ترقیاتی بجٹ: وزارت خزانہ نے فنڈز کے اجرا کی حکمت عملی جاری کر دی
- تمام فنڈز کا اجرا (مالی گنجائش کی دستیابی سے مشروط ہو گا
وزارت خزانہ نے مالی سال 26-2025 کے ترقیاتی اور جاری اخراجات کے بجٹ کیلئے فنڈز کے اجرا کی جامع حکمت عملی جاری کر دی ہے، جس کے تحت تمام فنڈز کا اجرا ”فِسکل اسپیس“ (مالی گنجائش) کی دستیابی سے مشروط ہو گا۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ آفس میمورنڈم کے مطابق ترقیاتی بجٹ کے فنڈز کا اجرا فوری طور پر نافذ العمل ہو گا اور آئندہ احکامات تک جاری رہے گا۔ ترقیاتی بجٹ سے فنڈز کی منظوری منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات ڈویژن کی جانب سے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت کی جائے گی، جس کا تقسیم کار سہ ماہی بنیادوں پر یوں ہو گا: پہلی سہ ماہی میں 15 فیصد، دوسری میں 20 فیصد، تیسری میں 25 فیصد اور چوتھی سہ ماہی میں 40 فیصد۔
ملازمین سے متعلق اخراجات اور پنشن کی ادائیگیوں کیلئے ہر سہ ماہی میں 25 فیصد فنڈز جاری کیے جائیں گے، جبکہ تنخواہوں کے علاوہ اخراجات (Non-ERE) کیلئے پہلی سہ ماہی میں 15 فیصد، دوسری اور تیسری میں 25 فیصد، اور چوتھی میں 35 فیصد جاری کیے جائیں گے۔ دفتر و رہائشی عمارات کے کرایہ، پنشن کی کمویوٹڈ ویلیو، ایل پی آر کی نقد ادائیگیاں، اور وزیراعظم امدادی پیکج کیلئے 45 فیصد فنڈز پہلی ششماہی میں اور 55 فیصد دوسری ششماہی میں جاری کیے جائیں گے۔
جاری اخراجات کیلئے مختص فنڈز کی اجرائیگی وزارت خزانہ کی جانب سے گرانٹس اور اپروپری ایشنز کے تحت سہ ماہی بنیادوں پر کی جائے گی: پہلی سہ ماہی میں 20 فیصد، دوسری اور تیسری میں 25 فیصد، جبکہ چوتھی سہ ماہی میں 30 فیصد۔
حکمت عملی کے مطابق وزارت منصوبہ بندی اور متعلقہ پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسرز (پی اے اوز) کو ترقیاتی منصوبوں کے نفاذ میں پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2019 کے اصولوں کی پابندی یقینی بنانی ہو گی۔ وزارت مںصوبہ بندی ڈویژن ہر سہ ماہی میں سیکٹر/منصوبہ/ڈویژن کی بنیاد پر فنڈز کی اجرائی حکمت عملی مرتب کرے گا۔
کوئی بھی تبدیلی بجٹ وِنگ کی منظوری سے مشروط ہو گی۔ فنڈز کے اجرا کے دوران پی اے اوز یہ بھی یقینی بنائیں گے کہ ملازمین سے متعلق اخراجات کے لیے مناسب فنڈز دستیاب ہوں، اور ان فنڈز کو دیگر مدات میں منتقل نہ کیا جائے، جب تک وزارت منصوبہ بندی ڈویژن سے پیشگی اجازت حاصل نہ کی جائے۔
غیر ملکی ادائیگیوں (فارن ایکسچینج) کیلئے تمام پی اے اوز کو مناسب رقوم مختص کر کے وزارت منصوبہ بندی، اقتصادی امور اور وزارت خزانہ کو مطلع کرنا ہو گا۔ ان فنڈز کے اجرا کیلئے وزارت خزانہ کے ایکسٹرنل فنانس وِنگ سے پیشگی منظوری لازمی ہو گی۔ تمام ادائیگیاں پری آڈٹ نظام یا اسائنمنٹ اکاؤنٹ کے ذریعے ہوں گی، اور ہر منصوبے کے لیے علیحدہ اسائنمنٹ اکاؤنٹ کھولا جائے گا۔
اسٹیٹ بینک کے ذریعے براہ راست ادائیگی صرف فنانس سیکرٹری کی منظوری سے کی جائے گی، جیسا کہ 2024 کے کیش مینجمنٹ اینڈ ٹریژری سنگل اکاؤنٹ رولز کے تحت ہے۔
ترقیاتی بجٹ کے اجرا کیلئے کسی قسم کی ویز اینڈ مینز کلیئرنس درکار نہیں ہو گی۔ کوئی بھی ادائیگی مقررہ حدود سے تجاوز نہیں کرے گی، جب تک وزارت خزانہ کی تحریری اجازت نہ ہو۔
وزارت خزانہ سبسڈیز، گرانٹس اور قرضہ جات کا اجرا کیس بائی کیس بنیاد پر کرے گی۔ بین الاقوامی و ملکی معاہدہ شدہ واجبات کی ادائیگی بھی علیحدہ غور کے بعد ہو گی۔
ایڈ ہاک ریلیف الاؤنس 2025 کی ادائیگی کیلئے پی اے اوز کو الگ کاسٹ سینٹر کے تحت اضافی فنڈز دیے گئے ہیں، جن کا 100 فیصد اجرا تیسری سہ ماہی میں کیا جائے گا۔ ان فنڈز کا دوبارہ مختص کرنا وزارت خزانہ کے اخراجات ونگ سے مشاورت سے ہو گی۔
گرانٹس اِن ایڈ کیلئے شرائط میں شامل ہے کہ پی اے اوز متعلقہ خود مختار اداروں کے سالانہ بجٹ کی منظوری یقینی بنائیں اور اس کی تصدیق وزارت خزانہ کو فراہم کریں۔ بجٹ تفصیلات اوبجیکٹ وائس اور آمدنی سمیت فراہم کی جائیں۔ گرانٹس کی فراہمی نتائج و کارکردگی سے مشروط ہو گی اور یہ عارضی بنیادوں پر کی جائے گی۔
سبسڈیز کیلئے فنڈز کی سہ ماہی بنیاد پر منصوبہ بندی کی جائے گی، جسے بجٹ وِنگ کی منظوری سے روبہ عمل لایا جائے گا۔ کسی بھی انحراف کی صورت میں منظوری لازمی ہو گی۔
قرضہ جات و سرمایہ کاری کیلئے فنڈز کا اجرا تب ہو گا جب تمام واجبات وفاقی حکومت کو واپس ادا کیے جا چکے ہوں۔ بصورت دیگر وزارت خزانہ واجبات کی وصولی براہ راست کرے گا اور اجرا صرف فنانس سیکرٹری کی منظوری سے ممکن ہو گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.