سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ امریکہ جنوبی کوریا سے درآمدات پر 15 فیصد ٹیرف عائد کرے گا، جو کہ پہلے تجویز کردہ 25 فیصد ٹیرف سے کم ہے۔ اس فیصلے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی میں وقتی طور پر کمی واقع ہوئی ہے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ میں یہ اعلان کرتے ہوئے خوش ہوں کہ امریکہ اور جمہوریہ کوریا کے درمیان مکمل تجارتی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس معاہدے کا اعلان وائٹ ہاؤس میں جنوبی کوریائی حکام سے ملاقات کے فوراً بعد کیا گیا۔
یہ معاہدہ جنوبی کوریا کے نئے صدر لی جے میونگ کے لیے ابتدائی سفارتی امتحان تھا، جنہوں نے جون میں عہدہ سنبھالا۔ صدر لی کے مطابق، اس معاہدے سے برآمدات سے متعلق غیر یقینی صورتحال ختم ہوئی ہے اور امریکی ٹیرف کو عالمی مسابقتی سطح کے برابر رکھا گیا ہے۔
ٹرمپ نے بتایا کہ جنوبی کوریا امریکہ میں 350 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا، جن میں 150 ارب ڈالر جہاز سازی میں اور 200 ارب ڈالر چپ سازی، نیوکلیئر توانائی، بیٹریز اور حیاتیاتی ادویات کے منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ جنوبی کوریا 100 ارب ڈالر مالیت کی امریکی ایل این جی اور دیگر توانائی مصنوعات خریدے گا۔
امریکی وزیر تجارت کے مطابق، توانائی کی یہ خریداری آئندہ ساڑھے تین برسوں میں مکمل ہو گی۔ معاہدے کے تحت جنوبی کوریا امریکی کاروں، ٹرکوں اور زرعی مصنوعات پر درآمدی ڈیوٹی عائد نہیں کرے گا۔ البتہ جنوبی کوریا کے چاول اور گوشت کی منڈی بدستور بند رہیں گی۔
واضح رہے کہ یہ معاہدہ جاپان کے ساتھ حالیہ ٹیرف کمی کے بعد جنوبی کوریا پر بڑھتے دباؤ کے تناظر میں طے پایا۔ معاہدے کے فوراً بعد سام سنگ نے ٹیسلا کے ساتھ 16.5 ارب ڈالر کا چپ معاہدہ، جب کہ ایل جی انرجی نے توانائی ذخیرہ بیٹریوں کی فراہمی کے لیے 4.3 ارب ڈالر کا معاہدہ کیا ہے۔






















Comments
Comments are closed.