خام تیل کی مارکیٹوں کو ایک شدید ایڈجسٹمنٹ کا سامنا ہے، جہاں برینٹ کی قیمتیں اس ہفتے 66 ڈالر فی بیرل سے نیچے گر گئی ہیں — جو اپریل کے شروع کے بلند ترین سطح سے تقریباً 20 فیصد کمی ہے۔ اس کمی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ جیو پولیٹیکل پریمیم، جو مہینوں سے قیمتوں کو سہارا دے رہا تھا، اب میکرو اکنامک مایوسی کے ہاتھوں شکست کھا چکا ہے۔
تیل کی مارکیٹ اب قلت کے بجائے کم ہوتی طلب اور سیاسی خطرات کی عکاسی کر رہی ہے۔
اس تبدیلی کے مرکز میں سعودی عرب ہے۔ ریاض کے بیانات میں ایک لطیف مگر اہم تبدیلی نظر آ رہی ہے۔ اگرچہ بادشاہت اب بھی رسمی طور پر اوپیک پلس کی پیداواری پابندیوں کے ساتھ ہے، لیکن اشارے مل رہے ہیں کہ اب اس کی ترجیحات قیمتوں کے بچاؤ کے بجائے مارکیٹ شیور کو برقرار رکھنے کی طرف مائل ہو سکتی ہیں۔ دنیا کا سب سے بڑا تیل برآمد کنندہ ایشیا کی اہم مارکیٹس میں روس اور ایران کے رعایتی تیل کے باعث طویل مدتی طلب کھونے کے حوالے سے فکرمند نظر آ رہا ہے۔ یہ تشویش اس لیے اور بڑھ گئی ہے کیونکہ چین کے ریفائنریز سعودی تیل خریدنے میں زیادہ دلچسپی نہیں دکھا رہے، بلکہ وہ روس اور ایران جیسے متبادل سپلائرز پر انحصار بڑھا رہے ہیں۔
دریں اثنا، اوپیک پلس اتحاد متضاد مجبوریوں کے درمیان پھنسا ہوا ہے۔ ایک طرف تو گزشتہ مہینوں میں مشترکہ سپلائی کنٹرول نے قیمتوں کو مستحکم رکھنے میں مدد دی ہے، لیکن دوسری طرف روس کے بجٹ کے دباؤ سے لے کر خلیجی ممالک میں مارکیٹ شیور کم ہونے تک کے اندرونی مسائل اس گروپ کو پابندیاں ڈھیلی کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ قیاس آرائیاں بڑھ رہی ہیں کہ آنے والی میٹنگ میں یہ گروپ رضاکارانہ کٹوتیوں میں مزید کمی کر سکتا ہے، تاکہ کمزور طلب کے ماحول میں اپنے حصے کو محفوظ بنا لے۔
لیکن سپلائی صرف ایک پہلو ہے۔ مارکیٹس کے لیے سب سے بڑی تشویش طلب ہے، اور یہ تیزی سے گر رہی ہے۔ امریکہ اور چین کے درمیان ٹیرف جنگ ایک بار پھر عروج حاصل کرچکی ہے، جہاں ٹرمپ انتظامیہ چینی الیکٹرک گاڑیوں اور ٹیکنالوجی کی مصنوعات پر نئی ٹیرفز لگانے پر غور کر رہی ہے۔ بیجنگ نے پہلے ہی جوابی اقدامات کی دھمکی دے دی ہے، جس سے سرمایہ کاروں میں مزید بے چینی پھیل گئی ہے۔ ٹریڈرز اس ٹیرف جنگ کو نہ صرف توانائی کی کھپت کے لیے، بلکہ پوری عالمی معیشت کے لیے“انتہائی غیر مستحکم“ قرار دے رہے ہیں — ۔
طلب میں کمی تمام خطوں میں نظر آ رہی ہے۔ یورپ میں ریفائنری کی پیداوار کم منافع اور انفراسٹرکچر کے مسائل کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے۔ امریکہ میں خام تیل کے ذخائر میں اضافہ ریفائننگ کی کمزور سرگرمی کو ظاہر کرتا ہے، جہاں گزشتہ ہفتے تجارتی ذخائر میں 5 لاکھ بیرل کا اضافہ ہونے کی توقع ہے۔ چین کے معاشی اشارے متضاد ہیں — جہاں جی ڈی پی کی نمایاں نمو کے باوجود پراپرٹی اور مینوفیکچرنگ سیکٹرز اب بھی مشکلات کا شکار ہیں۔
تیل کی گرتی ہوئی قیمتیں پاکستان کو مختصر مدتی میکرو اکنامک ریلیف فراہم کر سکتی ہیں۔ اگر قیمتیں کم رہیں تو تجارتی خسارے اور توانائی سے منسلک مہنگائی پر دباؤ کم ہو سکتا ہے۔ تاہم، پیٹرولیم لیویز کی صورت میں ریونیو کی ضروریات کی وجہ سے صارفین کو مکمل فائدہ پہنچانا مشکل ہو گا۔
مزید یہ کہ کمزور تیل کی مارکیٹ عالمی معاشی سست روی کی عکاسی کرتی ہے، جو پاکستان کے برآمدات اور ریمٹنس کے امکانات کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ چنانچہ، چیلنج دوہرا ہے: ایک طرف تو مختصر مدت میں درآمدی اخراجات میں کمی کا فائدہ اٹھانا، اور دوسری طرف آنے والے وقتوں میں بیرونی ماحول کے مزید سخت جان ہونے کی تیاری کرنا۔






















Comments
Comments are closed.