سندھ حکومت نے صوبے بھر میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گاڑی مالکان کو ایک مخصوص مدت کے اندر نئی نمبر پلیٹس خریدنے کی ہدایت دی گئی تھی، جو اب گزر چکی ہے۔ تاہم، اب بھی بڑی تعداد میں گاڑیاں پرانی نمبر پلیٹس استعمال کر رہی ہیں۔ ایک کے بعد ایک ڈیڈ لائن گزر رہی ہے، اور شہریوں کو بھاری چالان اور گاڑیاں ضبط کیے جانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ نمبر پلیٹس کی یہ اچانک تبدیلی شہریوں کے لیے ایک غیر متوقع اور پریشان کن فیصلہ ثابت ہوئی ہے۔
اصل معاملہ جس پر غور کیا جا رہا تھا، وہ جان لیوا حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد تھی، خصوصاً کراچی جیسے میٹروپولیٹن شہر میں۔ اس تناظر میں کئی تجاویز پیش کی گئیں، جن میں سخت فزیکل فٹنس ٹیسٹ، موٹر سائیکل سواروں میں نظم و ضبط پیدا کرنا، ایسی موٹر سائیکلوں کا استعمال جو بہتر حالت میں ہوں (جیسا کہ ہماری سڑکوں پر عام طور پر نظر نہیں آتیں)، اور ٹریفک قوانین کی بہتر پابندی شامل ہے۔ ان قوانین میں یک طرفہ سڑکوں کی علامات کی پابندی اور وہ سب سے اہم مگر ہمیشہ نظر انداز کی جانے والی ہدایت، یعنی ہیلمٹ پہننا، بھی شامل ہے۔
یہ تمام منصوبے کس طرح صرف ایک ہی مہم — یعنی نمبر پلیٹس کی تبدیلی — میں سمٹ گئے، اور یہ تبدیلی ٹریفک حادثات کو کیسے روکے گی، یہ تو کوئی بھی یقینی طور پر نہیں کہہ سکتا۔ لیکن اس وقت یہ سندھ بھر میں جاری سب سے اہم ٹریفک مہم بن چکی ہے۔
نئی نمبر پلیٹس نہایت خوبصورت اور فنکارانہ انداز میں تیار کی گئی ہیں، جن کے پس منظر میں اجرک کا نمونہ شامل ہے۔ اس ڈیزائن پر رائے کا اختلاف موجود ہے، لیکن ظاہر ہے کہ اتنے بڑے صوبے میں ایسا اختلاف ہونا فطری بات ہے۔ ایک نمبر پلیٹ پر رائے کی گنجائش محدود ہوتی ہے، لہٰذا ہر کسی کے نقطۂ نظر کو شامل کرنا ممکن نہیں۔ حتیٰ کہ امریکہ جیسے ملک میں بھی نمبر پلیٹس پر لکھے جانے والے نعرے ریاست در ریاست مختلف ہوتے ہیں۔
مثال کے طور پر، امریکی ریاست نیو ہیمپشائر میں ایک نہایت انقلابی نعرہ نمبر پلیٹس پر درج ہوتا ہے: ”آزاد جیو یا مر جاؤ“۔ اس کے برعکس، نیو جرسی خود کو ”گارڈن اسٹیٹ“ کہتی ہے، جبکہ مین (Maine) کو ”تعطیلات کی سرزمین“ قرار دیا جاتا ہے۔ کینیڈا میں رجسٹریشن پلیٹس کا انداز کچھ زیادہ فنکارانہ ہے، جیسا کہ نارتھ ویسٹ ٹیریٹریز کی نمبر پلیٹس سے ظاہر ہوتا ہے، جنہیں قطبی ریچھ کی شکل میں ڈھالا جاتا ہے۔
