BR100 Decreased By (-0.59%)
BR30 Decreased By (-0.66%)
KSE100 Decreased By (-0.58%)
KSE30 Decreased By (-0.45%)
BAFL 56.64 Decreased By ▼ -0.10 (-0.18%)
BIPL 26.85 Decreased By ▼ -0.19 (-0.7%)
BOP 33.42 Decreased By ▼ -0.26 (-0.77%)
CNERGY 10.24 Increased By ▲ 0.43 (4.38%)
DFML 18.15 Decreased By ▼ -0.37 (-2%)
DGKC 205.30 Decreased By ▼ -2.57 (-1.24%)
FABL 97.30 Decreased By ▼ -1.60 (-1.62%)
FCCL 53.32 Decreased By ▼ -0.20 (-0.37%)
FFL 16.37 Decreased By ▼ -0.31 (-1.86%)
GGL 23.60 Increased By ▲ 0.03 (0.13%)
HBL 302.88 Decreased By ▼ -1.51 (-0.5%)
HUBC 217.40 Decreased By ▼ -0.71 (-0.33%)
HUMNL 10.47 Decreased By ▼ -0.19 (-1.78%)
KEL 7.23 Decreased By ▼ -0.12 (-1.63%)
LOTCHEM 28.85 Decreased By ▼ -0.26 (-0.89%)
MLCF 93.99 Decreased By ▼ -1.51 (-1.58%)
OGDC 318.40 Increased By ▲ 0.46 (0.14%)
PAEL 41.24 Decreased By ▼ -0.59 (-1.41%)
PIBTL 16.33 Decreased By ▼ -0.17 (-1.03%)
PIOC 282.00 Increased By ▲ 1.99 (0.71%)
PPL 220.20 Increased By ▲ 0.46 (0.21%)
PRL 48.41 Increased By ▲ 3.82 (8.57%)
SNGP 106.01 Decreased By ▼ -1.48 (-1.38%)
SSGC 28.33 Decreased By ▼ -0.60 (-2.07%)
TELE 8.65 Decreased By ▼ -0.11 (-1.26%)
TPLP 12.23 Increased By ▲ 0.13 (1.07%)
TRG 59.05 Decreased By ▼ -0.98 (-1.63%)
UNITY 9.95 Decreased By ▼ -0.16 (-1.58%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)

چینی وزیراعظم لی کیانگ نے بیجنگ کی صنعت کو دی جانے والی مبینہ حد سے زیادہ سبسڈیز کے حوالے سے یورپی یونین کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے بلاک کے رہنماؤں سے کہا کہ ہم اس کی استطاعت نہیں رکھتے۔ انہوں نے یہ واضح اور کھلے الفاظ میں ایک کشیدہ سمٹ کے دوران کہا۔

جمعرات کو یورپی کمیشن کی سربراہ اُرزولا وان ڈیر لائین کے ساتھ گول میز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے لی کیانگ نے اصرار کیا کہ چین ہرگز وہ سبسڈیز پالیسی یا مالی سبسڈیز نہیں دے رہا جیسا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین یورپ جتنا امیر نہیں ہے، اور ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے۔

لی کیانگ نے مزید کہا کہ ہم اتنے بے وقوف نہیں ہوں گے کہ حکومت کے ذریعے جمع ہونے والے مالی فنڈز اور اپنی قوم کی محنت سے کمائی گئی دولت کو استعمال کرکے اپنی مصنوعات غیر ملکی صارفین کو فروخت کریں۔

وان ڈیر لائین اور یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا جمعرات کو بیجنگ میں موجود تھے جہاں یورپی یونین اور چین کے درمیان تجارتی تناؤ اور روس کی یوکرین جنگ پر اختلافات حاوی رہے۔

یورپی یونین کی سب سے بڑی تشویش چین کے ساتھ اس کا تجارتی خسارہ تھا، جو گزشتہ سال تقریباً 360 ارب ڈالر تھا۔

یورپی یونین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ بیجنگ کی جانب سے صنعت کو دی جانے والی بڑی سبسڈیز یورپی حریفوں کو سستے چینی برآمدات کے سیلاب سے نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

چین کے نمبر دو عہدیدار لی کیانگ نے یورپی قیادت کے ساتھ گول میز اجلاس میں ان دعوؤں کو مسترد کر دیا۔

انہوں نے کہا: ’’کچھ ادارے، خاص طور پر مینوفیکچرنگ کمپنیاں، گہرائی سے محسوس کرتی ہیں کہ چین کی پیداواری صلاحیتیں بہت مضبوط ہیں، اور چینی عوام بہت محنتی ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا: ’’کارخانے دن کے 24 گھنٹے چلتے ہیں‘‘۔

چینی وزیراعظم نے تسلیم کیا: ’’کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اس سے دنیا کی پیداوار میں رسد اور طلب کے توازن میں نئی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں، ہم بھی اس مسئلے کو دیکھتے ہیں‘‘۔

لی نے ان دعوؤں کو بھی رد کر دیا کہ چینی معیشت، جو کئی برسوں سے سست روی کا شکار ہے، شدید بحران میں ہے۔

انہوں نے کہا: ’’یقیناً مشکلات اور چیلنجز ہیں، لیکن ہمارے لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ چین کی معیشت تنزلی کا شکار ہے‘‘۔

’’ہماری جی ڈی پی کی شرح نمو ہمیشہ پانچ فیصد سے زائد رہتی ہے،‘‘ انہوں نے اصرار کیا۔

Comments

Comments are closed.