وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے منصوبوں پر پیشرفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس جمعرات، 8 مئی کو طلب کیا ہے۔ اجلاس کے ایجنڈے میں سی پیک منصوبوں میں تیسرے فریق کی شمولیت کے طریقہ کار پر غور بھی شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق، منصوبہ بندی کی وزارت نے متعلقہ وزارتوں کو اجلاس کا مجوزہ ایجنڈا ارسال کر دیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ متعلقہ سیکریٹریز خود اجلاس میں شرکت کریں۔
اجلاس کے ایجنڈا کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
-
قراقرم ہائی وے (کے کے ایچ) منصوبہ: پاکستانی وفد، جس کی قیادت چیئرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) نے کی، نے 14 سے 17 اپریل 2025 کے دوران بیجنگ میں چینی وزارتِ ٹرانسپورٹ اور مالیاتی اداروں سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں قراقرم ہائی وے فیز 2 کی تکمیل کے لیے منصوبہ بندی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزارت مواصلات، اقتصادی امور ڈویژن (ای اے ڈی) اور بیجنگ میں پاکستانی مشن اجلاس کے نتائج پر بریفنگ دیں گے۔
-
سی پیک جے سی سی اور جے ڈبلیو جی اجلاسوں کا شیڈول: پاکستانی سفارتخانے نے 2025 کے لیے جے سی سی اور مختلف جے ڈبلیو جی اجلاسوں کا کلینڈر تجویز کیا ہے۔ 14واں جے سی سی اجلاس جولائی 2025 میں متوقع ہے۔ اس کے پیش نظر اپریل/مئی کے دوران جے ڈبلیو جی اجلاسوں کی تکمیل ضروری ہے۔ متعلقہ ورکنگ گروپس اجلاسوں کی تیاریوں پر اپڈیٹ دیں گے۔
-
تیسرے فریق کی سی پیک میں شمولیت: وزارتِ خارجہ نے چین کے ساتھ تیسرے فریق کی شمولیت کے اصولوں پر معاہدہ کیا ہے۔ اجلاس میں وزارت خارجہ ان نکات پر بریفنگ دے گی۔
-
زرعی تعاون پر چوتھا جے ڈبلیو جی اجلاس: 22 اپریل 2025 کو بیجنگ میں زرعی تعاون سے متعلق جے ڈبلیو جی کا اجلاس ہوا۔ وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اس اجلاس کی تفصیلات پیش کرے گی۔
-
زرعی مشینری کی تقسیم: 79ویں سی پیک پیشرفت اجلاس میں وزارتِ خوراک کو فوری طور پر زرعی آلات کی تنصیب و تقسیم کی ہدایت دی گئی تھی۔ یہ تقریب 28 اپریل 2025 کو نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر میں ہوئی۔ اجلاس میں تقسیم کے طریقہ کار کی اپڈیٹ دی جائے گی۔
-
گوادر میں 1.2 ایم جی ڈی ڈیسالینیشن پلانٹ کو فعال کرنا: منصوبہ دسمبر 2023 میں مکمل ہوا، مگر بجلی کی کمی کے باعث پلانٹ فعال نہ ہو سکا۔ 21 اپریل 2025 کے اجلاس میں کیسکو اور جی پی اے کو نیوی کی آزاد فیڈر سے عارضی بجلی فراہمی کی ہدایت دی گئی۔ پاور ڈویژن اور جی پی اے اس پر پیشرفت بتائیں گے۔
-
سی پیک کے خصوصی اکنامک زونز کو بجلی کی فراہمی: کابینہ کمیٹی کی منظوری کے باوجود اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ پاور ڈویژن اور نیپرا صورتحال پر اپڈیٹ دیں گے۔
-
بلوچستان میں 15,000 گھریلو سولر یونٹس کی تنصیب: حکومت بلوچستان نے صرف جزوی فہرست فراہم کی ہے۔ اجلاس میں باقی فہرست اور عمل درآمد پر پیشرفت بتائی جائے گی۔
-
زرعی نمائشی اسٹیشنوں کے آلات: اجلاس میں ہدایت کی گئی تھی کہ تمام اسٹیک ہولڈرز دو منٹ کی ویڈیوز فراہم کریں۔ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی حکومتیں تنصیب کی اپڈیٹ دیں گی۔
-
گوادر فری زون میں ہینگنگ کمپنی کی گاڑیوں پر ٹیکس چھوٹ: کمپنی نے تین گاڑیاں درآمد کی ہیں اور چھوٹ کی درخواست کی ہے۔ ایف بی آر وضاحت کرے گا کہ آیا یہ گاڑیاں چھوٹ کی پالیسی میں آتی ہیں یا نہیں۔
وزارت منصوبہ بندی نے 6 مئی 2025 کو اجلاس کا ایجنڈا جاری کیا، تاہم بھارت اور پاکستان کے مابین موجودہ کشیدگی کے پیش نظر اجلاس کے انعقاد پر غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025
























Comments
Comments are closed.