BR100 Decreased By (-1.1%)
BR30 Decreased By (-1.2%)
KSE100 Decreased By (-0.78%)
KSE30 Decreased By (-0.78%)
BAFL 56.56 Decreased By ▼ -0.18 (-0.32%)
BIPL 26.99 Decreased By ▼ -0.05 (-0.18%)
BOP 32.94 Decreased By ▼ -0.74 (-2.2%)
CNERGY 9.85 Increased By ▲ 0.04 (0.41%)
DFML 18.11 Decreased By ▼ -0.41 (-2.21%)
DGKC 205.00 Decreased By ▼ -2.87 (-1.38%)
FABL 96.95 Decreased By ▼ -1.95 (-1.97%)
FCCL 52.60 Decreased By ▼ -0.92 (-1.72%)
FFL 16.55 Decreased By ▼ -0.13 (-0.78%)
GGL 23.40 Decreased By ▼ -0.17 (-0.72%)
HBL 300.49 Decreased By ▼ -3.90 (-1.28%)
HUBC 216.90 Decreased By ▼ -1.21 (-0.55%)
HUMNL 10.50 Decreased By ▼ -0.16 (-1.5%)
KEL 7.29 Decreased By ▼ -0.06 (-0.82%)
LOTCHEM 28.96 Decreased By ▼ -0.15 (-0.52%)
MLCF 93.20 Decreased By ▼ -2.30 (-2.41%)
OGDC 315.00 Decreased By ▼ -2.94 (-0.92%)
PAEL 41.11 Decreased By ▼ -0.72 (-1.72%)
PIBTL 16.48 Decreased By ▼ -0.02 (-0.12%)
PIOC 276.99 Decreased By ▼ -3.02 (-1.08%)
PPL 218.55 Decreased By ▼ -1.19 (-0.54%)
PRL 45.40 Increased By ▲ 0.81 (1.82%)
SNGP 106.11 Decreased By ▼ -1.38 (-1.28%)
SSGC 28.30 Decreased By ▼ -0.63 (-2.18%)
TELE 8.67 Decreased By ▼ -0.09 (-1.03%)
TPLP 12.30 Increased By ▲ 0.20 (1.65%)
TRG 58.50 Decreased By ▼ -1.53 (-2.55%)
UNITY 9.93 Decreased By ▼ -0.18 (-1.78%)
WTL 1.22 Decreased By ▼ -0.01 (-0.81%)

پاکستان کی مجموعی معیشت میں خدمات کا شعبہ 50 فیصد سے زیادہ حصہ رکھتا ہے، جب کہ پیداوار کا شعبہ 30 فیصد سے کم ہے۔ یہ انکشاف ملک کی پہلی اقتصادی مردم شماری میں ہوا، جس کا اجرا وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے جمعرات کو کیا۔

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کل 71 لاکھ 42 ہزار 941 ادارے موجود ہیں، جن میں سب سے بڑا حصہ خدمات کے شعبے کا ہے (57.86 فیصد)، اس کے بعد پیداوار (24.8 فیصد)، سماجی (14.15 فیصد) اور دیگر (3.09 فیصد) ہیں۔ سماجی شعبے میں مساجد کا سب سے بڑا حصہ ہے (6 لاکھ)، پیداوار میں مویشی پالنے والے یونٹس 11 لاکھ 10 ہزار، جب کہ خدمات میں ریٹیل دکانیں 27 لاکھ 79 ہزار 899 ہیں۔

صوبوں کے لحاظ سے پنجاب سب سے زیادہ اداروں کا حامل ہے، جبکہ سندھ میں خدمات کا حصہ سب سے زیادہ (64.31 فیصد) ہے۔ خیبر پختونخوا میں سماجی اداروں کا تناسب سب سے زیادہ (19.08 فیصد) اور بلوچستان میں دیگر ادارے سب سے زیادہ (4.82 فیصد) ہیں۔ اسلام آباد میں مجموعی ادارے کم ہونے کے باوجود خدمات کا حصہ سب سے زیادہ (70.42 فیصد) ہے۔

وزیر منصوبہ بندی نے اس موقع پر کہا کہ مستند اعداد و شمار پائیدار ترقی کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، کیونکہ یہ شواہد پر مبنی منصوبہ بندی اور مؤثر فیصلوں کو ممکن بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت بھی بغیر مستند ڈیٹا کے مؤثر انداز میں کام نہیں کر سکتی۔

احسن اقبال نے بتایا کہ 4 کروڑ عمارتوں کو جیو ٹیگ کیا گیا، جن میں سے 72 لاکھ کو معاشی ادارے قرار دیا گیا، جن میں دکانیں، سروس مراکز، فیکٹریاں، تعلیمی و طبی ادارے شامل ہیں۔ ان سب کو پاکستان اسٹینڈرڈ انڈسٹریل کلاسیفیکیشن کے تحت کوڈ کیا گیا تاکہ نجی و سرکاری شعبہ بہتر تجزیہ کر سکے۔

تفصیلات کے مطابق 27 لاکھ ریٹیل بزنس، 1 لاکھ 88 ہزار تھوک کے ادارے، 8 لاکھ 25 ہزار سروس شاپس، 23 ہزار فیکٹریاں اور 6 لاکھ 43 ہزار پیداواری یونٹس ملک میں موجود ہیں۔ احسن اقبال نے کہا کہ یہ اعداد و شمار کاروبار کے رسمی رجسٹریشن، ٹیکس نیٹ کی توسیع اور سرمایہ کاری کے بڑے مواقع کو اجاگر کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ لگ بھگ ایک کروڑ گھرانے چھوٹے پیمانے پر کاروبار جیسے کھانے پکانا، سلائی، بیوٹی پارلر، مویشی و پولٹری اور دکانداری سے وابستہ ہیں، اور یہ ڈیٹا خواتین کی معاشی شمولیت اور روزگار کے مواقع کے لیے خاص طور پر اہم ہے۔

مردم شماری نے سماجی ڈھانچے پر بھی روشنی ڈالی، جس میں 2 لاکھ 42 ہزار اسکول، 36 ہزار مدارس، 11 ہزار 568 کالجز، 214 یونیورسٹیاں، 1 لاکھ 19 ہزار طبی مراکز اور 6 لاکھ سے زائد عبادت گاہیں شامل ہیں۔

وفاقی وزیرکا کہنا تھا کہ یہ معلومات صوبائی حکومتوں کو سہولیات کی فراہمی، شفاف سرمایہ کاری اور بہتر احتساب میں مدد فراہم کرے گی۔ انہوں نے اسے پاکستان کی معاشی خود انحصاری، سرمایہ کاری میں اضافے، روزگار کی تخلیق، خواتین کی شمولیت اور پائیدار ترقی کی بنیاد قرار دیا۔

Comments

Comments are closed.