جون 2025 کے دوران پاکستان میں بجلی کی پیداوار 13,744 گیگا واٹ ریکارڈ کی گئی جو مئی 2025 کے مقابلے میں ماہانہ 8 فیصد سے زائد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ مئی 2025 میں بجلی کی پیداوار 12,755 گیگا واٹ فی آور رہی تھی۔
بجلی کی پیداوار میں اضافہ اقتصادی سرگرمیوں میں بہتری کا اشارہ دیتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بجلی کی طلب اور پیداوار میں اس اضافے کی بڑی وجوہات درجہ حرارت میں اضافہ اور پن بجلی کی پیداوار میں 12 فیصد ماہانہ اضافہ ہیں۔
سالانہ بنیادوں پر بھی جون میں بجلی کی پیداوار میں 2 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جو جون 2024 میں ریکارڈ ہونے والی 13,461 گیگا واٹ آور کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
مالی سال 2025 کے دوران مجموعی بجلی کی پیداوار 127,159 گیگا واٹ آور رہی، جو گزشتہ مالی سال کی 127,059 گیگا واٹ آور کے مقابلے میں محض 0.1 فیصد زیادہ ہے، یعنی سالانہ بنیادوں پر پیداوار تقریباً مستحکم رہی۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق اس استحکام کی بڑی وجہ مہنگی گرڈ بجلی کے باعث کمپنیوں کا اپنی ذاتی بجلی پیداوار پر انحصار رہا، جس نے گرڈ سے بجلی کے استعمال کو محدود رکھا۔
حکومت نے فروری 2025 میں آف گرڈ لیوی متعارف کروائی تاکہ خودمختار (کیپٹیو) بجلی کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی جاسکے اور صنعتوں کو قومی گرڈ سے منسلک ہونے کی ترغیب دی جاسکے۔
اس کے ساتھ وزیراعظم نے اپریل، مئی اور جون 2025 کے دوران آزاد پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) سے کامیاب مذاکرات اور پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل) کی مد میں ہونے والی بچت کو بجلی کے نرخوں میں کمی کے لیے استعمال کیا جس کے نتیجے میں فی یونٹ قیمت میں 5 روپے فی کلو واٹ سے زائد کمی کی گئی۔
ان اقدامات کے نتیجے میں مالی سال 2025 کی چوتھی سہ ماہی میں بجلی کی پیداوار میں 7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
دوسری جانب جون 2025 میں بجلی پیدا کرنے کی اوسط لاگت 7.9 روپے فی کلو واٹ آور رہی، جو مئی 2025 کے 7.8 روپے فی یونٹ کے مقابلے میں 1 فیصد زیادہ ہے۔
تاہم سالانہ بنیادوں پر لاگت میں 9 فیصد کمی ہوئی کیونکہ جون 2024 میں یہ لاگت 8.6 روپے فی کلو واٹ آور تھی۔
جون میں پن بجلی پیداوار کا سب سے بڑا ذریعہ بن کر سامنے آئی جو مجموعی پیداوار کے 39 فیصد کے ساتھ سرفہرست رہی۔
اس کے بعد آر ایل این جی کا نمبر آیا جس نے مجموعی بجلی پیداوار میں 16 فیصد حصہ ڈالا جب کہ مقامی کوئلے سے بجلی کی پیداوار 11 فیصد رہی۔
قابلِ تجدید ذرائع میں ہوا سے پیدا ہونے والی بجلی مجموعی پیداوار کا 4 فیصد جب کہ شمسی توانائی کا حصہ ایک فیصد رہا۔






















Comments
Comments are closed.