باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ وزارت خزانہ نے پاور ڈویژن کی جانب سے بجلی کے شعبے کی کیش فلو اور لیکویڈٹی مسائل کے حل کے لیے 224 ارب روپے کی ایڈوانس سبسڈی جاری کرنے کی تجویز کی حمایت سے انکار کردیا، ان کا کہنا تھا کہ پاور سیکٹر کے لیے پہلے ہی کافی فنڈز فراہم کیے جاچکے ہیں۔
25 مارچ 2025 کو پاور ڈویژن نے وزارت خزانہ کو ایک خط ارسال کیا جس میں کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے لیے تیار کردہ مسودہ سمری کی بنیاد پر بجلی کے شعبے کی کیش فلو اور لیکوڈیٹی مسائل کے پیش نظر ایڈوانس سبسڈی جاری کرنے کی درخواست کی گئی۔
ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ نے پاور ڈویژن کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ “پاور ڈویژن کی ضروریات کے مطابق مختلف مدت میں 633 ارب روپے کے فنڈز مختص کیے جا چکے ہیں۔
وزارت خزانہ کے مطابق مالی سال 2024-25 کے لیے بجٹ سازی کے عمل کے دوران پاور ڈویژن کی فراہم کردہ ضروریات کی بنیاد پر فنانس ڈویژن کے ڈیمانڈ نمبر 45 کے تحت 509 ارب روپے بھی مختص کیے گئے ہیں، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:(1) ٹی ڈی ایس-کے ای (بقایا جات) 88 ارب روپے؛ (2) فاٹا (بقایا جات) 86 ارب روپے۔ (3) 120ارب روپے کی اضافی سبسڈی؛ اور (4) جی پی پیز/ آئی پی پیز (ایکویٹی) 215 ارب روپے۔
وزارت خزانہ نے مزید کہا ہے کہ جیسا کہ واضح ہے، بجلی شعبے کی لیکوڈیٹی کی ضروریات کے لئے بجٹ میں وافر فنڈز دستیاب ہیں۔ تاہم وزارت خزانہ نے سفارش کی ہے کہ فنڈز کو اسی طرح استعمال کیا جائے جس طرح بجٹ میں مختص کیا گیا تھا۔ لہٰذا وزارت خزانہ نے 171 ارب روپے کے فنڈز ایڈوانس سبسڈی یا ایکویٹی کی شکل میں جاری کرنے کی حمایت نہیں کی جیسا کہ سمری میں تجویز کیا گیا ہے۔
وزارت خزانہ نے متبادل تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ 174 ارب روپے کی رقم ٹی ڈی ایس-کے الیکٹرک (88 ارب روپے) اور فاٹا (86 ارب روپے) کی تصدیق شدہ واجب الادا سبسڈی کی مد میں جاری کی جا سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق، وزارتِ خزانہ کی سفارش مندرجہ ذیل عوامل پر مبنی ہے: گزشتہ برسوں کے دوران ٹی ڈی ایس-ڈسکوز کے لیے پیشگی سبسڈی کی مد میں 264 ارب روپے جاری کیے گئے تھے، جنہیں تاحال اصل دعووں کے ساتھ ایڈجسٹ نہیں کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق: کووِڈ-19 اسٹیملس پیکیج/ٹی ڈی ایس-ڈسکوز کے لیے 106.890 ارب روپے کی پیشگی سبسڈی دی گئی، جبکہ دعوے 91.107 ارب روپے کے تھے، یوں 15.783 ارب روپے باقی ہیں؛ وزیراعظم ریلیف پیکیج/ٹی ڈی ایس-ڈسکوز کے لیے 69.225 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی، دعوے 60.437 ارب روپے کے تھے، اور 8.788 ارب روپے باقی ہیں؛ مالی سال 2021-22 کے آئندہ دعوؤں کی مد میں 100 ارب روپے جاری کیے گئے لیکن ابھی تک کوئی دعویٰ سامنے نہیں آیا؛ اسی مالی سال کے لیے ایک اور 50 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی، جس کے دعوے بھی تاحال صفر ہیں؛ سیلاب ریلیف پیکیج کے تحت 24 ارب روپے اور اضافی 10.340 ارب روپے دیے گئے، لیکن ان کے بھی کوئی دعوے موصول نہیں ہوئے؛ جبکہ نومبر 2020 سے اکتوبر 2023 تک کی مدت کے نظرثانی شدہ دعووں کی مد میں 55.487 ارب روپے رکھے گئے، تاہم ان کے خلاف بھی اب تک کوئی دعویٰ سامنے نہیں آیا۔
یہ ظاہر کرتا ہے کہ مجموعی طور پر 415.942 ارب روپے پیشگی سبسڈی کے طور پر جاری کیے گئے، جن میں سے صرف 151.544 ارب روپے کے دعوے موصول ہوئے، جبکہ 264.398 ارب روپے کی رقم تاحال ایڈجسٹ نہیں کی گئی۔
وزارتِ خزانہ نے مزید کہا کہ دسمبر 2024 تک ٹی ڈی ایس-کے الیکٹرک کے حوالے سے 170 ارب روپے کی پیشگی سبسڈی بھی ابھی تک ایڈجسٹ نہیں کی گئی۔
ای سی سی نے 15 اکتوبر 2020 اور 16 جولائی 2021 کے اپنے فیصلوں میں ہدایت دی تھی کہ سبسڈی کے دعووں کا مصالحتی عمل کیا جائے، جو ابھی تک زیر التوا ہے۔
مالی سال 2023-24 کے آڈٹ کے دوران، اے جی پی نے یہ اعتراض اٹھایا کہ کے ای-ٹی ڈی ایس کے حوالے سے فراہم کی جانے والی پچھلی پیشگی رقم کو نئے یا تازہ پیشگی فنڈز جاری کرنے سے پہلے ایڈجسٹ نہیں کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق، وزارت خزانہ نے حال ہی میں پاور ڈویژن کو مشورہ دیا ہے کہ وہ تیسرے فریق کے ذریعے مصالحتی عمل کو اختیار کرے تاکہ واجبات/ وصولیوں کی درست پوزیشن کو واضح کیا جا سکے، جو کچھ اداروں کی متوقع نجکاری کے حوالے سے بھی اہم ہے۔
وزارت خزانہ کا یہ بھی موقف تھا کہ فنڈز کو ڈسکوز اور کے-الیکٹرک کے اصل تصدیق شدہ دعووں کے خلاف استعمال کیا جائے، جب کہ تمام ضابطہ کار کی تکمیل ہو چکی ہو کیونکہ اس مد میں ایڈوانس سبسڈی فراہم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

























Comments
Comments are closed.