BR100 Increased By (0.62%)
BR30 Increased By (0.82%)
KSE100 Increased By (0.32%)
KSE30 Increased By (0.3%)
BAFL 58.70 Increased By ▲ 0.26 (0.44%)
BIPL 25.40 Increased By ▲ 0.20 (0.79%)
BOP 34.30 Increased By ▲ 0.31 (0.91%)
CNERGY 8.15 Increased By ▲ 0.04 (0.49%)
DFML 20.93 Increased By ▲ 0.09 (0.43%)
DGKC 194.70 Increased By ▲ 1.73 (0.9%)
FABL 89.87 Increased By ▲ 0.08 (0.09%)
FCCL 53.35 Increased By ▲ 0.52 (0.98%)
FFL 18.03 Increased By ▲ 0.08 (0.45%)
GGL 19.36 Increased By ▲ 0.39 (2.06%)
HBL 286.29 Increased By ▲ 0.79 (0.28%)
HUBC 214.88 Increased By ▲ 0.50 (0.23%)
HUMNL 10.88 No Change ▼ 0.00 (0%)
KEL 8.10 Increased By ▲ 0.08 (1%)
LOTCHEM 27.80 Decreased By ▼ -0.09 (-0.32%)
MLCF 87.26 Increased By ▲ 0.75 (0.87%)
OGDC 322.39 Increased By ▲ 2.43 (0.76%)
PAEL 39.85 Increased By ▲ 0.43 (1.09%)
PIBTL 16.95 Increased By ▲ 0.28 (1.68%)
PIOC 269.00 Increased By ▲ 2.94 (1.11%)
PPL 229.52 Increased By ▲ 1.34 (0.59%)
PRL 34.90 Increased By ▲ 0.22 (0.63%)
SNGP 98.90 Decreased By ▼ -0.28 (-0.28%)
SSGC 26.83 Increased By ▲ 0.23 (0.86%)
TELE 8.59 Increased By ▲ 0.31 (3.74%)
TPLP 8.64 Increased By ▲ 0.42 (5.11%)
TRG 69.50 Decreased By ▼ -0.21 (-0.3%)
UNITY 11.70 Increased By ▲ 0.03 (0.26%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)

پورٹ قاسم الیکٹرک پاور کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ (پی کیو ای پی سی) نے باضابطہ طور پر وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب سے رجوع کرتے ہوئے چینی انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کو ادائیگی کے لیے سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے-جی) کو ہنگامی بنیادوں پر فنڈز جاری کرنے کی درخواست کی ہے۔

اس وقت چینی آئی پی پیز کے واجبات کا حجم تقریباً 480 ارب روپے ہے۔ حکومت کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کے آئندہ دورہ بیجنگ سے قبل ان واجبات کی جزوی ادائیگی کی توقع کی جا رہی ہے، تاکہ چینی شراکت داروں کو اعتماد کا پیغام دیا جا سکے۔

پی کیو ای پی سی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر وانگ ڈونگ فینگ نے وزیر خزانہ کو ایک خط میں زور دیا ہے کہ چائنا-پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) کے تحت قائم کردہ 1,320 میگاواٹ کا پورٹ قاسم کوئلہ سے چلنے والا بجلی گھر کووِڈ-19 کی وبا کے دوران بھی قومی گرڈ کو مسلسل، قابلِ بھروسا اور کم لاگت بجلی فراہم کرتا رہا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ یہ منصوبہ گردشی قرضوں کے بوجھ کو کم کرنے میں بھی مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔ وانگ کے مطابق، 30 جون 2025 تک پورٹ قاسم پاور پروجیکٹ کے واجبات 87.5 ارب روپے (تقریباً 308.2 ملین ڈالر) تک پہنچ چکے ہیں، جن کی ادائیگی گزشتہ چھ ماہ سے تعطل کا شکار ہے اور مزید تاخیر کا خدشہ ہے۔

سی ای او نے خبردار کیا کہ منصوبے میں سرمایہ کاری کرنے والے چین اور قطر کے شیئر ہولڈرز اور اسپانسرز بڑھتے ہوئے واجبات پر شدید ناراضی کا اظہار کر چکے ہیں اور انہوں نے حکومتِ پاکستان سے فوری اقدام کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ادائیگیاں کم کی جا سکیں۔

انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ موجودہ صورتحال میں پی کیو ای پی سی کو پاور پرچیز ایگریمنٹ (پی پی اے) کی شق 9.10 کے تحت آپریشن معطل کرنے کا قانونی اختیار حاصل ہے، اور اس صورت میں کمپنی پر کسی قسم کا جرمانہ لاگو نہیں ہوگا۔

وانگ نے زور دیا کہ یہ منصوبہ توانائی کی خریداری کی قیمت (ای پی پی) کے لحاظ سے تیل اور آر ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کے مقابلے میں مسابقتی برتری رکھتا ہے، اور اگر بجلی کی پیداوار معطل کی گئی تو یہ دونوں فریقین کے لیے ”نقصان دہ صورتحال“ ہوگی، جس سے ہر صورت بچنا چاہیے۔

انہوں نے مزید خبردار کیا کہ اگر حکومت نے جلد ادائیگیاں نہ کیں تو اس سے قرضوں کے معاہدے کی خلاف ورزی اور حکومت پاکستان کی خود مختار گارنٹی کے تحت ڈیفالٹ کا خطرہ پیدا ہو جائے گا، جو ملک کی مالی ساکھ اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے شدید نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

صورتحال کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے، وانگ نے وزیر خزانہ سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ کریں اور سی پی پی اے-جی کو مطلوبہ فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنائیں، تاکہ پورٹ قاسم منصوبے کے واجبات جلد از جلد ادا کیے جا سکیں۔

یاد رہے کہ وزارت خزانہ چینی آئی پی پیز کو ادائیگی کے لیے ہر ماہ تقریباً 5 ارب روپے سی پی پی اے-جی کو ایک اسکرو اکاؤنٹ کے ذریعے جاری کرتی ہے، جو چینی حکام کے ساتھ ہم آہنگی کے تحت قائم کیا گیا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.