BR100 Decreased By (-0.4%)
BR30 Decreased By (-0.65%)
KSE100 Decreased By (-0.29%)
KSE30 Decreased By (-0.22%)
BAFL 56.50 Increased By ▲ 0.03 (0.05%)
BIPL 24.84 Increased By ▲ 0.21 (0.85%)
BOP 30.05 Decreased By ▼ -0.07 (-0.23%)
CNERGY 12.75 Decreased By ▼ -0.23 (-1.77%)
DFML 18.13 Increased By ▲ 0.64 (3.66%)
DGKC 186.90 Decreased By ▼ -0.32 (-0.17%)
FABL 93.20 Decreased By ▼ -0.51 (-0.54%)
FCCL 51.00 Decreased By ▼ -0.65 (-1.26%)
FFL 14.43 Decreased By ▼ -0.06 (-0.41%)
GGL 18.89 Decreased By ▼ -0.15 (-0.79%)
HBL 302.50 Decreased By ▼ -1.28 (-0.42%)
HUBC 198.80 Decreased By ▼ -0.16 (-0.08%)
HUMNL 9.75 Decreased By ▼ -0.10 (-1.02%)
KEL 5.97 Decreased By ▼ -0.09 (-1.49%)
LOTCHEM 26.15 Decreased By ▼ -0.02 (-0.08%)
MLCF 90.33 Decreased By ▼ -0.90 (-0.99%)
OGDC 315.40 Increased By ▲ 2.01 (0.64%)
PAEL 34.73 Decreased By ▼ -0.51 (-1.45%)
PIBTL 14.23 Decreased By ▼ -0.48 (-3.26%)
PIOC 235.00 Decreased By ▼ -4.62 (-1.93%)
PPL 221.00 Decreased By ▼ -0.36 (-0.16%)
PRL 90.89 Decreased By ▼ -0.33 (-0.36%)
SNGP 90.30 Decreased By ▼ -0.57 (-0.63%)
SSGC 23.39 Increased By ▲ 0.09 (0.39%)
TELE 7.40 Decreased By ▼ -0.21 (-2.76%)
TPLP 12.02 Decreased By ▼ -0.54 (-4.3%)
TRG 54.35 Decreased By ▼ -1.44 (-2.58%)
UNITY 7.95 Decreased By ▼ -0.07 (-0.87%)
WTL 1.00 No Change ▼ 0.00 (0%)

بھارت کی ریاست اتراکھنڈ کے سیاحتی قصبے دھرالی میں آنے والے تباہ کن سیلاب کو ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود کم از کم 68 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ 5 اگست کو پیش آنے والے اس سانحے میں چار افراد کی ہلاکت پہلے ہی تصدیق ہو چکی ہے، جس کے بعد مجموعی اموات کی تعداد 70 سے تجاوز کر جانے کا خدشہ ہے۔

عینی شاہدین کی جانب سے جاری ویڈیوز میں دکھایا گیا کہ کس طرح برفانی پانی کا ایک دیو ہیکل ریلا مٹی اور ملبہ لیے ہوئے کثیر المنزلہ عمارتوں کو بہا کر لے گیا۔

قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے کے مطابق منگل کے روز امدادی ٹیمیں ملبے سے لاشیں تلاش کر رہی تھیں۔

نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس کے افسر گمبھیر سنگھ چوہان نے بتایا کہ سونگھنے والے کتوں نے کئی مقامات پر لاشوں کی نشاندہی کی، تاہم کھدائی شروع ہونے پر نیچے سے پانی نکل آیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹیمیں گراؤنڈ پینیٹریٹنگ ریڈار کی مدد سے بھی تلاش کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ابتدائی طور پر 100 سے زائد افراد لاپتہ قرار دیے گئے تھے، لیکن سڑکیں بہہ جانے اور موبائل فون رابطے منقطع ہونے کے باعث فہرست کی تصدیق میں کئی دن لگ گئے۔ مقامی حکومت کے مطابق موجودہ لاپتہ افراد میں 44 بھارتی، 22 نیپالی اور 9 فوجی شامل ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مون سون کے دوران جون سے ستمبر تک شدید بارشوں سے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ عام ہیں، تاہم موسمیاتی تبدیلی اور غیر منصوبہ بند تعمیرات ان آفات کی شدت اور تعداد میں اضافہ کر رہی ہیں۔

ابھی تک سیلاب کی سرکاری وجہ بیان نہیں کی گئی، لیکن سائنسدانوں کا خیال ہے کہ تیز بارشوں کے نتیجے میں تیزی سے پگھلتے گلیشیئر سے ملبے کا ڈھیر ٹوٹ کر گرنے سے یہ تباہی ہوئی۔

ماہرین نے خبردار کیا کہ ہمالیائی گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، جو تقریباً 2 ارب افراد کے لیے پانی کا اہم ذریعہ ہیں، اور اس عمل سے برفانی تودے اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔

اس سانحے کو ماہرین نے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا ”انتباہی اشارہ“ قرار دیا ہے۔

Comments

Comments are closed.