اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) نے ایک اہم پیشرفت میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو متنازع ٹیکس قوانین (ترمیمی) آرڈیننس 2025 کے تحت ٹیکس دہندگان سے فوری ریکوری سے روک دیا ہے۔
اس حوالے سے منگل کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیوں (درخواست گزاران) کے حق میں حکم جاری کیا۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے بھی ایف بی آر کو واضح طور پر آگاہ کیا ہے کہ حکومت نے ٹیکس قوانین (ترمیمی) آرڈیننس 2025 نافذ کرنے میں پارلیمنٹ کو نظر انداز کیا، اور یہ آرڈیننس فوری طور پر ایف بی آر کے فیلڈ دفاتر کو ٹیکس دہندگان سے ریکوری کے لیے ارسال کر دیا گیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق، عدالت نے ایف بی آر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کیا ہے، اور اس دوران ایف بی آر درخواست گزاروں کے خلاف کوئی زبردستی کا اقدام نہ کرے۔
درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ٹیکس قوانین (ترمیمی) آرڈیننس 2025، جو 2 مئی 2025 کو نافذ کیا گیا، کو آئین سے متصادم اور ابتدا سے ہی کالعدم قرار دیا جائے۔
درخواست گزاروں نے مزید مؤقف اختیار کیا ہے کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 (ترمیم شدہ) کی دفعات 138 (3اے)، 140(6اے)، 175 سی اور فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 کی دفعہ 27 (4) آئین کے آرٹیکلز 4، 8، 10-اے، 18 اور 25 سے متصادم ہیں، لہٰذا انہیں کالعدم قرار دیا جائے۔
عدالت سے یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ وہ ٹیکس قوانین (ترمیمی) آرڈیننس 2025 کے اطلاق کو اس درخواست کے فیصلے تک معطل کرے اور ایف بی آر کو اس وقت تک کسی بھی زبردستی کے اقدام سے روکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.