وفاقی بجٹ کے کلیدی اشاریوں میں سے ایک بجٹ خسارے کی جزوی مالی اعانت کے لیے متوقع بیرونی فنانسنگ کی سطح ہے۔ مالی سال 25-2024 کے لیے یہ توقع کی گئی تھی کہ وفاقی حکومت کے اکاؤنٹ میں بیرونی ذرائع سے (رول اوورز کے علاوہ) تقریباً 10.3 ارب ڈالر کی آمد ہوگی۔ قرضوں کی ادائیگی کے بعد خالص فنانسنگ کی مالیت 2.3 ارب ڈالر ہونی تھی۔
وزارت اقتصادی امور نے حال ہی میں اپریل 2025 کے اختتام تک حاصل ہونے والی مجموعی آمدنی کی رپورٹ جاری کی ہے۔ یہ آمدنی 5.7 ارب ڈالر تک پہنچ سکی ہے، جو سالانہ ہدف کا صرف 55 فیصد بنتی ہے۔ اپریل کے آخر تک یہ سطح 83 فیصد ہونی چاہیے تھی۔
سب سے بڑی کمی کمرشل قرضوں میں دیکھنے میں آئی ہے۔ اس مد میں ہدف 3.8 ارب ڈالر مقرر کیا گیا تھا، جب کہ اب تک حاصل شدہ قرضے 0.8 ارب ڈالر سے بھی کم ہیں۔ پاکستان کو قرض دینے سے متعلق بڑھتے ہوئے خطرات کے باعث نجی قرض دہندگان نے پاکستان کو قرض دینے میں کمی کر دی ہے، جو حیران کن نہیں ہے۔
البتہ حیران کن بات یہ ہے کہ کثیرالجہتی ترقیاتی اداروں سے حاصل ہونے والی فنانسنگ میں بھی خاصی کمی دیکھنے کو ملی ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) اپنی سالانہ وعدوں کے 76 فیصد کے ساتھ تقریباً ہدف کے قریب ہے، لیکن ورلڈ بینک سے آمدن میں خاصا فقدان ہے، جہاں اپریل تک صرف 51 فیصد ہدف حاصل ہو سکا ہے۔
17 مئی کو آئی ایم ایف پروگرام کے پہلے جائزے کے بعد شائع ہونے والی اسٹاف رپورٹ میں 25-2025 کے اختتام تک متوقع بیرونی فنانسنگ کے تخمینے شامل کیے گئے ہیں۔
ان آئی ایم ایف تخمینوں میں پاکستان کے نجی شعبے کے لیے درکار فنانسنگ کی ضروریات بھی شامل ہیں۔ اچھی خبر یہ ہے کہ ان تخمینوں کے مطابق مجموعی آمدنی (جس میں رول اوورز شامل ہیں) 18.9 ارب ڈالر ہوگی، جو قرضوں کی ادائیگی کی ضروریات سے 2.5 ارب ڈالر زائد ہے۔
یہ بھی توقع کی جا رہی ہے کہ مالی سال 25-2024 کے اختتام تک اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں 4.5 ارب ڈالر کا اضافہ ہوگا، جن میں سے 2 ارب ڈالر آئی ایم ایف سے ملنے والی رقم پہلے ہی موصول ہو چکی ہے۔
لہٰذا یہ پیش گوئی کی گئی ہے کہ جون 2025 کے آخر تک زرمبادلہ کے ذخائر 14 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے، جو 2.8 ماہ کی درآمدی ضروریات کا احاطہ کریں گے اور پاکستان کو نسبتاً محفوظ مالی حالت میں لے آئیں گے۔
تاہم، یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ 25-2024 میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور قرضوں کی فنانسنگ دونوں میں شامل بیرونی آمدن میں نمایاں کمی آئے گی۔ آئی ایم ایف کے تخمینے کے مطابق پاکستان کو 25-2024 میں مجموعی طور پر 20.9 ارب ڈالر کی بیرونی فنانسنگ حاصل ہوگی، جو پچھلے سال (24-2023) کے 26.3 ارب ڈالر کے مقابلے میں 23 فیصد کم ہے۔
اب مالی سال 26-2025 کے امکانات کا جائزہ لیتے ہیں۔ بیرونی فنانسنگ کی پہلی ضرورت کرنٹ اکاؤنٹ کے خسارے یا سرپلس کی سطح ہوتی ہے۔ آئی ایم ایف اسٹاف رپورٹ میں 1.5 ارب ڈالر کے معمولی خسارے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
برآمدات میں 5.4 فیصد اضافہ متوقع ہے، جب کہ درآمدات میں 3.4 فیصد اضافے کا تخمینہ ہے۔ امریکہ کی جانب سے ٹیرف میں اضافے کے اعلان کے بعد عالمی تجارت میں پیدا ہونے والی بے یقینی عالمی تجارتی حجم پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ اس کے علاوہ کپاس اور گندم جیسی اہم فصلوں کی پیداوار میں کمی زرعی درآمدات کے حجم کو بڑھائے گی۔ اور اگر 3.6 فیصد کی شرح سے جی ڈی پی کی ترقی کا ہدف حاصل کرنا ہو تو اس کے لیے خام مال اور سرمایہ جاتی اشیا کی درآمد میں بھی اضافہ ناگزیر ہوگا۔
