مشرقِ افغانستان میں آنے والے مہلک زلزلے کے کئی دن بعد بھی خاندان بھوک اور بے گھری کی حالت میں ایک دوسرے کے ساتھ دبکے بیٹھے ہیں، باقی بچ جانے والی چند عمارتوں میں جانے کی ہمت نہیں کر رہے کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ کوئی آفٹر شاک انہیں منہدم نہ کر دے۔
ابتدائی طور پر آنے والا طاقتور 6.0 شدت کا زلزلہ پاکستان کی سرحد کے ساتھ واقع دور دراز علاقوں میں آیا، جس میں 1,400 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے، جبکہ کم از کم چھ شدید آفٹر شاکس اور بے شمار چھوٹے جھٹکے بھی محسوس کیے گئے۔
سبز پہاڑی ڈھلوانوں کے درمیان موجود کچھ زرعی دیہات صفحۂ ہستی سے مٹ گئے اور کئی دن بعد بھی لوگ ملبے کے نیچے دبے پڑے تھے۔
کہیں کچھ گھروں کو جزوی نقصان پہنچا، لیکن مکینوں نے کچلے جانے کے خطرے کے بجائے کھلے آسمان تلے رہنا بہتر سمجھا۔
ابھی تک اُس خوفناک رات کے صدمے سے دوچار عمران محمد عارف، جب ننگرہار صوبے کے گاؤں درِ نور میں ان کا گھر تباہ ہوا، کہتے ہیں کہ وہ چار اہل خانہ کے ساتھ ایک کھردرے پلاسٹک کے بچھونے پر باہر ہی سو رہے ہیں۔
عمران محمد عارف نے اے ایف پی کو بتایا کل ایک جھٹکا آیا تھا اور آج صبح بھی ایک آیا،اب ہمارے پاس رہنے کی کوئی جگہ نہیں اور ہم سب سے مدد مانگ رہے ہیں۔
جن لوگوں کے پاس وسائل تھے وہ گاؤں چھوڑ گئے، لیکن جو مجبور تھے انہوں نے تباہی میں بچی کچھی چیزوں سے عارضی پناہ گاہیں کھڑی کر لیں۔
یہاں تک کہ ننگرہار کے صوبائی دارالحکومت جلال آباد میں بھی، جہاں کسی قسم کا نقصان نہیں ہوا لیکن زلزلہ اور آفٹر شاکس محسوس ہوئے، لوگ خوفزدہ ہیں۔

42 سالہ ڈاکٹر فریشتہ نے کہا کہ جب بھی میں قدم اٹھاتی ہوں تو ایسا لگتا ہے زمین ہل رہی ہے۔ ہم گھر کے اندر نہیں رہتے اور باغ میں سوتے ہیں، ہر وقت یہ سوچتے رہتے ہیں کہ ایک اور زلزلہ آئے گا۔
’ہمیں پناہ دو‘
متاثرہ علاقے بھر میں ایسے ہی مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں، خاص طور پر کنڑ کے دور افتادہ علاقوں میں جو شدید متاثر ہوئے اور زلزلے و آفٹر شاکس کے باعث ہونے والی بھاری لینڈ سلائیڈز کی وجہ سے اب بھی امداد سے کٹے ہوئے ہیں۔
کنڑ کے ضلع نورگل کے ایک سینئر اہلکار اعجاز الحق یاد نے خبردار کیا کہ گھروں سے نکل کر — جو اکثر اونچی جگہوں پر بنے ہوئے تھے — اور نچلی وادیوں، دریائی پشتوں یا سڑک کنارے پناہ لینے والے زندہ بچ جانے والے لوگ اگر آفٹر شاکس آئیں تو چٹانوں کے گرنے سے متاثر ہوسکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ علاقہ بہت خطرناک ہے، آپ وہاں زیادہ دیر نہیں رہ سکتے یا اس میں چل بھی نہیں سکتے۔
اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ اس کے پاس 14,000 خیمے تقسیم کے لیے تیار ہیں۔

بین الاقوامی فیڈریشن برائے ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز (آئی ایف آر سی) نے اے ایف پی کو بتایا کہ ان کے پاس کم از کم 700 خیمے موجود ہیں، لیکن دیہات تک مشکل رسائی کی وجہ سے وہ متاثرین تک نہیں پہنچا سکتے۔
ہماری مدد کرو، ہمیں پناہ دو، میرے بچوں کی مدد کرو، ہمارے پاس کچھ بھی باقی نہیں رہا، ایک گھریلو خاتون سورت نے التجا کی، جو زلزلے میں اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ زخمی ہوئی تھیں۔
انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ اپنے گھر کے ملبے سے ریسکیو اہلکاروں کے ذریعے نکالے جانے کے بعد، انہیں ایک علاقائی اسپتال میں علاج دیا گیا اور پھر ان کے گاؤں واپس بھیج دیا گیا، جہاں ان کے انتظار میں کچھ نہیں تھا۔
امداد کا انتظار کرتے ہوئے ہم وادی میں رہ رہے ہیں، انہوں نے بتایا، جب وہ اپنے نیلے برقع میں ایک روایتی بُننے والے بستر پر تین چھوٹے بچوں کے ساتھ بیٹھی تھیں۔
ورلڈ فوڈ پروگرام نے بتایا کہ یہ زلزلہ، جو افغانستان میں کئی دہائیوں کے مہلک ترین زلزلوں میں سے ایک ہے، ان خاندانوں کے لیے آخری چیز ہے جن کے پاس چھوٹے بچے ہیں، ایسے ملک میں جہاں بہت سے لوگوں کے پاس کھانے کے لیے بھی کافی نہیں اور بچوں کی بڑی تعداد پہلے ہی غذائی قلت کا شکار ہے، مزید بتایا کہ صورتحال بے حد سنگین ہے۔
افغانستان، جو دہائیوں کی جنگ اور طویل انسانی بحران کے بعد اب بھی نازک حالت میں ہے، حالیہ برسوں میں دیگر شدید اور مہلک زلزلوں سے لرز چکا ہے — ان میں سے ایک 2023 میں مغربی ہرات میں آیا تھا، جو ملک کے دوسری جانب ایران کے قریب ہے۔
وہ پہلا 6.3 شدت کا جھٹکا کم از کم آٹھ طاقتور آفٹر شاکس کے بعد آیا تھا اور اس نے پورے کے پورے دیہات تباہ کر دیے تھے۔






















Comments
Comments are closed.