سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی-گارنٹیڈ (سی پی پی اے جی) نے جون کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت نیپرا میں درخواست دائر کردی۔
سی پی پی اے جی نے جون 2025 کے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) میں فی یونٹ 65 پیسے کی منفی ایڈجسٹمنٹ کی درخواست کی ہے تاکہ صارفین کو مجموعی طور پر 8.7 ارب روپے واپس کیے جا سکیں۔
نیپرا نے 30 جولائی 2025 کو ایک عوامی سماعت منعقد کرنے کا شیڈول طے کیا ہے جس کا مقصد سی پی پی اے جی سے مزید وضاحت طلب کرنا اور صارفین کے نمائندوں کو فیول ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) سے متعلق ڈیٹا پر اپنے خیالات کے اظہار کا موقع دینا ہے۔
نیپرا کو جمع کرائے گئے ڈیٹا کے مطابق جون 2025 میں ہائیڈل ذرائع سے 5,410 گیگا واٹ آور (جی ڈبلیو ایچ) بجلی پیدا کی گئی جو کل پیداوار کا 39.36 فیصد ہے۔
جون 2025 میں مقامی کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں سے 1,510 گیگا واٹ آور بجلی پیدا کی گئی، جو کل پیداوار کا 10.99 فیصد رہی، اور اس کی فی یونٹ لاگت 1.5121 روپے رہی۔ اس کے مقابلے میں درآمدی کوئلے سے 1,597 گیگا واٹ آور بجلی پیدا کی گئی جس کی فی یونٹ لاگت 15.1600 روپے رہی۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل سے پیداوار کا ذکر نہیں کیا گیا، جب کہ فرنس آئل سے 151 گیگا واٹ آور بجلی پیدا کی گئی، جس کی فی یونٹ قیمت 28.8873 روپے رہی۔
گیس سے چلنے والے بجلی گھروں سے 968 گیگا واٹ آور بجلی پیدا کی گئی جو کل پیداوار کا 7.04 فیصد رہی اور اس کی فی یونٹ لاگت 12.3883 روپے رہی۔ ری-آر ایل این جی سے 2,216 گیگا واٹ آور بجلی پیدا ہوئی جو کل پیداوار کا 16.12 فیصد رہی، اور اس کی فی یونٹ قیمت 21.8716 روپے رہی۔
جوہری ذرائع سے 1,383 گیگا واٹ آور بجلی پیدا کی گئی، جو کل پیداوار کا 10.06 فیصد رہی اور اس کی فی یونٹ لاگت 2.4488 روپے رہی۔ایران سے درآمد شدہ بجلی کی مقدار 47 گیگا واٹ آور رہی جس کی فی یونٹ قیمت 22.5153 روپے رہی۔
بیگاس (گنے کے فاضل مادے) سے بجلی کی پیداوار 35 گیگا واٹ آور ریکارڈ کی گئی، جس کی فی یونٹ لاگت 9.8651 روپے رہی۔ سولر توانائی سے پیداوار 106 گیگا واٹ آور رہی، جو کل بجلی پیداوار کا 0.77 فیصد بنتی ہے۔ ہوا سے بجلی کی پیداوار 522 گیگا واٹ آور ریکارڈ کی گئی جو کل پیداوار کا 3.80 فیصد رہی۔
سی پی پی سے جی کے مطابق جون 2025 میں کل 13,744 گیگا واٹ آور بجلی پیدا کی گئی جس کی مجموعی لاگت 108.166 ارب روپے رہی، یعنی فی یونٹ قیمت 7.8698 روپے بنی۔
تاہم، گزشتہ منفی ایڈجسٹمنٹس کے 4.832 ارب روپے، آئی پی پیز کو فروخت اور ترسیلی نقصانات کے مد میں 1.113 ارب روپے کی منفی ایڈجسٹمنٹ، اور 409 گیگا واٹ آور کے منفی ترسیلی نقصانات (-2.97 روپے فی یونٹ) شامل کرنے کے بعد، تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کو فراہم کی گئی خالص بجلی 13,310 گیگا واٹ آور ریکارڈ کی گئی، جس کی فی یونٹ قیمت 7.6800 روپے بنی۔
سی پی پی اے جی نے مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ جون 2025 میں بجلی کی پیداواری لاگت 7.6800 روپے فی یونٹ (کلو واٹ آور) ریکارڈ کی گئی، جو کہ ریفرنس ریٹ 8.334 روپے فی یونٹ سے کم ہے، لہٰذا تمام صارفین کے لیے 0.6541 روپے فی یونٹ کی منفی ایڈجسٹمنٹ کی منظوری دی جانی چاہیے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025






















Comments
Comments are closed.