جنوبی ایشیا کے دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال میں، پاکستان نے بدھ کے روز اپنی مسلح افواج کو بھارت کی جانب سے پاکستان کے شہری علاقوں پر کیے گئے بلا اشتعال، بزدلانہ اور غیر قانونی فضائی حملوں کا بھرپور جواب دینے کی اجازت دے دی۔
یہ اعلان وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سول اور عسکری قیادت پر مشتمل قومی سلامتی کمیٹی (این ایس سی) کے ہنگامی اجلاس کے بعد سامنے آیا۔
این ایس سی کے اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، بھارتی افواج نے 6 اور 7 مئی کی درمیانی رات میزائل، فضائی اور ڈرون حملے کیے، جن میں پنجاب کے شہروں سیالکوٹ، شکرگڑھ، مریدکے اور بہاولپور، جبکہ آزاد جموں و کشمیر میں کوٹلی اور مظفرآباد کو نشانہ بنایا گیا۔
ان حملوں کے نتیجے میں عام شہری، جن میں مرد، خواتین اور بچے شامل تھے، شہید ہوئے جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔ کئی مساجد اور شہری انفرا اسٹرکچر کو نقصان پہنچا، جبکہ ایک اہم قومی اثاثہ نیلم-جہلم ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی حملے کا نشانہ بنا۔
این ایس سی نے بھارت کے اس اقدام کو ”جنگی جارحیت“ قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ 51 کے تحت اپنے دفاع کے حق کو محفوظ رکھنے کا اعلان کیا، جو کسی ریاست کو اپنی خود مختاری کے تحفظ کے لیے اقدامات کا اختیار دیتا ہے۔
کمیٹی نے مزید کہا کہ پاک فضائیہ (پی اے ایف) نے فوری ردعمل دیتے ہوئے بھارت کے پانچ جنگی طیارے مار گرائے، جن میں فرانس سے درآمد کردہ رافیل طیارے بھی شامل تھے، جو بھارت کے لیے فخر کا باعث سمجھے جاتے ہیں، جبکہ ایک ڈرون بھی تباہ کیا گیا۔
بھارت نے ان حملوں کا جواز پاکستانی حدود میں دہشت گرد کیمپوں کی موجودگی کو قرار دیا، جسے پاکستان نے سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس نے 22 اپریل کے واقعے کے بعد شفاف، غیرجانبدار اور معتبر بین الاقوامی تحقیقات کی پیشکش کی تھی، جسے بھارت نے قبول نہیں کیا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ غیر ملکی صحافیوں کو مبینہ مقامات کا دورہ کرانے کی دعوت دی گئی تھی، جو 6 مئی کو دورہ کر چکے تھے جبکہ 7 مئی کو مزید دوروں کی منصوبہ بندی کی گئی تھی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان مقامات پر کسی قسم کے دہشت گرد کیمپ موجود نہیں۔
این ایس سی کے اعلامیے میں کہا گیا کہ “بھارتی قیادت جو اخلاقیات سے عاری ہو چکی ہے، اب معصوم شہریوں پر حملوں جیسے اقدامات تک جا پہنچی ہے تاکہ اپنے ذہنی فریب اور قلیل المدتی سیاسی مقاصد کو حاصل کر سکے۔
این ایس سی نے خبردار کیا کہ بھارتی جارحیت نے بین الاقوامی سول ایوی ایشن کو شدید خطرے سے دوچار کر دیا ہے، کیونکہ ان حملوں کے دوران خلیجی ممالک کے کئی مسافر بردار طیارے اس فضائی حدود میں پرواز کر رہے تھے۔
کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ غیر مسلح شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قوانین اور بنیادی انسانی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ”اپنے معصوم شہریوں پر حملہ پاکستان کے لیے کسی صورت قابلِ قبول یا قابلِ برداشت نہیں۔“ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آئندہ کسی بھی مزید کشیدگی کی تمام تر ذمہ داری بھارت پر عائد ہو گی۔
اجلاس کے دوران ایک پُر وقار انداز میں شہداء کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی اور ان کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا گیا۔
حکومت نے پاک فوج کی فوری دفاعی کارروائی کو سراہا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پوری قوم متحد ہے اور کسی بھی مزید جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ قوم مکمل طور پر متحرک ہے۔
اعلامیے کے آخر میں کہا گیا: “پاکستان وقار اور عزت کے ساتھ امن کا خواہاں ہے، لیکن وہ اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت یا اپنی غیور عوام کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.