BR100 Decreased By (-0.16%)
BR30 Decreased By (-0.25%)
KSE100 Increased By (0.12%)
KSE30 Increased By (0.11%)
BAFL 56.90 Increased By ▲ 0.17 (0.3%)
BIPL 26.90 Decreased By ▼ -0.08 (-0.3%)
BOP 33.75 No Change ▼ 0.00 (0%)
CNERGY 10.08 Increased By ▲ 0.20 (2.02%)
DFML 18.16 Increased By ▲ 0.16 (0.89%)
DGKC 203.50 Decreased By ▼ -1.43 (-0.7%)
FABL 99.65 Decreased By ▼ -0.45 (-0.45%)
FCCL 53.42 Increased By ▲ 0.33 (0.62%)
FFL 16.52 No Change ▼ 0.00 (0%)
GGL 25.39 Increased By ▲ 0.55 (2.21%)
HBL 300.39 Increased By ▲ 0.57 (0.19%)
HUBC 217.90 Increased By ▲ 0.82 (0.38%)
HUMNL 10.60 Decreased By ▼ -0.01 (-0.09%)
KEL 7.22 No Change ▼ 0.00 (0%)
LOTCHEM 29.60 Increased By ▲ 0.29 (0.99%)
MLCF 91.40 Decreased By ▼ -0.76 (-0.82%)
OGDC 317.70 Increased By ▲ 1.41 (0.45%)
PAEL 42.01 Decreased By ▼ -0.03 (-0.07%)
PIBTL 16.53 Increased By ▲ 0.12 (0.73%)
PIOC 297.99 Decreased By ▼ -2.25 (-0.75%)
PPL 217.84 Increased By ▲ 1.00 (0.46%)
PRL 52.05 Increased By ▲ 1.19 (2.34%)
SNGP 101.60 Decreased By ▼ -0.12 (-0.12%)
SSGC 26.70 Decreased By ▼ -0.28 (-1.04%)
TELE 8.55 Decreased By ▼ -0.10 (-1.16%)
TPLP 13.60 Increased By ▲ 0.21 (1.57%)
TRG 59.18 Decreased By ▼ -0.08 (-0.13%)
UNITY 10.14 Decreased By ▼ -0.16 (-1.55%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)

اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس تاریخی فیصلے پر، جس کا مقصد انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 170A کے تحت خودکار انکم ٹیکس ریفنڈ سسٹم کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانا تھا، ایف بی آر کے ممبر (پالیسی) کی یقین دہانی کے باوجود عملدرآمد نہیں ہوا اور ایف بی آر کی جاری کردہ سالانہ پروکیورمنٹ پلان میں اس کے لیے کوئی گنجائش بھی فراہم نہیں کی گئی۔

عدالت کی ہدایت کا مقصد ٹیکس دہندگان کو سہولت دینا اور ریفنڈ کے معاملات میں ٹیکس حکام سے براہِ راست رابطے کو کم کرنا تھا، مگر ایف بی آر اس سلسلے میں کوئی ٹھوس قدم نہ اٹھا سکا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کا یہ اہم فیصلہ طویل عرصہ گزرنے کے باوجود ایف بی آر نے نافذ نہیں کیا۔

ٹیکس ماہر وکیل وحید شہزاد بٹ، جنہوں نے یہ کیس اسلام آباد ہائیکورٹ میں لڑا، نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ کمیٹی برائے مؤثر نفاذِ سیکشن 170A کی فائنڈنگز اور سفارشات پر مبنی ایک رپورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش کی گئی تھی، جس میں نفاذ کے لیے جامع تجاویز دی گئی تھیں۔ تاہم ممبر (پالیسی) ایف بی آر کی جانب سے ان سفارشات پر عملدرآمد کی یقین دہانی کے باوجود آج تک کوئی پیشرفت نہیں ہو سکی۔

وحید بٹ نے مزید کہا کہ حکومت کی ٹیکس عمل کو ڈیجیٹلائز کرنے کی کوششوں کے تناظر میں ایف بی آر کی یہ غیرفعالیت خاصی حیران کن ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کی ہدایت کے مطابق خودکار ریفنڈ سسٹم پر عملدرآمد نہ کرنا ایف بی آر کی شفافیت اور کارکردگی کے عزم پر سوال اٹھاتا ہے۔ اس معاملے پر پیشرفت نہ ہونا ایک ضائع شدہ موقع ہے جو ٹیکس نظام کو مؤثر بنانے اور ٹیکس دہندگان کے تجربے کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتا تھا۔

ان کے مطابق، اس اقدام سے نہ صرف شفافیت اور افادیت میں اضافہ ہوتا بلکہ یہ ایف بی آر کے عدالتی احکامات اور قانون کی حکمرانی پر عملدرآمد کے عزم کو بھی ظاہر کرتا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ ایف بی آر نے ایک رپورٹ پیش کی ہے۔ رپورٹ اور سفارشات کافی جامع معلوم ہوتی ہیں اور ایف بی آر کے ممبر (پالیسی) جو آج عدالت میں پیش ہوئے، نے کہا ہے کہ ان سفارشات پر ایک بین الاقوامی ڈونر ایجنسی کے 25 ملین ڈالر کے قرض کے تحت عملدرآمد کیا جائے گا۔ اس پٹیشن کا مقصد پورا ہوتا دکھائی دیتا ہے، اس لیے پٹیشن کو نمٹا دیا جاتا ہے، تاہم درخواست گزار کو یہ حق حاصل ہوگا کہ اگر سفارشات پر عملدرآمد نہ ہو تو دوبارہ عدالت سے رجوع کرے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.