گلوبل صمود فلوٹیلا فار غزہ نے کہا ہےکہ کہ اس کی ایک کشتی کو تیونسی پانیوں میں ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا تاہم کشتی پر موجود تمام 6 مسافر اور عملہ محفوظ رہا۔
تیونسی حکام نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھماکہ کشتی کے اندر سے ہوا، جبکہ نیشنل گارڈ کے ترجمان نے مقامی ریڈیو موسائیک ایف ایم سے گفتگو میں واضح کیا کہ فلوٹیلا پر ڈرون حملے کی خبریں بے بنیاد ہیں۔
جی ایس ایف کے مطابق پرتگالی پرچم بردار کشتی، جس پر فلوٹیلا کی اسٹیئرنگ کمیٹی سوار تھی، کو آگ لگنے سے مرکزی ڈیک اور نچلے حصے میں موجود گودام کو نقصان پہنچا ہے۔
فلوٹیلا ایک بین الاقوامی مہم ہے جس کا مقصد غزہ کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد پہنچانا ہے۔ اس مہم میں 44 ممالک کے وفود شریک ہیں، جن میں سویڈش کارکن گریٹا تھنبرگ اور پرتگال کی بائیں بازو کی رہنما ماریانا مورٹاگوا بھی شامل ہیں۔
گلوبل صمود فلوٹیلا (جی ایس ایف) نے مزید کہا کہ ڈرون حملے کی تحقیقات جاری ہیں اور نتائج دستیاب ہوتے ہی جاری کر دیے جائیں گے۔
جی ایس ایف نے اپنے بیان میں کہا کہ ڈرون حملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ہمارے مشن کو خوفزدہ کرنے اور سبوتاژ کرنے کی کوششیں ہمیں نہیں روک سکتیں۔ غزہ کا محاصرہ توڑنے اور وہاں کے عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے ہمارا پرامن مشن پوری ثابت قدمی کے ساتھ جاری رہے گا۔






















Comments
Comments are closed.