BR100 Increased By (0.2%)
BR30 Increased By (0.41%)
KSE100 Increased By (0.07%)
KSE30 Increased By (0.23%)
BAFL 57.20 Increased By ▲ 0.46 (0.81%)
BIPL 26.89 Decreased By ▼ -0.15 (-0.55%)
BOP 33.69 Increased By ▲ 0.01 (0.03%)
CNERGY 10.61 Increased By ▲ 0.80 (8.15%)
DFML 18.05 Decreased By ▼ -0.47 (-2.54%)
DGKC 209.90 Increased By ▲ 2.03 (0.98%)
FABL 98.95 Increased By ▲ 0.05 (0.05%)
FCCL 53.74 Increased By ▲ 0.22 (0.41%)
FFL 16.46 Decreased By ▼ -0.22 (-1.32%)
GGL 23.82 Increased By ▲ 0.25 (1.06%)
HBL 302.42 Decreased By ▼ -1.97 (-0.65%)
HUBC 218.94 Increased By ▲ 0.83 (0.38%)
HUMNL 10.54 Decreased By ▼ -0.12 (-1.13%)
KEL 7.28 Decreased By ▼ -0.07 (-0.95%)
LOTCHEM 29.65 Increased By ▲ 0.54 (1.86%)
MLCF 96.36 Increased By ▲ 0.86 (0.9%)
OGDC 318.22 Increased By ▲ 0.28 (0.09%)
PAEL 41.77 Decreased By ▼ -0.06 (-0.14%)
PIBTL 16.81 Increased By ▲ 0.31 (1.88%)
PIOC 296.62 Increased By ▲ 16.61 (5.93%)
PPL 220.17 Increased By ▲ 0.43 (0.2%)
PRL 49.05 Increased By ▲ 4.46 (10%)
SNGP 106.13 Decreased By ▼ -1.36 (-1.27%)
SSGC 29.14 Increased By ▲ 0.21 (0.73%)
TELE 8.82 Increased By ▲ 0.06 (0.68%)
TPLP 12.51 Increased By ▲ 0.41 (3.39%)
TRG 60.22 Increased By ▲ 0.19 (0.32%)
UNITY 10.02 Decreased By ▼ -0.09 (-0.89%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)

بھارت کی ریاست اتراکھنڈ کے سیاحتی قصبے دھرالی میں آنے والے تباہ کن سیلاب کو ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود کم از کم 68 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ 5 اگست کو پیش آنے والے اس سانحے میں چار افراد کی ہلاکت پہلے ہی تصدیق ہو چکی ہے، جس کے بعد مجموعی اموات کی تعداد 70 سے تجاوز کر جانے کا خدشہ ہے۔

عینی شاہدین کی جانب سے جاری ویڈیوز میں دکھایا گیا کہ کس طرح برفانی پانی کا ایک دیو ہیکل ریلا مٹی اور ملبہ لیے ہوئے کثیر المنزلہ عمارتوں کو بہا کر لے گیا۔

قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے کے مطابق منگل کے روز امدادی ٹیمیں ملبے سے لاشیں تلاش کر رہی تھیں۔

نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس کے افسر گمبھیر سنگھ چوہان نے بتایا کہ سونگھنے والے کتوں نے کئی مقامات پر لاشوں کی نشاندہی کی، تاہم کھدائی شروع ہونے پر نیچے سے پانی نکل آیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹیمیں گراؤنڈ پینیٹریٹنگ ریڈار کی مدد سے بھی تلاش کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ابتدائی طور پر 100 سے زائد افراد لاپتہ قرار دیے گئے تھے، لیکن سڑکیں بہہ جانے اور موبائل فون رابطے منقطع ہونے کے باعث فہرست کی تصدیق میں کئی دن لگ گئے۔ مقامی حکومت کے مطابق موجودہ لاپتہ افراد میں 44 بھارتی، 22 نیپالی اور 9 فوجی شامل ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مون سون کے دوران جون سے ستمبر تک شدید بارشوں سے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ عام ہیں، تاہم موسمیاتی تبدیلی اور غیر منصوبہ بند تعمیرات ان آفات کی شدت اور تعداد میں اضافہ کر رہی ہیں۔

ابھی تک سیلاب کی سرکاری وجہ بیان نہیں کی گئی، لیکن سائنسدانوں کا خیال ہے کہ تیز بارشوں کے نتیجے میں تیزی سے پگھلتے گلیشیئر سے ملبے کا ڈھیر ٹوٹ کر گرنے سے یہ تباہی ہوئی۔

ماہرین نے خبردار کیا کہ ہمالیائی گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، جو تقریباً 2 ارب افراد کے لیے پانی کا اہم ذریعہ ہیں، اور اس عمل سے برفانی تودے اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔

اس سانحے کو ماہرین نے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا ”انتباہی اشارہ“ قرار دیا ہے۔

Comments

Comments are closed.