BR100 Increased By (0.71%)
BR30 Increased By (0.99%)
KSE100 Increased By (0.44%)
KSE30 Increased By (0.44%)
BAFL 58.63 Increased By ▲ 0.19 (0.33%)
BIPL 25.51 Increased By ▲ 0.31 (1.23%)
BOP 34.35 Increased By ▲ 0.36 (1.06%)
CNERGY 8.13 Increased By ▲ 0.02 (0.25%)
DFML 20.96 Increased By ▲ 0.12 (0.58%)
DGKC 194.90 Increased By ▲ 1.93 (1%)
FABL 89.90 Increased By ▲ 0.11 (0.12%)
FCCL 53.53 Increased By ▲ 0.70 (1.33%)
FFL 18.11 Increased By ▲ 0.16 (0.89%)
GGL 19.38 Increased By ▲ 0.41 (2.16%)
HBL 286.14 Increased By ▲ 0.64 (0.22%)
HUBC 214.98 Increased By ▲ 0.60 (0.28%)
HUMNL 10.88 No Change ▼ 0.00 (0%)
KEL 8.08 Increased By ▲ 0.06 (0.75%)
LOTCHEM 27.89 No Change ▼ 0.00 (0%)
MLCF 87.39 Increased By ▲ 0.88 (1.02%)
OGDC 322.57 Increased By ▲ 2.61 (0.82%)
PAEL 40.00 Increased By ▲ 0.58 (1.47%)
PIBTL 17.02 Increased By ▲ 0.35 (2.1%)
PIOC 270.15 Increased By ▲ 4.09 (1.54%)
PPL 230.00 Increased By ▲ 1.82 (0.8%)
PRL 34.86 Increased By ▲ 0.18 (0.52%)
SNGP 99.00 Decreased By ▼ -0.18 (-0.18%)
SSGC 26.82 Increased By ▲ 0.22 (0.83%)
TELE 8.63 Increased By ▲ 0.35 (4.23%)
TPLP 8.65 Increased By ▲ 0.43 (5.23%)
TRG 69.89 Increased By ▲ 0.18 (0.26%)
UNITY 11.70 Increased By ▲ 0.03 (0.26%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)

وفاقی حکومت نے ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک کو قومی سلامتی کا نیا مشیر مقرر کردیا ہے۔

واضح رہے کہ یہ پوسٹنگ ایسے وقت میں کی گئی ہے جب حال ہی میں پہلگام حملے کے بعد بھارت کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک پاکستان کی تاریخ میں پہلے حاضر سروس آئی ایس آئی سربراہ بن گئے ہیں جنہیں بیک وقت قومی سلامتی کے مشیر (ایس ایس اے) کا عہدہ بھی سونپا گیا ہے —ایک ایسا منصب جو روایتی طور پر ریٹائرڈ فوجی افسران یا سول اسٹریٹیجک ماہرین کے سپرد کیا جاتا رہا ہے ۔

لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک نے سال 2023 کے آخر میں آئی ایس آئی کی کمان سنبھالی تھی اور وہ عسکری اسٹیبلشمنٹ میں ایک اہم شخصیت سمجھے جاتے ہیں، جنہیں انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں، انٹیلیجنس امور اور اسٹریٹیجک منصوبہ بندی میں وسیع تجربہ حاصل ہے۔

ان کی دہری تقرری علاقائی جغرافیائی سیاست کے حساس موڑ پر سامنے آئی ہے اور اسے انٹیلی جنس اور قومی سلامتی کی پالیسی سازی کے درمیان بڑھتی ہوئی ہم آہنگی اور مربوط حکمت عملی کی علامت قرار دیا جارہا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.