لاہور اور اسلام آباد ہائی کورٹس نے ٹیکس اور مالیاتی مقدمات کے فوری فیصلے کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ اب تمام ٹیکس اور مالیاتی نوعیت کے کیسز سنگل بینچ کے بجائے ڈویژنل بینچز سنیں گے۔ اس فیصلے سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ہزاروں زیر التوا مقدمات کے جلد از جلد نمٹائے جانے کی راہ ہموار ہو گی۔ ٹیکس ماہرین اور وکلا نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے نہ صرف کاروباری لاگت کم ہوگی بلکہ ٹیکس دہندگان کو بروقت انصاف ملے گا۔
سینئر ٹیکس اور لیگل ایڈوائزر آصف ایس کسبتی نے بتایا کہ لاہور اور اسلام آباد ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان نے یہ احکامات نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے 53ویں اجلاس (11 جولائی 2025) کے فیصلے کی روشنی میں جاری کیے ہیں۔ ان کے مطابق اب تمام آئینی درخواستیں جو ٹیکس اور مالیاتی امور سے متعلق ہوں گی، انہیں ڈویژنل بینچز ہی سنیں گے۔ اس کے نتیجے میں انٹرا کورٹ اپیل (آئی سی اے) کا مرحلہ ختم ہو جائے گا جیسا کہ سندھ ہائی کورٹ میں پہلے سے رائج ہے۔
آصف ایس کسبتی جو انسٹیٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (آئی سی اے پی) اور پاکستان بار کونسل کی مختلف فِسکل کمیٹیوں کے رکن ہیں، نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کا حکم نامہ صرف لاہور تک محدود نہیں بلکہ راولپنڈی اور ملتان بینچز پر بھی لاگو ہوگا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ ہائی کورٹس کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرے گا اور نظام کو زیادہ شفاف اور مؤثر بنائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر سنگل بینچ کے ججز، جو ٹیکس اور مالیاتی قوانین میں مہارت رکھتے ہیں، ڈویژنل بینچز میں تعینات کیے جائیں تو فیصلوں کا معیار مزید بہتر ہو گا کیونکہ دو دماغ ایک سے بہتر ہوتے ہیں۔ اس طرح زیر بحث معاملات بغیر تاخیر سپریم کورٹ تک پہنچ سکیں گے۔
ٹیکس ماہرین کے مطابق یہ اقدام عدالتی اصلاحات کی سمت میں ایک اہم سنگ میل ہے، جس سے ایف بی آر اور کاروباری برادری کے درمیان تنازعات جلد نمٹنے اور اعتماد سازی میں مدد ملے گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.