عالمی منڈی میں جمعہ کو خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی وجہ امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان ممکنہ تجارتی معاہدے کی امیدیں اور روس کی جانب سے زیادہ تر ممالک کو پیٹرول کی برآمدات محدود کرنے کے منصوبوں کی اطلاعات بتائی جا رہی ہیں۔
برینٹ کروڈ فیوچرز 17 سینٹ یا 0.3 فیصد بڑھ کر 69.35 ڈالر فی بیرل پر جا پہنچا، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ فیوچرز 15 سینٹ یا 0.2 فیصد اضافے کے ساتھ 66.18 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا۔ اس سے قبل جمعرات کو تیل کی قیمتوں میں ایک فیصد اضافہ روس کی متوقع برآمدی کٹوتیوں کی خبروں پر دیکھا گیا تھا۔
یہ پیش رفت اس خبر پر بھی غالب رہی کہ امریکی آئل کمپنی شیورون کارپوریشن کو وینزویلا میں پیداوار دوبارہ شروع کرنے کی اجازت مل سکتی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ پابندیوں کے شکار اوپیک رکن ملک میں محدود آئل آپریشنز کی منظوری دینے کی تیاری کر رہی ہے۔
امریکی خام تیل کے ذخائر میں کمی اور امریکا و یورپی یونین کے درمیان ٹیرف میں کمی پر ممکنہ معاہدے کی امیدوں نے بھی قیمتوں کو سہارا دیا۔ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق پچھلے ہفتے خام تیل کے ذخائر میں 3.2 ملین بیرل کمی واقع ہوئی جو ماہرین کی توقعات سے کہیں زیادہ ہے۔
یورپی سفارتکاروں نے کہا کہ امریکا اور یورپی یونین کے درمیان ایسا معاہدہ طے پا سکتا ہے جس میں یورپی درآمدات پر 15 فیصد بنیادی امریکی ٹیرف اور ممکنہ استثنیٰ شامل ہو۔
مارکیٹ کے شرکاء کی نظریں آئندہ ہفتے کے اہم معاشی اعداد و شمار پر مرکوز ہیں، جن میں چین کی فیکٹری سرگرمیوں کے اعداد و شمار اور امریکی مہنگائی، روزگار اور انوینٹری سے متعلق رپورٹیں شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق آئندہ ہفتہ تیل کی مارکیٹ کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔






















Comments
Comments are closed.