BR100 Increased By (1.26%)
BR30 Increased By (1.3%)
KSE100 Increased By (1.12%)
KSE30 Increased By (1.13%)
BAFL 57.78 Increased By ▲ 0.58 (1.01%)
BIPL 27.30 Increased By ▲ 0.41 (1.52%)
BOP 34.53 Increased By ▲ 0.84 (2.49%)
CNERGY 10.96 Increased By ▲ 0.35 (3.3%)
DFML 18.48 Increased By ▲ 0.43 (2.38%)
DGKC 211.50 Increased By ▲ 1.60 (0.76%)
FABL 101.40 Increased By ▲ 2.45 (2.48%)
FCCL 54.35 Increased By ▲ 0.61 (1.14%)
FFL 16.86 Increased By ▲ 0.40 (2.43%)
GGL 23.95 Increased By ▲ 0.13 (0.55%)
HBL 305.32 Increased By ▲ 2.90 (0.96%)
HUBC 221.95 Increased By ▲ 3.01 (1.37%)
HUMNL 10.74 Increased By ▲ 0.20 (1.9%)
KEL 7.44 Increased By ▲ 0.16 (2.2%)
LOTCHEM 30.07 Increased By ▲ 0.42 (1.42%)
MLCF 97.00 Increased By ▲ 0.64 (0.66%)
OGDC 321.40 Increased By ▲ 3.18 (1%)
PAEL 42.52 Increased By ▲ 0.75 (1.8%)
PIBTL 17.00 Increased By ▲ 0.19 (1.13%)
PIOC 299.90 Increased By ▲ 3.28 (1.11%)
PPL 223.30 Increased By ▲ 3.13 (1.42%)
PRL 52.80 Increased By ▲ 3.75 (7.65%)
SNGP 107.25 Increased By ▲ 1.12 (1.06%)
SSGC 29.54 Increased By ▲ 0.40 (1.37%)
TELE 8.92 Increased By ▲ 0.10 (1.13%)
TPLP 12.84 Increased By ▲ 0.33 (2.64%)
TRG 60.79 Increased By ▲ 0.57 (0.95%)
UNITY 10.25 Increased By ▲ 0.23 (2.3%)
WTL 1.24 Increased By ▲ 0.01 (0.81%)

چینی وزیراعظم لی کیانگ نے بیجنگ کی صنعت کو دی جانے والی مبینہ حد سے زیادہ سبسڈیز کے حوالے سے یورپی یونین کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے بلاک کے رہنماؤں سے کہا کہ ہم اس کی استطاعت نہیں رکھتے۔ انہوں نے یہ واضح اور کھلے الفاظ میں ایک کشیدہ سمٹ کے دوران کہا۔

جمعرات کو یورپی کمیشن کی سربراہ اُرزولا وان ڈیر لائین کے ساتھ گول میز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے لی کیانگ نے اصرار کیا کہ چین ہرگز وہ سبسڈیز پالیسی یا مالی سبسڈیز نہیں دے رہا جیسا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین یورپ جتنا امیر نہیں ہے، اور ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے۔

لی کیانگ نے مزید کہا کہ ہم اتنے بے وقوف نہیں ہوں گے کہ حکومت کے ذریعے جمع ہونے والے مالی فنڈز اور اپنی قوم کی محنت سے کمائی گئی دولت کو استعمال کرکے اپنی مصنوعات غیر ملکی صارفین کو فروخت کریں۔

وان ڈیر لائین اور یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا جمعرات کو بیجنگ میں موجود تھے جہاں یورپی یونین اور چین کے درمیان تجارتی تناؤ اور روس کی یوکرین جنگ پر اختلافات حاوی رہے۔

یورپی یونین کی سب سے بڑی تشویش چین کے ساتھ اس کا تجارتی خسارہ تھا، جو گزشتہ سال تقریباً 360 ارب ڈالر تھا۔

یورپی یونین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ بیجنگ کی جانب سے صنعت کو دی جانے والی بڑی سبسڈیز یورپی حریفوں کو سستے چینی برآمدات کے سیلاب سے نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

چین کے نمبر دو عہدیدار لی کیانگ نے یورپی قیادت کے ساتھ گول میز اجلاس میں ان دعوؤں کو مسترد کر دیا۔

انہوں نے کہا: ’’کچھ ادارے، خاص طور پر مینوفیکچرنگ کمپنیاں، گہرائی سے محسوس کرتی ہیں کہ چین کی پیداواری صلاحیتیں بہت مضبوط ہیں، اور چینی عوام بہت محنتی ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا: ’’کارخانے دن کے 24 گھنٹے چلتے ہیں‘‘۔

چینی وزیراعظم نے تسلیم کیا: ’’کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اس سے دنیا کی پیداوار میں رسد اور طلب کے توازن میں نئی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں، ہم بھی اس مسئلے کو دیکھتے ہیں‘‘۔

لی نے ان دعوؤں کو بھی رد کر دیا کہ چینی معیشت، جو کئی برسوں سے سست روی کا شکار ہے، شدید بحران میں ہے۔

انہوں نے کہا: ’’یقیناً مشکلات اور چیلنجز ہیں، لیکن ہمارے لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ چین کی معیشت تنزلی کا شکار ہے‘‘۔

’’ہماری جی ڈی پی کی شرح نمو ہمیشہ پانچ فیصد سے زائد رہتی ہے،‘‘ انہوں نے اصرار کیا۔

Comments

Comments are closed.