BR100 Increased By (0.63%)
BR30 Increased By (0.61%)
KSE100 Increased By (0.55%)
KSE30 Increased By (0.56%)
BAFL 58.50 Increased By ▲ 0.06 (0.1%)
BIPL 25.44 Increased By ▲ 0.24 (0.95%)
BOP 34.31 Increased By ▲ 0.32 (0.94%)
CNERGY 8.15 Increased By ▲ 0.04 (0.49%)
DFML 20.80 Decreased By ▼ -0.04 (-0.19%)
DGKC 196.25 Increased By ▲ 3.28 (1.7%)
FABL 90.20 Increased By ▲ 0.41 (0.46%)
FCCL 53.61 Increased By ▲ 0.78 (1.48%)
FFL 18.14 Increased By ▲ 0.19 (1.06%)
GGL 19.10 Increased By ▲ 0.13 (0.69%)
HBL 287.40 Increased By ▲ 1.90 (0.67%)
HUBC 215.15 Increased By ▲ 0.77 (0.36%)
HUMNL 10.98 Increased By ▲ 0.10 (0.92%)
KEL 8.07 Increased By ▲ 0.05 (0.62%)
LOTCHEM 28.19 Increased By ▲ 0.30 (1.08%)
MLCF 87.80 Increased By ▲ 1.29 (1.49%)
OGDC 322.80 Increased By ▲ 2.84 (0.89%)
PAEL 39.62 Increased By ▲ 0.20 (0.51%)
PIBTL 16.77 Increased By ▲ 0.10 (0.6%)
PIOC 269.00 Increased By ▲ 2.94 (1.11%)
PPL 230.00 Increased By ▲ 1.82 (0.8%)
PRL 34.88 Increased By ▲ 0.20 (0.58%)
SNGP 99.40 Increased By ▲ 0.22 (0.22%)
SSGC 26.96 Increased By ▲ 0.36 (1.35%)
TELE 8.38 Increased By ▲ 0.10 (1.21%)
TPLP 8.36 Increased By ▲ 0.14 (1.7%)
TRG 70.50 Increased By ▲ 0.79 (1.13%)
UNITY 11.78 Increased By ▲ 0.11 (0.94%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)

برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل نے فلسطینی عوام کی زندگی بہتر بنانے کے لیے ضروری اور مؤثر اقدامات نہ کیے تو برطانیہ رواں سال ستمبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں فلسطین کو ایک خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کر لے گا۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اگر برطانیہ نے یہ قدم اٹھایا تو وہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایسا دوسرا مغربی رکن بن جائے گا جو فرانس کے بعد فلسطین کو تسلیم کرے گا۔ یہ اقدام غزہ میں حماس کے خلاف جاری اسرائیلی کارروائیوں کے دوران اسرائیل کے رویے پر اس کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تنہائی کی عکاسی کرتا ہے جہاں شدید انسانی بحران جنم لے چکا ہے اور فلسطینی شہادتوں کی تعداد 60 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

اسٹارمر نے کہا کہ اگر اسرائیل نے ان شرائط پر عمل درآمد نہ کیاجن میں غزہ تک امداد کی مؤثر رسائی، مغربی کنارے کے الحاق کے امکان کو قطعی طور پر مسترد کرنا، اور ایک سنجیدہ و دیرپا امن عمل سے وابستگی شامل ہے جو دو ریاستی حل کی بنیاد پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کرےتو برطانیہ فلسطین کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کرے گا۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسٹارمر نے کہا کہ فلسطینی عوام طویل عرصے سے ناقابلِ بیان مصیبتیں جھیل رہے ہیں۔ آج غزہ میں، امداد کی خوفناک ناکامی کے باعث، ہم ایسے مناظر دیکھ رہے ہیں جن میں شیر خوار بچے بھوک سے نڈھال ہیں، کمزور بچے کھڑے ہونے کے قابل نہیں — یہ تصاویر زندگی بھر ہمارے ذہنوں میں رہیں گی۔ یہ اذیت اب ختم ہونی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کی حکومت ستمبر میں اس بات کا جائزہ لے گی کہ فریقین نے ان شرائط پر کس حد تک عمل کیا ہے، تاہم اس فیصلے پر کسی کو ویٹو یا رکاوٹ ڈالنے کا اختیار حاصل نہیں ہوگا۔

اسٹارمر نے یہ فیصلہ اُس وقت کیا جب انہوں نے منگل کے روز موسمِ گرما کی تعطیلات کے دوران اپنی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا، تاکہ دیگر یورپی رہنماؤں کے ساتھ مل کر زیرِ غور نئے امن منصوبے پر بات چیت کی جا سکے اور یہ طے کیا جا سکے کہ غزہ کے 22 لاکھ متاثرہ افراد تک مزید انسانی امداد کس طرح مؤثر انداز میں پہنچائی جائے۔

یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب وزیرِاعظم اسٹارمر نے موسمِ گرما کی تعطیلات کے دوران منگل کواپنی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا تاکہ دیگر یورپی رہنماؤں کے ساتھ مل کر ایک مجوزہ امن منصوبے پر غور کیا جا سکے اور یہ طے کیا جا سکے کہ غزہ کے 22 لاکھ متاثرہ افراد تک انسانی امداد کس طرح فوری اور مؤثر طریقے سے پہنچائی جائے۔

Comments

Comments are closed.