اسمگل شدہ گاڑیوں کو قانونی بنانے کا اسکینڈل،7 ایف آئی آر درج، 13 افراد گرفتار،دو کسٹمز افسر معطل
مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی (جے آئی ٹی) کی ہدایت پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے بدھ کے روز 7 ایف آئی آرز درج کیں اور 13 افراد کو گرفتار کر لیا، جن میں کار ڈیلرز بھی شامل ہیں، جو 103 اسمگل شدہ گاڑیوں کو قانونی حیثیت دلانے میں ملوث پائے گئے۔ اس دوران کسٹمز کے ایک ڈپٹی کلیکٹر اور ایک اسسٹنٹ کلیکٹر کو بھی معطل کر دیا گیا۔
اپنے جاری اصلاحاتی ایجنڈے کے تحت ایف بی آر شفافیت، احتساب اور ادارہ جاتی دیانت داری کو اولین ترجیح دے رہا ہے۔ اصلاحات کے اس عمل کا بنیادی ستون اندرونی نگرانی کا نظام اور بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی ہے، جس کے تحت ایف بی آر کے عملے کی جانچ پڑتال ایمانداری کی بنیاد پر کی جاتی ہے اور جہاں ضروری ہو وہاں محکمانہ اور فوجداری کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ اگست 2021 میں ایف بی آر نے وی بوک سسٹم میں آکشن ماڈیول متعارف کرایا تھا تاکہ ضبط شدہ اسمگل شدہ گاڑیوں کی نیلامی کے بعد ایک ہی کاغذی دستاویز پر متعدد گاڑیاں رجسٹر کرنے جیسے مسائل پر قابو پایا جا سکے۔ اس نظام کے تحت موٹر رجسٹریشن اتھارٹیز ) کو یہ سہولت فراہم کی گئی کہ وہ نیلام شدہ گاڑیوں کی تفصیلات آن لائن تصدیق کر سکیں، جس سے کاغذی اور دستی تصدیق پر انحصار کم ہو گیا۔
تاہم، جولائی 2025 میں اس آکشن ماڈیول کے غلط استعمال کی رپورٹس سامنے آئیں۔ ایف بی آر نے فوری طور پر انکوائری شروع کی اور انکشاف ہوا کہ سسٹم میں اپ لوڈ کی گئی 1,909 گاڑیوں میں سے 103 کو جعلی یوزر آئی ڈیز کے ذریعے درج کیا گیا تھا۔ ان میں سے 43 گاڑیاں ایم آر ایز کے ذریعے پہلے ہی رجسٹر ہو چکی تھیں، جس سے انہیں بظاہر قانونی حیثیت مل گئی۔
ڈیجیٹل آڈٹ اور اندرونی تحقیقات کے بعد ایف بی آر نے ان یوزر آئی ڈیز کی نشاندہی کی جن کے ذریعے یہ دھوکہ دہی کی گئی۔ نتیجتاً 9 جولائی 2025 کو ایف بی آر نے ایک ڈپٹی کلیکٹر اور ایک اسسٹنٹ کلیکٹر کو معطل کر دیا جن کے اکاؤنٹس اس فراڈ میں استعمال ہوئے تھے۔
مزید تحقیقات سے انکشاف ہوا کہ یہ ایک وسیع مجرمانہ نیٹ ورک کا حصہ ہے جس میں ایم آر ایز کے اہلکار اور کار ڈیلرز بھی شامل ہیں۔ معاملے کی سنگینی کے پیش نظر ایف بی آر نے فیصلہ کیا کہ صرف داخلی کارروائی کافی نہیں۔ اس مقصد کے لیے 9 جولائی 2025 کو باضابطہ طور پر ایک مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی (جے آئی ٹی) کے قیام کی درخواست کی گئی، جس میں ایف آئی اے، کسٹمز اور خفیہ ایجنسیوں کے سینئر افسران شامل کیے گئے تاکہ کسٹمز کے ڈیجیٹل نظام میں کی جانے والی ہیرا پھیری کی جامع تحقیقات کی جا سکیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.