BR100 Increased By (0.51%)
BR30 Increased By (0.2%)
KSE100 Increased By (0.31%)
KSE30 Increased By (0.32%)
BAFL 57.10 Decreased By ▼ -0.10 (-0.17%)
BIPL 27.10 Increased By ▲ 0.21 (0.78%)
BOP 34.08 Increased By ▲ 0.39 (1.16%)
CNERGY 10.02 Decreased By ▼ -0.59 (-5.56%)
DFML 18.07 Increased By ▲ 0.02 (0.11%)
DGKC 207.40 Decreased By ▼ -2.50 (-1.19%)
FABL 100.68 Increased By ▲ 1.73 (1.75%)
FCCL 54.79 Increased By ▲ 1.05 (1.95%)
FFL 16.65 Increased By ▲ 0.19 (1.15%)
GGL 24.80 Increased By ▲ 0.98 (4.11%)
HBL 303.00 Increased By ▲ 0.58 (0.19%)
HUBC 220.13 Increased By ▲ 1.19 (0.54%)
HUMNL 10.40 Decreased By ▼ -0.14 (-1.33%)
KEL 7.43 Increased By ▲ 0.15 (2.06%)
LOTCHEM 29.41 Decreased By ▼ -0.24 (-0.81%)
MLCF 94.85 Decreased By ▼ -1.51 (-1.57%)
OGDC 316.60 Decreased By ▼ -1.62 (-0.51%)
PAEL 43.35 Increased By ▲ 1.58 (3.78%)
PIBTL 16.75 Decreased By ▼ -0.06 (-0.36%)
PIOC 296.95 Increased By ▲ 0.33 (0.11%)
PPL 220.30 Increased By ▲ 0.13 (0.06%)
PRL 48.90 Decreased By ▼ -0.15 (-0.31%)
SNGP 105.32 Decreased By ▼ -0.81 (-0.76%)
SSGC 28.38 Decreased By ▼ -0.76 (-2.61%)
TELE 8.87 Increased By ▲ 0.05 (0.57%)
TPLP 13.19 Increased By ▲ 0.68 (5.44%)
TRG 60.00 Decreased By ▼ -0.22 (-0.37%)
UNITY 10.47 Increased By ▲ 0.45 (4.49%)
WTL 1.26 Increased By ▲ 0.03 (2.44%)

بھارت نے ونڈ ٹربائن آلات تیار کرنے والی کمپنیوں کے لیے سخت قواعد متعارف کرا دیے ہیں، جن کے تحت انہیں اہم پرزہ جات ملک کے اندر سے خریدنا ہوں گے اور ڈیٹا لوکلائزیشن کے سخت اصولوں کی پابندی کرنا ہوگی۔

بھارتی وزارتِ توانائی و متبادل ذرائع کی جانب سے جمعرات کی رات جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق اب مینوفیکچررز کو بلیڈز، ٹاورز، جنریٹرز، گیئر بکس اور خصوصی بیئرنگز جیسے اہم پرزے صرف اُن سپلائرز سے خریدنے ہوں گے جو حکومت کی نئی منظور شدہ فہرست میں شامل ہوں گے۔

وزارت کے مطابق ایک تکنیکی ٹیم انسپکشن کرے گی، جب کہ اس حوالے سے ایک علیحدہ اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر بھی جاری کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ منظور شدہ ماڈلز اور مینوفیکچررز کی فہرست وزارت الگ سے جاری کرے گی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق تمام ونڈ ٹربائن ڈیٹا بھارت میں محفوظ کیا جائے گا، حقیقی وقت کا آپریشنل ڈیٹا بیرون ملک منتقل کرنے پر پابندی ہوگی، اور تمام آپریشنل کنٹرول و تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) کے مراکز ایک سال کے اندر بھارت میں قائم کرنا ہوں گے۔

اس اقدام کا مقصد بھارت میں مقامی ونڈ ٹربائن مینوفیکچرنگ صنعت کو فروغ دینا ہے، جس کی سالانہ پیداواری صلاحیت حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 20 گیگا واٹ تک پہنچ چکی ہے۔ بھارت کا ہدف ہے کہ وہ 2030 تک نان فوسل فیول ذرائع سے 500 گیگا واٹ بجلی پیدا کرے، جو اس وقت کی 235.6 گیگا واٹ صلاحیت سے تقریباً دوگنا ہے۔

چند نیئر ٹرم اور بولی جیتنے والے منصوبوں کو ان شرائط سے استثنیٰ حاصل ہوگا، تاہم نئے ماڈلز کے لیے 800 میگا واٹ کی حد مقرر کی گئی ہے، اور انہیں ہر سہ ماہی میں پیش رفت رپورٹ دینا ہوگی۔

یہ فیصلہ مقامی کمپنیوں جیسے سزلون انرجی، انوکس ونڈ اور اڈانی ونڈ کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے، جب کہ چینی کمپنی انویژن گروپ کو نقصان پہنچنے کا امکان ہے، جس نے حالیہ برسوں میں بھارتی مارکیٹ میں خاصی جگہ بنائی ہے۔

Comments

Comments are closed.