امریکی صدراتی دفتر اوول آفس میں پیر کے روز یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کی آمد ایک اہم سفارتی پیشرفت قرار دی جا رہی ہے۔ یہ ان کی پہلی ملاقات ہے جب سے فروری میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ تلخ مکالمے کے باعث مذاکرات اچانک ختم ہو گئے تھے اور امریکہ کی مستقبل میں یوکرین کے لیے حمایت پر سوالیہ نشان لگ گیا تھا۔
اس وقت ٹرمپ اور وینس نے زیلنسکی پر براہِ راست ٹی وی پر امریکہ کی فوجی امداد پر ناشکری کا الزام لگایا تھا اور روس کے ساتھ فوری مذاکرات پر زور دیا تھا۔ زیلنسکی کے جواب نے ماحول کو مزید کشیدہ کر دیا، یہاں تک کہ ٹرمپ نے برہم ہو کر کہا کہ آپ کے پاس کارڈز نہیں ہیں، آپ کی پوزیشن کمزور ہے۔ زیلنسکی ملاقات ادھوری چھوڑ کر واشنگٹن سے روانہ ہو گئے اور اہم معدنی وسائل کے معاہدے پر دستخط نہ ہو سکے۔ اس کے بعد امریکہ نے عارضی طور پر یوکرین کی فوجی امداد اور انٹیلی جنس تعاون روک دیا تھا، جس سے یورپی اتحادیوں میں بے چینی پھیل گئی۔
تاہم بعد میں حالات بدلے۔ ٹرمپ نے ویٹیکن اور پھر نیٹو اجلاس کے دوران زیلنسکی سے ملاقات کی اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن پر وعدے پورے نہ کرنے کا الزام لگایا۔ بالآخر اپریل میں معدنی وسائل کا معاہدہ طے پایا، جسے ٹرمپ نے امریکی امداد کا معاوضہ قرار دیا۔
گزشتہ ہفتے الاسکا میں ٹرمپ اور پیوٹن کی ملاقات کے بعد ٹرمپ نے زیلنسکی کو دوبارہ اوول آفس مدعو کیا۔ اس بار زیلنسکی نے فوری طور پر شکریہ ادا کیا۔ اطلاعات کے مطابق اب امریکہ یوکرین کو سلامتی کی ضمانتیں دینے پر بھی غور کر رہا ہے۔ ملاقات میں برطانیہ، فرانس، جرمنی، نیٹو اور یورپی یونین کے رہنما بھی شریک ہوں گے، جبکہ نائب صدر وینس بھی موجود ہوں گے۔






















Comments
Comments are closed.