منگل کے روز عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی، کیونکہ سرمایہ کاروں نے امریکہ کی جانب سے نئے ٹیرف کے اعلانات اور اگست کے لیے اوپیک پلس کی توقع سے زیادہ پیداوار میں اضافے کے اثرات کا جائزہ لیا۔
برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت 21 سینٹ کمی کے ساتھ فی بیرل 69.37 ڈالر پر آ گئی، جب کہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ کی قیمت 24 سینٹ کمی کے ساتھ 67.69 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز ایک نئے مرحلے کا آغاز کرتے ہوئے اپنے تجارتی شراکت داروں—جن میں جنوبی کوریا، جاپان جیسے بڑے تیل فراہم کنندگان اور سربیا، تھائی لینڈ اور تیونس جیسے چھوٹے برآمد کنندگان شامل ہیں—کو آگاہ کیا کہ یکم اگست سے امریکی ٹیرف میں نمایاں اضافہ کیا جائے گا۔ یہ اقدام رواں سال کے اوائل میں شروع کی گئی تجارتی جنگ کو مزید شدت دے گا۔
ٹرمپ کے اس فیصلے سے عالمی منڈی میں غیر یقینی کی فضا پیدا ہو گئی ہے، اور ماہرین کو خدشہ ہے کہ اس سے عالمی معیشت پر منفی اثر پڑ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی طلب میں بھی کمی آسکتی ہے۔
تاہم، بعض اشارے ایسے بھی ہیں جو بتاتے ہیں کہ اس وقت تیل کی طلب بالخصوص امریکہ میں مستحکم ہے، جو دنیا کا سب سے بڑا تیل استعمال کرنے والا ملک ہے۔ یہی مضبوط طلب قیمتوں کو سہارا دے رہی ہے۔
گزشتہ ہفتے ٹریول گروپ اے اے اے کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق، یوم آزادی (فورتھ آف جولائی) کی تعطیلات کے دوران 72.2 ملین امریکی شہری 50 میل (80 کلومیٹر) سے زیادہ سفر کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، جو کہ ایک نیا ریکارڈ ہے۔
سرمایہ کاروں نے تعطیلات سے قبل تیل کی قیمتوں میں اضافے کی توقع کی تھی۔ امریکی کموڈیٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن کے پیر کو جاری کردہ ڈیٹا کے مطابق، یکم جولائی تک ختم ہونے والے ہفتے میں منی مینیجرز نے خام تیل کے فیوچرز اور آپشنز میں اپنی نیٹ لانگ پوزیشنز میں اضافہ کیا۔
تیل کی فراہمی کے حوالے سے، ہفتے کے روز تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) اور اس کے اتحادیوں، جنہیں اوپیک پلس کہا جاتا ہے، نے اگست کے لیے پیداوار میں 548,000 بیرل یومیہ اضافے کا اعلان کیا۔ یہ اضافہ گزشتہ تین ماہ میں ہونے والے 411,000 بیرل یومیہ اضافے سے زیادہ ہے۔
اس فیصلے کے تحت اوپیک پلس کی جانب سے اپنائی گئی 2.2 ملین بیرل یومیہ رضاکارانہ کٹوتی میں سے بیشتر ختم کر دی جائے گی۔ معروف مالیاتی ادارے گولڈمین سیکس کے تجزیہ کاروں کے مطابق،اوپیک پلس اگلے اجلاس میں، جو 3 اگست کو متوقع ہے، ستمبر کے لیے 550,000 بیرل یومیہ کے حتمی اضافے کا اعلان کر سکتا ہے۔
تاہم، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اب تک جو حقیقی پیداوار ہوئی ہے وہ اعلان کردہ سطح سے کم رہی ہے، اور زیادہ تر اضافی رسد سعودی عرب کی جانب سے آئی ہے۔
یہ عوامل مل کر نہ صرف قیمتوں پر اثر ڈال رہے ہیں بلکہ عالمی توانائی مارکیٹ میں توازن کے لیے آئندہ مہینے اہم ثابت ہوں گے۔
























Comments
Comments are closed.