BR100 Decreased By (-0.02%)
BR30 Decreased By (-0.34%)
KSE100 Decreased By (-0.03%)
KSE30 Decreased By (-0.01%)
BAFL 56.97 Increased By ▲ 0.10 (0.18%)
BIPL 24.95 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 30.32 Decreased By ▼ -0.03 (-0.1%)
CNERGY 13.05 Decreased By ▼ -0.07 (-0.53%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 191.95 Decreased By ▼ -0.50 (-0.26%)
FABL 94.39 Increased By ▲ 0.25 (0.27%)
FCCL 52.70 Decreased By ▼ -0.09 (-0.17%)
FFL 14.58 Decreased By ▼ -0.14 (-0.95%)
GGL 19.29 Decreased By ▼ -0.27 (-1.38%)
HBL 307.00 Increased By ▲ 0.90 (0.29%)
HUBC 201.25 Decreased By ▼ -0.17 (-0.08%)
HUMNL 10.01 Decreased By ▼ -0.15 (-1.48%)
KEL 6.17 Increased By ▲ 0.08 (1.31%)
LOTCHEM 26.50 Increased By ▲ 0.04 (0.15%)
MLCF 93.10 Decreased By ▼ -0.06 (-0.06%)
OGDC 315.50 Decreased By ▼ -1.23 (-0.39%)
PAEL 35.60 Decreased By ▼ -0.03 (-0.08%)
PIBTL 14.75 Increased By ▲ 0.07 (0.48%)
PIOC 243.05 Decreased By ▼ -0.16 (-0.07%)
PPL 223.99 Decreased By ▼ -2.92 (-1.29%)
PRL 92.60 Decreased By ▼ -0.42 (-0.45%)
SNGP 92.00 Increased By ▲ 0.16 (0.17%)
SSGC 23.75 Decreased By ▼ -0.06 (-0.25%)
TELE 7.77 Decreased By ▼ -0.03 (-0.38%)
TPLP 12.87 Decreased By ▼ -0.10 (-0.77%)
TRG 56.75 Increased By ▲ 0.19 (0.34%)
UNITY 8.09 Increased By ▲ 0.02 (0.25%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے ای کامرس پر عائد بھاری ٹیکسز پر سخت تنقید کرتے ہوئے ملک کے تیزی سے بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل شعبے کے لیے فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

اجلاس کی صدارت چیئرپرسن پلوشہ خان نے کی جس میں آن لائن کاروبار پر موجودہ ٹیکسیشن نظام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ارکان نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے قواعد کے تحت ٹیلی کام کمپنی جاز کی جانب سے سہ ماہی بنیادوں پر 15 فیصد ٹیرف میں اضافے پر بھی بحث کی۔

چیئرمین پی ٹی اے نے بریفنگ میں بتایا کہ 2024 کے دوران جاز اور ٹیلی نار نے منافع ریکارڈ کیا جبکہ زونگ اور یوفون کو نقصان اٹھانا پڑا۔ انہوں نے کمیٹی کو یقین دلایا کہ پی ٹی اے ٹیلی کام آپریٹرز کے لیے سہولیات بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔

کمیٹی نے ملک بھر میں ناقص ٹیلی کام سروسز پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے 1995 سے زیر التوا اسپیکٹرم الاٹمنٹ کیس کو شعبے کی ترقی میں بڑی رکاوٹ قرار دیا۔

پلوشہ خان نے متعلقہ حکام کو معاملہ فوری حل کرنے کی ہدایت دی اور آئندہ اجلاس میں اٹارنی جنرل، فریکوئنسی الاٹمنٹ بورڈ، پیمرا اور ایف بی آر کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا۔

سینیٹر ندیم بھٹو نے اندرون سندھ میں طویل لوڈشیڈنگ کے دوران سیلولر کوریج نہ ہونے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ ٹیلی کام کمپنیوں کی ناکافی بیک اپ سہولیات عوام کو مشکلات میں ڈال رہی ہیں۔ دیگر ارکان نے بھی پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں بلا تعطل سروسز یقینی بنانے پر زور دیا۔

کمیٹی نے سوشل میڈیا پر پاکستان کی اے آئی پالیسی ایڈوائزری گروپ میں ایک مصری قانون ساز کی تقرری کے جھوٹے دعوؤں کا نوٹس لیتے ہوئے وزارتِ آئی ٹی سے وضاحت طلب کی۔ وزارت نے واضح کیا کہ ایسی کوئی تقرری نہیں ہوئی اور تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

حکام نے یونیورسل سروس فنڈ (یو ایس ایف) سے متعلق بریفنگ میں بتایا کہ ملک بھر میں 4,206 فعال سائٹس موجود ہیں جن میں گوادر کے 22 ٹاور بھی شامل ہیں۔

کمیٹی ارکان نے پسماندہ علاقوں میں ٹیلی کام انفرااسٹرکچر کے توسیعی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ سینیٹر ہمایوں مہمند نے اسلام آباد کی شاہراہوں اور رہائشی علاقوں میں ناقص موبائل سروس پر اعتراض کرتے ہوئے اسے سیکیورٹی جیمرز کا نتیجہ قرار دیا اور فوری بہتری کا مطالبہ کیا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025

Comments

Comments are closed.