وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے جاری کردہ ٹیکس اخراجات رپورٹ 2025 سے ظاہر ہوا ہے کہ پاکستان میں ٹیکس اخراجات جی ڈی پی کے تناسب میں عالمی اوسط کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہیں۔
رپورٹ میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 15 سال کے دوران پاکستان کے ٹیکس اخراجات جی ڈی پی کا محض 2.1 فیصد رہے، جو عالمی اوسط 4.0 فیصد کے مقابلے میں کم ہے۔
مالی سال 2023-24 کے دوران کل ٹیکس اخراجات کا تخمینہ 2,434.73 ارب روپے تھا جو جی ڈی پی کا 2.32 فیصد اور اس مدت میں ایف بی آر کی مجموعی ٹیکس وصولیوں کا 26.18 فیصد بنتا ہے۔
مختلف ٹیکس اقسام میں سب سے زیادہ اخراجات سیلز ٹیکس پر ہوئے جو 1,237.11 ارب روپے تک پہنچے، اس کے بعد کسٹمز ڈیوٹی 652.39 ارب روپے اور انکم ٹیکس 545.23 ارب روپے رہے۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2023-24 میں سیلز ٹیکس کے ٹیکس اخراجات کا تناسب کم ہوا جبکہ انکم ٹیکس اور کسٹمز ڈیوٹی کے اخراجات میں اضافہ دیکھا گیا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025






















Comments
Comments are closed.