پاکستان کے کاروباری طبقے اور صنعتکاروں کی جانب سے مجوزہ ہڑتال موجودہ معاشی صورتحال پر گہری روشنی ڈالتی ہے۔ یہ صرف ٹیکسوں کا مسئلہ نہیں ہے — بلکہ اس بڑھتے ہوئے احساس کا اظہار ہے کہ جو لوگ قوانین کی پاسداری کرتے ہیں، سزا بھی انہی کو ملتی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب معیشت کی بحالی کے لیے رسمی (ڈاکیومنٹڈ) شعبے کو قیادت کرنی چاہیے، یہ طبقہ ایسی پالیسیوں پر احتجاج کر رہا ہے جو پہلے سے ٹیکس نیٹ میں شامل کاروباروں پر مزید بوجھ ڈال رہی ہیں۔
برسوں سے کاروبار کرنے میں آسانی کے دعوے کیے جاتے رہے، مگر زمینی حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ وہ کاروبار جو رجسٹرڈ ہیں، دستاویزی ہیں اور باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرتے ہیں، انہیں ضابطوں کی تہہ در تہہ رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ ضابطوں کا ہونا بذاتِ خود کوئی مسئلہ نہیں — کیونکہ مارکیٹس کو مؤثر انداز میں چلانے کے لیے قواعد و ضوابط ضروری ہوتے ہیں — مگر پاکستان میں یہ قواعد جس انداز میں بنائے اور لاگو کیے جاتے ہیں، وہ اکثر غیر واضح، غیر ضروری طور پر دہراۓ جانے والے اور ترقی کے لیے نقصان دہ محسوس ہوتے ہیں۔
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (پی آئی ڈی ای) کی رپورٹ ’’ریگولیٹری باڈیز: ترقی اور سرمایہ کاری کیلئے نقصاندہ۔‘‘ ایک عددی انداز میں وہی بات پیش کرتی ہے جو کاروباری طبقہ برسوں سے کہتا آیا ہے: ریگولیٹری بوجھ بہت زیادہ ہے — جو کہ معیشت کے 67 فیصد سے بھی زائد حصے پر محیط ہے۔ صرف وفاقی سطح پر 100 سے زیادہ ریگولیٹری ادارے فعال ہیں، لہٰذا یہ حیرت کی بات نہیں کہ کمپنیاں مستقل رکاوٹوں اور مشکلات کا سامنا کرتی ہیں۔ بعض شعبوں میں صرف قواعد و ضوابط پر عملدرآمد کی لاگت جی ڈی پی کے 40 فیصد کے قریب پہنچ جاتی ہے۔
مسئلہ یہیں ختم نہیں ہوتا — بلکہ بدتر یہ ہے کہ ان میں سے کئی ضوابط حقیقی مسائل کو حل ہی نہیں کرتے۔ ان کا مقصد عام طور پر اصلاحات نہیں بلکہ مخصوص مفادات کی خدمت یا ادارہ جاتی کنٹرول کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ جو ادارے ان ضوابط کی نگرانی کرتے ہیں، ان کے پاس اکثر ضروری مہارت کا فقدان ہوتا ہے۔ ان میں سے کئی کی سربراہی ریٹائرڈ افسران کر رہے ہوتے ہیں، جنہیں اگرچہ طویل بیوروکریٹک تجربہ ہوتا ہے، مگر جدید کاروباری ماحول اور مارکیٹ کے عملی تقاضوں کا فہم کم ہوتا ہے۔
تاجروں اور صنعتکاروں کی تنظیموں کی طرف سے ہڑتال سے پہلے اٹھائے گئے خدشات بھی انہی مسائل کے گرد گھومتے ہیں — خاص طور پر حالیہ فنانس ایکٹ میں شامل ٹیکس اقدامات اور شقیں۔ ان میں ٹرن اوور پر ودہولڈنگ ٹیکس میں نمایاں اضافہ، کم از کم ٹیکس کے بوجھ میں سختی، اور ایف بی آر حکام کو مبینہ ٹیکس چوری کی صورت میں گرفتاری کے اختیارات دینا شامل ہیں۔ بزنس طبقے کا کہنا ہے کہ پالیسیوں میں واضح جھکاؤ تاجروں اور ریٹیلرز کی طرف ہے، جبکہ ڈاکیومنٹڈ صنعتی شعبے کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
اس کے برعکس، ملیشیا اور ویتنام جیسے ممالک سے یہ سیکھا جا سکتا ہے کہ ریگولیٹری نظام کس طرح ترقی کو فروغ دینے کا ذریعہ بن سکتا ہے، رکاوٹ نہیں۔ ملیشیا نے بزنس رجسٹریشن کے لیے سنگل ونڈو ڈیجیٹل پورٹل اور ڈیجیٹل ٹیکس سسٹم متعارف کرایا ہے، جس نے سرخ فیتے کو کم کیا اور ٹیکس دہندگان کا اعتماد بڑھایا۔ ویتنام نے ’’نیشنل سنگل ونڈو‘‘ متعارف کرایا جو وزارتوں کے درمیان تجارتی ضوابط کو یکجا کرتا ہے، اور اس کا مستحکم ٹیکس نظام سرمایہ کاروں کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ دونوں ممالک نے سرمایہ کاری سے متعلق اداروں کو اس قابل بنایا ہے کہ وہ فعال طور پر کاروباروں کی معاونت کر سکیں۔
پاکستان کے لیے آگے بڑھنے کا راستہ زیادہ ضابطے بنانے میں نہیں بلکہ اسمارٹ ریگولیشن (اسمارٹ ضابطہ سازی) میں ہے۔ اس کے لیے دوہری حکمت عملی درکار ہے: اول، ریگولیٹری ڈھانچے کو جدید بناتے ہوئے فرسودہ، غیر لچکدار اور غیر ضروری قواعد کا خاتمہ؛ دوم، ادارہ جاتی اصلاحات کو سیاسی عزم اور اہل قیادت کے ذریعے پائیدار بنانا۔ ضابطوں کی تشکیل کے لیے ایک منظم نظام درکار ہے — جو شواہد، اثرات کے تجزیے اور متعلقہ فریقوں کی رائے پر مبنی ہو — تاکہ بے ربط پالیسی سازی کی جگہ سائنسی اور مشاورتی عمل لے سکے۔ ساتھ ہی اداروں کی صلاحیت کو مضبوط بنانا ضروری ہے، جس میں تربیت یافتہ عملہ، بہتر طریقہ کار، اور اسٹریٹجک منصوبہ بندی شامل ہو۔
اگر جلد اور مؤثر اصلاحات نہ کی گئیں تو ملک اپنے رسمی شعبے کو مزید پچھلی صفوں میں دھکیل دے گا — ایسے وقت میں جب معیشت کو دوبارہ پٹری پر لانے کے لیے اسی شعبے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
























Comments
Comments are closed.