ٹیکس ترمیم: حکومت کل کاروباری برادری سے ملاقات کرے گی، وزیر خزانہ
وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے محاذ آرائی کے بجائے تعمیری مکالمے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت 15 جولائی (منگل) کو کاروباری رہنماؤں سے ملاقات کرے گی تاکہ ٹیکس سے متعلق ترامیم کی وجوہات اور حکومتی مؤقف پر تفصیلی بریفنگ دی جا سکے۔
انہوں نے پیر کو اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی ائی) سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ دباؤ کا معاملہ نہیں ہے، ہم ان سے رابطے میں رہیں گے اور انہیں یہ سمجھائیں گے کہ یہ ترامیم کیوں کی گئیں۔
واضح رہے کہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر کے چیمبرز آف کامرس اور تجارتی تنظیموں نے 19 جولائی کو ملک گیر ہڑتال اور احتجاجی مظاہروں کا اعلان کر رکھا ہے۔
کاروباری برادری کے رہنماؤں کے مطابق حکومت نے مجوزہ ٹیکس اصلاحات، ریٹیل ٹیکس اور دیگر مالیاتی امور پر بات چیت کے لیے مختلف چیمبرز آف کامرس کے صدور اور ایسوسی ایشنز کے عہدیداروں کو اسلام آباد مدعو کیا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کی مالی صورت حال میں بہتری آئی ہے کیونکہ حکومت کو قرض لینے کی ضرورت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ حکومت نے اپنے کچھ قرضے واپس بھی خریدے ہیں، جس سے بینکوں کی لیکویڈیٹی پوزیشن بہتر ہوئی ہے اور نجی شعبے کو قرض فراہم کرنے کی ان کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بینکوں کو صرف ترجیحی شعبوں کو قرض فراہم کرنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ انہیں حکومت کے نجکاری اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے ایجنڈے میں بھی معاونت کرنی چاہیے۔ بینکوں کو اسپانسرز کے ساتھ مل کر بند یا بیمار صنعتی یونٹس کی بحالی کی کوشش کرنی چاہیے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے حالیہ سروے میں مجموعی کاروباری اعتماد میں نمایاں بہتری ظاہر ہوئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال حکومت نے تقریباً 2.3 ارب ڈالر کے واجب الادا منافع جات اور ڈیوڈنڈ واپس بیرونِ ملک منتقل کیے ہیں۔
محمد اورنگزیب نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں جاری ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے سلسلے میں اوورسیز انویسٹرز چیمبر سے تعاون کی درخواست بھی کی۔
سیلز ٹیکس قوانین میں تبدیلیوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹیکس چوروں کے خلاف کارروائی کے دوران کسی بھی غلط استعمال سے بچنے کے لیے نئے سیلز ٹیکس قانون میں حفاظتی اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ٹیکس فائلنگ کے عمل کو آسان بنانا چاہتی ہے، اور اس مقصد کے لیے انفرادی ٹیکس دہندگان کے لیے الیکٹرانک انکم ٹیکس ریٹرن فارم متعارف کرایا گیا ہے۔
ہم اس عمل کو مزید آسان بنانے کیلئے اسٹیک ہولڈرز سے تجاویز طلب کررہے ہیں۔
تنخواہ دار طبقے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت نے دستیاب مالی گنجائش کے اندر رہتے ہوئے ان پر ٹیکس کا بوجھ کم کیا ہے، یہ ہماری جانب سے ایک اشارہ ہے کہ ہم آئندہ مزید ٹیکس میں کمی لانا چاہتے ہیں۔
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ حکومت نے رواں ماہ برآمد کنندگان کو 75 ارب روپے کے سیلز ٹیکس ریفنڈ جاری کیے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں وزیرخزانہ نے کہا کہ حکومت اجناس کی قیمتوں پر ماہانہ بنیادوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ دیگر شعبوں جیسے رئیل اسٹیٹ، زراعت، تھوک کاروبار اور تجارتی برادری کو بھی اب ملکی جی ڈی پی میں اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔
ایک سوال کے جواب میں محمد اورنگزیب نے کہا کہ حالیہ عرصے میں فارماسیوٹیکل شعبے نے شاندار کارکردگی دکھائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بہت اچھا کام کررہے ہیں۔
























Comments
Comments are closed.