BR100 Decreased By (-0.91%)
BR30 Decreased By (-1.47%)
KSE100 Decreased By (-0.78%)
KSE30 Decreased By (-0.75%)
BAFL 56.47 Decreased By ▼ -0.40 (-0.7%)
BIPL 24.63 Decreased By ▼ -0.33 (-1.32%)
BOP 30.12 Decreased By ▼ -0.23 (-0.76%)
CNERGY 12.98 Decreased By ▼ -0.14 (-1.07%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.22 Decreased By ▼ -5.23 (-2.72%)
FABL 93.71 Decreased By ▼ -0.43 (-0.46%)
FCCL 51.65 Decreased By ▼ -1.14 (-2.16%)
FFL 14.49 Decreased By ▼ -0.23 (-1.56%)
GGL 19.04 Decreased By ▼ -0.52 (-2.66%)
HBL 303.78 Decreased By ▼ -2.32 (-0.76%)
HUBC 198.96 Decreased By ▼ -2.46 (-1.22%)
HUMNL 9.85 Decreased By ▼ -0.31 (-3.05%)
KEL 6.06 Decreased By ▼ -0.03 (-0.49%)
LOTCHEM 26.17 Decreased By ▼ -0.29 (-1.1%)
MLCF 91.23 Decreased By ▼ -1.93 (-2.07%)
OGDC 313.39 Decreased By ▼ -3.34 (-1.05%)
PAEL 35.24 Decreased By ▼ -0.39 (-1.09%)
PIBTL 14.71 Increased By ▲ 0.03 (0.2%)
PIOC 239.62 Decreased By ▼ -3.59 (-1.48%)
PPL 221.36 Decreased By ▼ -5.55 (-2.45%)
PRL 91.22 Decreased By ▼ -1.80 (-1.94%)
SNGP 90.87 Decreased By ▼ -0.97 (-1.06%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.61 Decreased By ▼ -0.19 (-2.44%)
TPLP 12.56 Decreased By ▼ -0.41 (-3.16%)
TRG 55.79 Decreased By ▼ -0.77 (-1.36%)
UNITY 8.02 Decreased By ▼ -0.05 (-0.62%)
WTL 1.00 Decreased By ▼ -0.01 (-0.99%)

برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل نے فلسطینی عوام کی زندگی بہتر بنانے کے لیے ضروری اور مؤثر اقدامات نہ کیے تو برطانیہ رواں سال ستمبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں فلسطین کو ایک خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کر لے گا۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اگر برطانیہ نے یہ قدم اٹھایا تو وہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایسا دوسرا مغربی رکن بن جائے گا جو فرانس کے بعد فلسطین کو تسلیم کرے گا۔ یہ اقدام غزہ میں حماس کے خلاف جاری اسرائیلی کارروائیوں کے دوران اسرائیل کے رویے پر اس کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تنہائی کی عکاسی کرتا ہے جہاں شدید انسانی بحران جنم لے چکا ہے اور فلسطینی شہادتوں کی تعداد 60 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

اسٹارمر نے کہا کہ اگر اسرائیل نے ان شرائط پر عمل درآمد نہ کیاجن میں غزہ تک امداد کی مؤثر رسائی، مغربی کنارے کے الحاق کے امکان کو قطعی طور پر مسترد کرنا، اور ایک سنجیدہ و دیرپا امن عمل سے وابستگی شامل ہے جو دو ریاستی حل کی بنیاد پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کرےتو برطانیہ فلسطین کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کرے گا۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسٹارمر نے کہا کہ فلسطینی عوام طویل عرصے سے ناقابلِ بیان مصیبتیں جھیل رہے ہیں۔ آج غزہ میں، امداد کی خوفناک ناکامی کے باعث، ہم ایسے مناظر دیکھ رہے ہیں جن میں شیر خوار بچے بھوک سے نڈھال ہیں، کمزور بچے کھڑے ہونے کے قابل نہیں — یہ تصاویر زندگی بھر ہمارے ذہنوں میں رہیں گی۔ یہ اذیت اب ختم ہونی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کی حکومت ستمبر میں اس بات کا جائزہ لے گی کہ فریقین نے ان شرائط پر کس حد تک عمل کیا ہے، تاہم اس فیصلے پر کسی کو ویٹو یا رکاوٹ ڈالنے کا اختیار حاصل نہیں ہوگا۔

اسٹارمر نے یہ فیصلہ اُس وقت کیا جب انہوں نے منگل کے روز موسمِ گرما کی تعطیلات کے دوران اپنی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا، تاکہ دیگر یورپی رہنماؤں کے ساتھ مل کر زیرِ غور نئے امن منصوبے پر بات چیت کی جا سکے اور یہ طے کیا جا سکے کہ غزہ کے 22 لاکھ متاثرہ افراد تک مزید انسانی امداد کس طرح مؤثر انداز میں پہنچائی جائے۔

یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب وزیرِاعظم اسٹارمر نے موسمِ گرما کی تعطیلات کے دوران منگل کواپنی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا تاکہ دیگر یورپی رہنماؤں کے ساتھ مل کر ایک مجوزہ امن منصوبے پر غور کیا جا سکے اور یہ طے کیا جا سکے کہ غزہ کے 22 لاکھ متاثرہ افراد تک انسانی امداد کس طرح فوری اور مؤثر طریقے سے پہنچائی جائے۔

Comments

Comments are closed.