کینیڈا کی صرف تین ریاستیں، برٹش کولمبیا، مانیتوبا اور اونٹاریو، ایسی ہیں جہاں گاڑی کے اگلے اور پچھلے دونوں جانب نمبر پلیٹ لگانا لازمی ہے، جبکہ باقی صوبوں میں صرف پچھلی نمبر پلیٹ ہی کافی سمجھی جاتی ہے۔ زیادہ تر کینیڈین ریاستیں ”وینیٹی لائسنس پلیٹس“ بھی جاری کرتی ہیں، جن کے ذریعے گاڑی مالکان اپنی مرضی کے الفاظ یا نمبرز کے ساتھ نمبر پلیٹس بنوا سکتے ہیں۔ ایک نہایت قابل تعریف عمل جو ہم بھی اپنا سکتے ہیں، وہ ہے معذور افراد کے لیے مخصوص نمبر پلیٹس کا اجرا، جو انہیں پارکنگ کی سہولتوں اور دیگر رعایتوں کی اجازت دیتا ہے، جو خصوصی افراد کے لیے مختص ہوتی ہیں۔
ذاتی طور پر میرا خیال ہے کہ سندھ میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس کو مزید پُرکشش بنایا جا سکتا ہے اگر ان پر کوئی نعرہ (سلوگن) بھی شامل کیا جائے۔ ایسا نعرہ جو صوبے کے عوام کو باہم جوڑنے والا ہو، مثلاً: ”سندھ ، اولیاء و صوفیا کی سرزمین“
اس وقت سندھ ایکسائز ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کی جانے والی نمبر پلیٹس کی قیمت اتنی کم ہے کہ یوں کہا جا سکتا ہے جیسے مونگ پھلی کے دام، خاص طور پر اگر ہم اسے پڑوسی ملکوں میں فروخت ہونے والی کچھ نمبر پلیٹس کی قیمت سے موازنہ کریں۔ مثال کے طور پر دبئی کی ’AA8‘ نمبر پلیٹ 79 لاکھ پاؤنڈ میں فروخت ہوئی، ابوظہبی کی ’1‘ نمبر پلیٹ 60 لاکھ پاؤنڈ میں، دبئی کی ’09‘ نمبر پلیٹ 55 لاکھ پاؤنڈ میں جبکہ دبئی ہی کی ایک منفرد ’7‘ پلیٹ 32 لاکھ پاؤنڈ میں اور ہانگ کانگ میں مشہور لکی ’28‘ پلیٹ 16 لاکھ پاؤنڈ میں نیلام ہوئی۔ یہ وہ قیمتیں ہیں جن میں با آسانی ایک شاندار کار خریدی جا سکتی ہے، مگر ان ملکوں میں لوگ صرف نمبر پلیٹ کے لیے یہ رقم ادا کرنے پر تیار ہیں۔
یقیناً، اگر ہمارا متعلقہ محکمہ بھی انتہائی مہنگی قیمتوں پر مخصوص نمبر پلیٹس جاری کرنے کا تصور پیش کرے، تو بہت سے خواہش مند افراد ہر قیمت پر ایسی پلیٹ حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کریں گے۔ دراصل موجودہ رجحان یہی ہے کہ جتنی چیز کی قیمت زیادہ ہو، وہ اتنی ہی پرکشش اور مخصوص خریداروں کے لیے منفرد حیثیت رکھتی ہے۔ ایسی نمبر پلیٹس سے حاصل ہونے والی رقم کو ان سڑکوں اور اوور ہیڈ پلوں کی مرمت پر خرچ کیا جا سکتا ہے، جو عرصۂ دراز سے متعلقہ اداروں کی فوری توجہ کی منتظر ہیں۔
جب میں یہ لکھ رہا تھا، خبر آئی کہ سندھ میں نمبر پلیٹس کی تبدیلی کے سلسلے میں دوبارہ غور و فکر کیا جا رہا ہے۔ میری خواہش ہے کہ وہ اس اسکیم کو مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے اس میں مثبت تبدیلیاں کریں۔ اس منصوبے میں اتنی محنت اور وقت صرف ہو چکا ہے کہ اسے ختم کرکے دوبارہ شروع کرنا نہ صرف غیر منطقی ہوگا بلکہ عوام اور انتظامیہ دونوں کے لیے مشکلات کا باعث بھی بنے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.