آئی ایم ایف نے ترسیلات زر کے حجم سے متعلق محتاط رویہ اختیار کیا ہے۔ توقع ہے کہ وہ 25-2024 میں 20 فیصد تک بڑھیں گی، اور یہی اضافہ کرنٹ اکاؤنٹ کو تقریباً متوازن رکھنے کا سبب بن رہا ہے۔ تاہم 26-2025 میں ان میں معمولی کمی کی توقع ہے۔ اسی طرح منافع کی واپسی اور سود کی ادائیگی میں صرف 3 فیصد اضافے کی توقع کی جا رہی ہے، لیکن سرمایہ کاری سے متعلق خطرات بڑھنے کی وجہ سے منافع کی واپسی کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
مجموعی طور پر 26-2025 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 4 ارب ڈالر تک پہنچنے کا خدشہ ہے، جو جی ڈی پی کے تقریباً 1 فیصد کے برابر ہوگا۔ آئی ایم ایف کے بقیہ ادائیگیوں کے توازن سے متعلق تخمینے 26-2025 میں روپے کی دو عددی شرح سے قدر میں کمی کی بنیاد پر بنائے گئے ہیں۔
بیرونی قرضوں (سرکاری و نجی دونوں) کی ادائیگی کی متوقع سطح میں بھی تقریباً 18 فیصد اضافہ متوقع ہے، جو 25-2024 میں 14.7 ارب ڈالر سے بڑھ کر 26-2025 میں 17.3 ارب ڈالر ہو جائے گا۔ خوش قسمتی سے، آئی ایم ایف کو ادائیگیوں میں تقریباً 1 ارب ڈالر کی کمی آئے گی۔
اگر فنانسنگ کی دستیاب صورتحال پر نگاہ ڈالیں تو آئی ایم ایف نے 26-2025 میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے متعلق بھی محتاط رویہ اختیار کیا ہے۔ تخمینہ ہے کہ یہ 25-2024 کے برابر یعنی 2.1 ارب ڈالر رہے گی۔ لیکن جنوبی ایشیا میں سکیورٹی کی کشیدہ صورتحال کے سبب ممکن ہے کہ سرمایہ کاری مؤخر کر دی جائے۔
آئی ایم ایف 26-2025 میں قرضوں کی تقسیم میں بھی کسی بڑے اضافے کی توقع نہیں کر رہا۔ اس سال ان کی مالیت 17 ارب ڈالر متوقع ہے، جب کہ 25-2024 میں یہ 16.7 ارب ڈالر تھی۔
مجموعی طور پر آئی ایم ایف کے تخمینے اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ 26-2025 میں دستیاب بیرونی فنانسنگ کا حجم تقریباً اسی سطح پر ہوگا جو کل متوقع ضرورت یعنی 19.3 ارب ڈالر کے برابر ہے۔ یہ صورتحال 25-2024 کے برعکس ہے، جہاں آئی ایم ایف کے علاوہ ذرائع سے 2.5 ارب ڈالر کا سرپلس متوقع ہے۔
ان تخمینوں کی بنیاد یہ مفروضہ ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام 26-2025 میں بھی بغیر کسی تعطل کے جاری رہے گا۔ سال کے دوران دو جائزے کامیابی سے مکمل ہوں گے، اور پاکستان مقداری کارکردگی کے اہداف حاصل کرے گا اور اصلاحات کے متفقہ ایجنڈے پر عمل درآمد کرے گا۔
اگر آئی ایم ایف پروگرام بغیر رکاوٹ کے جاری رہا تو 26-2025 میں آئی ایم ایف سے 2 ارب ڈالر قرض کی فراہمی متوقع ہے۔ اس کے علاوہ آئی ایم ایف کے “ریزیلینس فیسلٹی “ سے کچھ اضافی فنانسنگ بھی ممکن ہے، جسے ابھی تک ان تخمینوں میں شامل نہیں کیا گیا۔ مجموعی طور پر، پاکستان کے ذخائر میں 2 ارب ڈالر کا اضافہ متوقع ہے، جب کہ دیگر ممکنہ ذرائع سے 1.4 ارب ڈالر مزید حاصل ہو سکتے ہیں۔
خلاصہ یہ کہ ان آئی ایم ایف تخمینوں کے مطابق 26-2025 میں بیرونی فنانسنگ کے حصول کے لیے خطرات اور غیر یقینی کی سطح خاصی بلند ہے۔ اگر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ جائے یا دفاعی سازوسامان کی درآمد میں اضافہ ہو تو ضرورت اس سے زیادہ ہو سکتی ہے ۔ سکیورٹی صورتحال کے باعث براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ان تمام خدشات کے باوجود پاکستان کو آئی ایم ایف پروگرام کے دائرے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ جاری رکھنا ہوگا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.