور کرتے ہوئے بھاری برتری حاصل کی۔

دوسری جانب سلمیٰ اعجاز کوئی ووٹ حاصل نہ کر سکیں کیونکہ اپوزیشن نے پولنگ کا بائیکاٹ کیا تھا۔

اے پی پی کے مطابق ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد صوبائی الیکشن کمشنر اور ریٹرننگ آفیسر شریف اللہ نے باضابطہ طور پر نتیجے کا اعلان کیا۔

یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اعجاز چوہدری نے 5 ستمبر کو لاہور ہائی کورٹ میں ایک اور درخواست دائر کی ہے جس میں مئی 9 کے مقدمات میں سزا کے بعد اپنی نااہلی کو چیلنج کیا ہے۔

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے 9 مئی کے مقدمات میں اس کی سزا کے بعد ایک نوٹیفکیشن جاری کر کے اسے سینیٹ کی رکنیت سے نااہل قرار دے دیا ہے۔

انہوں نے موقف اپنایا کہ سینیٹ سے نااہلی سزا کے خلاف اپیل کا حق دیے بغیر نہیں کی جا سکتی۔

درخواست گزار نے سینیٹ کے ضمنی انتخاب پر بھی اعتراض اٹھاتے ہوئے اسے غیر قانونی قرار دیا۔

چنانچہ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ نااہلی کا نوٹیفکیشن اور ضمنی انتخاب کا شیڈول، دونوں کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا جائے۔

Comments

Comments are closed.