سیمنٹ کمپنیوں کے لیے خوشی منانے کی کافی وجوہات موجود ہیں کیونکہ مالی سال 2025 کی تیسری سہ ماہی میں ٹیکس کٹوتی کے بعد ان کے مشترکہ منافع میں 2.2 گنا اضافہ ہوا ہے۔ پہلی ششماہی میں مجموعی منافع میں 31 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سال کے باقی مہینے سیمنٹ کمپنیوں کے لیے قدرے آسان ہوں گے، اگرچہ کچھ کمپنیوں نے اس موقع سے زیادہ فائدہ اٹھایا ہے۔
اس بار منافع میں اضافے کا بنیادی سبب—جیسا کہ اکثر پچھلی سہ ماہیوں میں ہوتا رہا ہے—قیمتوں میں اضافہ نہیں بلکہ طلب میں بتدریج بہتری ہے۔ تیسری سہ ماہی میں حجم میں 4 فیصد اضافہ ہوا؛ فروخت کی گئی 1 کروڑ 10 لاکھ ٹن میں سے 16 فیصد برآمدات پر مشتمل تھیں جن میں 19 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ اگرچہ ملکی ترسیلات میں بھی سست روی سے اضافہ ہو رہا ہے، تاہم برآمدات نے مجموعی طور پر توازن کو کچھ حد تک بہتر کیا۔
اگرچہ قیمتوں میں اتار چڑھاؤ رہا اور قیمتیں زیادہ تر اوپر ہی رہی ہیں، لیکن 16 لسٹڈ سیمنٹ کمپنیوں کے لیے فی ٹن آمدنی میں اوسطاً صرف 2 فیصد اضافہ ہوا۔ جس چیز نے مارجن میں بہتری لائی، وہ تھی اوسط لاگت میں کمی جو مالی سال 25 کی تیسری سہ ماہی میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 2 فیصد کم رہی۔ اس سے مجموعی مارجن 26 فیصد سے بڑھ کر 29 فیصد تک پہنچ گیا۔
پہلی ششماہی مالی سال 25 میں مجموعی مارجن میں 31 فیصد اضافہ دیکھنے کو ملا کیونکہ اس مدت کے دوران کمپنیوں کے لیے برقرار رکھی گئی قیمتوں نے بہتر کارکردگی دکھائی۔ مثال کے طور پر، اس وقت فی ٹن آمدنی میں سالانہ 8 فیصد اضافہ ہوا جبکہ لاگت میں صرف 2 فیصد اضافہ ہوا۔ اس سے نیٹ مارجن 16 فیصد پر جا پہنچا۔ جبکہ مالی سال 24 کی تیسری سہ ماہی میں نیٹ مارجن غیر معمولی طور پر 23 فیصد رہا۔
لکی اور میپل لیف سیمنٹ نے اس نمایاں اضافہ میں اہم کردار ادا کیا کیونکہ ان کی دیگر آمدن میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ دونوں کمپنیوں کے لیے نیٹ مارجن مجموعی مارجن سے کہیں زیادہ تھا کیونکہ دیگر آمدن نے نہ صرف ان کے اخراجات پورے کیے بلکہ باٹم لائن(مجموعی آمدن) کو بھی خاصی تقویت دی۔ مثال کے طور پر، اس سہ ماہی کے دوران لکی کی دیگر آمدن مجموعی آمدن کا 36 فیصد اور قبل از ٹیکس آمدن کا 64 فیصد رہی جبکہ میپل لیف کے لیے یہ اعداد و شمار بالترتیب 34 فیصد اور 65 فیصد رہے۔
دونوں کمپنیوں نے مجموعی طور پر 16 سیمنٹ کمپنیوں کے کل منافع کا تقریباً 55 فیصد حصہ حاصل کیا۔ یہ مقام لکی کے لیے زیادہ اعتماد بخش ہے، جبکہ میپل لیف کے لیے ایک نئی رفتار فراہم کرتا ہے جو اب تک درمیانے درجے میں شمار ہوتی رہی ہے۔
اگر صرف ایبی ٹا (ای بی آئی ٹی ڈی اے) کو مدنظر رکھا جائے تو مجموعی ترقی 16 فیصد بنتی ہے جو کہ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے قابل ذکر ہے کہ اس سہ ماہی میں آمدن میں صرف 6 فیصد اضافہ ہوا۔ زیادہ تر سیمنٹ کمپنیوں کا بنیادی کاروبار پانی کے اوپر چل رہا ہے، اور جہاں بھی ملکی منڈیوں میں سستی آتی ہے، برآمدات قیادت سنبھال لیتی ہیں۔
مجموعی اخراجات کو قابو میں رکھا گیا ہے (آمدن کا 6 فیصد) جبکہ مالی اخراجات نمایاں طور پر کم ہوئے ہیں جو کہ آمدن کے 7 فیصد سے گھٹ کر 4 فیصد ہو گئے ہیں، جس نے زیادہ تر سیمنٹ کمپنیوں کے منافع کو مزید سہارا دیا۔
جیسے جیسے طلب بحال ہو رہی ہے، سیمنٹ کمپنیاں پائیدار منافع کے لیے بہتر پوزیشن میں ہیں، خواہ وہ پاکستان کمپیٹیشن کمیشن (سی سی پی) کی جانب سے عائد کردہ جرمانے یا سزائیں ہی کیوں نہ ادا کریں، جو کہ قیمتوں کے تعین کے مبینہ گٹھ جوڑ سے متعلق 2009 کا پرانا مقدمہ ہے جو حالیہ دنوں میں دوبارہ منظر عام پر آیا ہے۔ واضح رہے کہ سیمنٹ ایسوسی ایشن اب بھی ان الزامات کو چیلنج کر رہی ہے۔






















Comments
Comments are closed.