فنانس ایکٹ 2025 کے ذریعے متعارف کرائی گئی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی نئی شق — سیکشن 21 (ایس) — کو عملی طور پر نافذ کرنے میں سنگین مشکلات درپیش ہیں کیونکہ قانون کے نافذ ہونے کے 11 روز بعد بھی فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ضروری رہنما ہدایات جاری کرنے میں ناکام رہا ہے جس پر ٹیکس ماہرین نے اس شق کے مؤثر نفاذ کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا ہے۔
فنانس ایکٹ 2025 کے تحت انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 میں سیکشن 21(ایس) کا اضافہ کیا گیا ہے تاکہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دی جا سکے اور دستاویزی معیشت کو فروغ دیا جا سکے۔
تاہم ٹیکس ماہرین کا کہنا ہے کہ اس شق پر مؤثر طریقے سے عملدرآمد ممکن نہیں کیونکہ ایف بی آر کے پاس ایسا کوئی طریقہ کار موجود نہیں جس کے ذریعے وہ اُن اخراجات کا تعین کرسکے جو 2 لاکھ روپے سے زائد کی نقد ادائیگیوں کے ساتھ کی گئی سیلز انوائسز سے متعلق ہوں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ترمیم خاص طور پر فروخت سے متعلق اخراجات کو ہدف بناتی ہے جن میں فریٹ چارجز، مال برداری کی لاگت، کمیشن کی ادائیگیاں اور دیگر تقسیم سے متعلق اخراجات شامل ہیں۔ حد بندی پر مبنی یہ نظام قابل قبول اور قابل سزا لین دین کے درمیان واضح فرق پیدا کرتا ہے۔
نئے فریم ورک کے تحت وہ لین دین متاثر نہیں ہوں گے جن میں ادائیگیاں 2 لاکھ روپے سے کم ہوں۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی ٹیکس دہندہ 1,99,999 روپے مالیت کا مال ایک ہی انوائس کے تحت فروخت کرتا ہے اور نقد ادائیگی وصول کرتا ہے تو چونکہ یہ رقم مقررہ حد سے تجاوز نہیں کرتی، اس لیے اس پر کسی قسم کی عدم منظوری لاگو نہیں ہو گی۔
تاہم، جب لین دین 2 لاکھ روپے کی حد سے تجاوز کرتا ہے تو اس صورت میں سزا کا نظام فعال ہوجاتا ہے۔ اگر کوئی ٹیکس دہندہ 2,00,001 روپے مالیت کا مال ایک ہی انوائس کے تحت فروخت کرتا ہے اور اس کے عوض نقد ادائیگی وصول کرتا ہے، تو اس مخصوص فروخت سے متعلق ظاہر کردہ اخراجات کا 50 فیصد ناقابلِ قبول تصور کیا جائے گا۔ مثال کے طور پر، اگر ٹیکس دہندہ نے ایسی فروخت سے منسلک 30,000 روپے کے اخراجات کا دعویٰ کیا ہے، تو اس میں سے 15,000 روپے اس شق کے تحت ناقابلِ قبول قرار دیے جائیں گے۔
ٹیکس ماہرین نے کہا کہ یہ شق اُن سیلز سے متعلق ظاہر کردہ اخراجات کا 50 فیصد ناقابلِ قبول قرار دیتی ہے، جن کی ادائیگیاں 2 لاکھ روپے سے زائد نقد یا غیر بینکاری ذرائع سے کسی ایک انوائس کے تحت وصول کی گئی ہوں، چاہے وہ ایک یا متعدد لین دین پر مشتمل کیوں نہ ہو۔ تاہم، اس میں یہ وضاحت موجود نہیں کہ اس حد سے تجاوز کرنے والی فروخت سے براہِ راست منسلک اخراجات کا تعین کس طریقے، شرح یا فارمولے سے کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ ابہام ٹیکس دہندگان کو یہ مؤقف اختیار کرنے کا موقع دیتا ہے کہ ایسی فروخت کے لیے براہِ راست منسلک اخراجات نہ ہونے کے برابر ہیں، جس سے اس ترمیم کے مقاصد کمزور ہو سکتے ہیں اور قومی خزانے کو ممکنہ طور پر آمدنی کے نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا اگر واضح رہنما اصول نہ دیے گئے تو کاروباری ادارے اپنے اخراجات کی تقسیم کو اس انداز میں ترتیب دے سکتے ہیں کہ عدم منظوری کی شق کا اثر کم سے کم ہو جائے۔
مزید برآں، ماہرین کا کہنا تھا کہ انفرادی ٹیکس دہندگان پر قانوناً یہ لازم نہیں کہ وہ اپنے اکاؤنٹس کی تصدیق شدہ آڈیٹرز سے آڈٹ کرائیں جبکہ وہ ایسوسی ایشنز آف پرسنز جن کا سالانہ ٹرن اوور 30 کروڑ روپے سے کم ہو، اُن پر بھی قانونی طور پر آڈٹ کروانا لازم نہیں۔ چنانچہ یہ ریگولیٹری خلا مخصوص سیلز سے منسلک اخراجات کی تصدیق اور تصدیق شدہ شواہد کی فراہمی میں عملی مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔
ٹیکس ماہرین کا کہنا تھا کہ عملدرآمد میں درپیش یہ چیلنجز اس شق کو غیر مؤثر اور ممکنہ طور پر الٹا نقصان دہ بناسکتے ہیں، اس سے کاروبار کو دستاویزی تقاضوں پر عمل کرنے کے بجائے سیلز لین دین کو چھپانے کی ترغیب مل سکتی ہے جو معاشی دستاویز کاری کے اصل مقصد کے برعکس غیر رسمی معیشت کو مزید فروغ دے سکتی ہے۔کراچی ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر ریحان جعفری نے ایف بی آر کے طرزِ عمل پر سخت تنقید کرتے ہوئے سیکشن 21(ایس) کے نفاذ کو موجودہ ٹیکس دہندگان کے لیے غیر ضروری ہراسانی قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ شق اُن کاروبار پر کوئی اثر نہیں ڈالے گی جو ٹیکس نظام سے باہر کام کرتے ہیں، صرف نقد لین دین کرتے ہیں اور بینکاری نظام سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔
ریحان جعفری نے کہا کہ یہ شق اُن افراد یا کاروبار پر اثرانداز نہیں ہوگی جو ٹیکس کے دائرہ کار سے باہر ہیں کیونکہ وہ صرف نقد لین دین کرتے ہیں اور ان کا بینکوں سے کوئی تعلق نہیں ہوتے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایف بی آر کو سزا دینے کے بجائے نظام میں اصلاحات لانے چاہئیں، اور سیلز لین دین کی نگرانی و سراغ رسانی کے لیے اپنے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا چاہیے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025






















Comments
Comments are closed.