BR100 Decreased By (-0.91%)
BR30 Decreased By (-1.47%)
KSE100 Decreased By (-0.78%)
KSE30 Decreased By (-0.75%)
BAFL 56.47 Decreased By ▼ -0.40 (-0.7%)
BIPL 24.63 Decreased By ▼ -0.33 (-1.32%)
BOP 30.12 Decreased By ▼ -0.23 (-0.76%)
CNERGY 12.98 Decreased By ▼ -0.14 (-1.07%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.22 Decreased By ▼ -5.23 (-2.72%)
FABL 93.71 Decreased By ▼ -0.43 (-0.46%)
FCCL 51.65 Decreased By ▼ -1.14 (-2.16%)
FFL 14.49 Decreased By ▼ -0.23 (-1.56%)
GGL 19.04 Decreased By ▼ -0.52 (-2.66%)
HBL 303.78 Decreased By ▼ -2.32 (-0.76%)
HUBC 198.96 Decreased By ▼ -2.46 (-1.22%)
HUMNL 9.85 Decreased By ▼ -0.31 (-3.05%)
KEL 6.06 Decreased By ▼ -0.03 (-0.49%)
LOTCHEM 26.17 Decreased By ▼ -0.29 (-1.1%)
MLCF 91.23 Decreased By ▼ -1.93 (-2.07%)
OGDC 313.39 Decreased By ▼ -3.34 (-1.05%)
PAEL 35.24 Decreased By ▼ -0.39 (-1.09%)
PIBTL 14.71 Increased By ▲ 0.03 (0.2%)
PIOC 239.62 Decreased By ▼ -3.59 (-1.48%)
PPL 221.36 Decreased By ▼ -5.55 (-2.45%)
PRL 91.22 Decreased By ▼ -1.80 (-1.94%)
SNGP 90.87 Decreased By ▼ -0.97 (-1.06%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.61 Decreased By ▼ -0.19 (-2.44%)
TPLP 12.56 Decreased By ▼ -0.41 (-3.16%)
TRG 55.79 Decreased By ▼ -0.77 (-1.36%)
UNITY 8.02 Decreased By ▼ -0.05 (-0.62%)
WTL 1.00 Decreased By ▼ -0.01 (-0.99%)

ایران نے کہا ہے کہ وہ مستقبل میں کسی بھی ممکنہ مذاکرات میں امریکہ کو اپنے جوہری تنصیبات پر حملوں کا ذمہ دار ٹھہرائے گا اور اس سے معاوضے کا مطالبہ کرے گا، تاہم تہران نے واشنگٹن سے براہ راست مذاکرات کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ “کسی بھی ممکنہ مذاکرات میں، امریکہ کی طرف سے ایران کی پُرامن جوہری تنصیبات پر فوجی جارحیت کے ارتکاب پر اس کا محاسبہ کرنا اور ہرجانے کا مطالبہ ایجنڈے کا حصہ ہو گا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا ایران امریکہ سے براہ راست مذاکرات کرے گا تو انہوں نے دو ٹوک جواب دیا: “نہیں۔

واضح رہے کہ 22 جون کو امریکہ نے ایران کے بعض کلیدی جوہری مراکز پر حملے کیے تھے، جن میں فردو، اصفہان اور نطنز کی تنصیبات شامل تھیں۔ ان حملوں کے ذریعے امریکہ نے اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ میں عارضی طور پر شرکت کی، جس کے نتیجے میں ایران کے ایٹمی پروگرام پر جاری مذاکرات معطل ہو گئے۔

جون کے وسط میں اسرائیل نے ایران کی جوہری اور عسکری تنصیبات پر غیر معمولی حملے کیے تھے جو 12 روز تک جاری رہے، جن میں رہائشی علاقے بھی نشانہ بنے۔

ان حملوں کے بعد ایران نے اقوام متحدہ کی جوہری نگرانی کی ایجنسی سے تعاون معطل کر دیا اور کسی بھی نئے مذاکرات سے قبل فوجی کارروائیوں سے تحفظ کی ضمانت کا مطالبہ کر دیا۔

Comments

Comments are closed.