BR100 Increased By (0.02%)
BR30 Decreased By (-0.25%)
KSE100 Increased By (0.08%)
KSE30 Increased By (0.07%)
BAFL 56.90 Increased By ▲ 0.03 (0.05%)
BIPL 24.95 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 30.37 Increased By ▲ 0.02 (0.07%)
CNERGY 13.10 Decreased By ▼ -0.02 (-0.15%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 192.29 Decreased By ▼ -0.16 (-0.08%)
FABL 94.38 Increased By ▲ 0.24 (0.25%)
FCCL 52.76 Decreased By ▼ -0.03 (-0.06%)
FFL 14.64 Decreased By ▼ -0.08 (-0.54%)
GGL 19.32 Decreased By ▼ -0.24 (-1.23%)
HBL 307.30 Increased By ▲ 1.20 (0.39%)
HUBC 200.83 Decreased By ▼ -0.59 (-0.29%)
HUMNL 10.10 Decreased By ▼ -0.06 (-0.59%)
KEL 6.16 Increased By ▲ 0.07 (1.15%)
LOTCHEM 26.50 Increased By ▲ 0.04 (0.15%)
MLCF 93.20 Increased By ▲ 0.04 (0.04%)
OGDC 315.80 Decreased By ▼ -0.93 (-0.29%)
PAEL 35.60 Decreased By ▼ -0.03 (-0.08%)
PIBTL 14.82 Increased By ▲ 0.14 (0.95%)
PIOC 243.49 Increased By ▲ 0.28 (0.12%)
PPL 224.50 Decreased By ▼ -2.41 (-1.06%)
PRL 92.95 Decreased By ▼ -0.07 (-0.08%)
SNGP 92.20 Increased By ▲ 0.36 (0.39%)
SSGC 23.85 Increased By ▲ 0.04 (0.17%)
TELE 7.81 Increased By ▲ 0.01 (0.13%)
TPLP 12.80 Decreased By ▼ -0.17 (-1.31%)
TRG 56.74 Increased By ▲ 0.18 (0.32%)
UNITY 8.11 Increased By ▲ 0.04 (0.5%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)

اے ڈی بی کا ریکوڈک منصوبے کے لیے 410 ملین ڈالر فنانسنگ پیکیج کا فیصلہ

  • اسلام آباد کو امید ہے کہ منصوبہ معدنی شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کا محرک بنے گا
شائع اپ ڈیٹ

ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) پاکستان کے ریکوڈک کاپر مائن کی ترقی کے لیے 410 ملین ڈالر کا مالیاتی پیکیج فراہم کرے گا، جو دنیا کے سب سے بڑے غیر استعمال شدہ تانبے کے ذخائر میں شمار ہوتا ہے۔ یہ منصوبہ کینیڈین کمپنی بیرک گولڈ کے زیرِ انتظام چلایا جائے گا۔ یہ انکشاف جمعرات کو رائٹرز کو دو باخبر ذرائع نے کیا ہے۔

اسلام آباد کو توقع ہے کہ یہ منصوبہ ملک کے معدنی شعبے، خاص طور پر ریئر ارتھ (نایاب معدنیات) کے ذخائر کو بروئے کار لانے کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا اور مزید غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرے گا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان پہلے ہی ٹرمپ انتظامیہ کی دلچسپی حاصل کر چکا ہے اور امریکی کمپنیوں کو مستقبل میں مراعات دینے کی پیشکش بھی کی جا چکی ہے۔

یہ قرضے اور مالیاتی ضمانتیں ریکوڈک منصوبے کی ترقی میں معاون ہوں گی، جہاں 2028 سے تانبہ اور سونا نکالنے کا آغاز متوقع ہے۔ منصوبے کی عمر ( مدت پیداوار) کے دوران تقریباً 70 ارب ڈالر کا منافع بخش کیش فلو (خالص آمدنی) پیدا ہونے کا اندازہ ہے۔

رائٹرز کو دستیاب معلومات کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کی جانب سے ریکوڈک منصوبے کے لیے فراہم کیے جانے والے 410 ملین ڈالر کے مالیاتی پیکیج میں بیرک گولڈ کو دو قرضوں کی مد میں 300 ملین ڈالر شامل ہیں جبکہ پاکستانی حکومت کے لیے 110 ملین ڈالر کی فنانسنگ گارنٹی بھی فراہم کی جا رہی ہے۔

یہ 6.6 ارب ڈالر کا منصوبہ بلوچستان میں واقع ہے، جس میں بیرک گولڈ کا 50 فیصد حصہ ہے، جب کہ بقیہ 50 فیصد وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ ملکیت ہے۔

منصوبے کا مقصد مجموعی طور پر 2 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری حاصل کرنا ہے۔ اس سے قبل عالمی بینک کے نجی سرمایہ کاری ونگ انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) کی جانب سے 700 ملین ڈالر کی فنانسنگ کا معاہدہ ہو چکا ہے۔

پروجیکٹ ڈائریکٹر ٹم کریب نے اپریل میں رائٹرز کو بتایا تھا کہ دیگر ممکنہ مالیاتی اداروں سے بھی بات چیت جاری ہے، جن میں امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک، ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ کینیڈا، جاپان بینک فار انٹرنیشنل کوآپریشن(جے بی آئی سی) شامل ہیں۔

اور توقع ہے کہ رواں سہ ماہی (کیو3 2025) میں ان اداروں کے ساتھ ابتدائی معاہدے (ٹرم شیٹس) پر دستخط ہو جائیں گے۔

اے ڈی بی، وزارتِ پیٹرولیم اور بیرک گولڈ نے اس خبر پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

ریکوڈک کاپر مائن، جو کئی سال قانونی تنازعات کی وجہ سے التوا کا شکار رہا اور 2022 میں تصفیہ کے بعد دوبارہ فعال ہوا، اب ترقی کی جانب گامزن ہے۔

منصوبے کے پہلے مرحلے میں سالانہ 2 لاکھ میٹرک ٹن تانبے کی پیداوار متوقع ہے جب کہ توسیعی مرحلے کے بعد یہ مقدار بڑھ کر 4 لاکھ میٹرک ٹن سالانہ تک پہنچ جائے گی۔

کمپنی بیرک گولڈ کا کہنا ہے کہ موجودہ تخمینے کے مطابق کان کی متوقع عمر 37 سال ہے، تاہم مزید ایکسپلوریشن اور ٹیکنیکل اپگریڈز کے ذریعے اس منصوبے کی مدتِ پیداوار کو اس سے بھی زیادہ عرصے تک بڑھایا جا سکتا ہے۔

Comments

Comments are closed.