BR100 Increased By (0.74%)
BR30 Increased By (0.83%)
KSE100 Increased By (0.58%)
KSE30 Increased By (0.62%)
BAFL 58.65 Increased By ▲ 0.21 (0.36%)
BIPL 25.38 Increased By ▲ 0.18 (0.71%)
BOP 34.30 Increased By ▲ 0.31 (0.91%)
CNERGY 8.19 Increased By ▲ 0.08 (0.99%)
DFML 21.16 Increased By ▲ 0.32 (1.54%)
DGKC 195.52 Increased By ▲ 2.55 (1.32%)
FABL 90.00 Increased By ▲ 0.21 (0.23%)
FCCL 53.58 Increased By ▲ 0.75 (1.42%)
FFL 18.12 Increased By ▲ 0.17 (0.95%)
GGL 19.12 Increased By ▲ 0.15 (0.79%)
HBL 287.10 Increased By ▲ 1.60 (0.56%)
HUBC 215.30 Increased By ▲ 0.92 (0.43%)
HUMNL 10.98 Increased By ▲ 0.10 (0.92%)
KEL 8.08 Increased By ▲ 0.06 (0.75%)
LOTCHEM 28.11 Increased By ▲ 0.22 (0.79%)
MLCF 87.70 Increased By ▲ 1.19 (1.38%)
OGDC 322.89 Increased By ▲ 2.93 (0.92%)
PAEL 39.69 Increased By ▲ 0.27 (0.68%)
PIBTL 16.85 Increased By ▲ 0.18 (1.08%)
PIOC 270.00 Increased By ▲ 3.94 (1.48%)
PPL 230.03 Increased By ▲ 1.85 (0.81%)
PRL 34.90 Increased By ▲ 0.22 (0.63%)
SNGP 99.39 Increased By ▲ 0.21 (0.21%)
SSGC 26.85 Increased By ▲ 0.25 (0.94%)
TELE 8.41 Increased By ▲ 0.13 (1.57%)
TPLP 8.40 Increased By ▲ 0.18 (2.19%)
TRG 70.36 Increased By ▲ 0.65 (0.93%)
UNITY 11.79 Increased By ▲ 0.12 (1.03%)
WTL 1.30 Increased By ▲ 0.02 (1.56%)

ڈونلڈ ٹرمپ کے تازہ ترین بیانات، جن میں اوپیک پلس پر تیل کی قیمتیں کم کرنے کیلئے دباؤ ڈالا گیا ہے، سے غیر مستحکم مارکیٹ کے اندر عدم اطمینان میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔ موجودہ امریکی صدر، جو ممکنہ واپسی کے لیے پولز میں آگے ہیں، نے ایک بار پھر تیل کی پیدوار کے بڑے اتحادی گروپ پر عوامی طور پر دباؤ ڈالنے کے لیے اپنی معروف پلے بک کا سہارا لیا ہے۔

2018 کے برعکس، جب صرف ٹرمپ کی ایک ٹویٹ نے تیل کی قیمتوں کو گرا دیا تھا، اوپیک پلس اب واشنگٹن کے دباؤ پر اتنی تیزی سے ردعمل ظاہر کرنے کے لیے تیار نہیں دکھائی دیتا۔ 3 فروری کو ہونے والے اوپیک پلس کے وزارتی اجلاس میں فوری ردعمل کا امکان کم ہے اور توقع ہے کہ گروپ اپنی اعلان کردہ اپریل کی ٹائم لائن کے مطابق بتدریج پیداوار بڑھانے کی پالیسی پر قائم رہے گا۔

اصل تضاد ٹرمپ کے اپنے وعدوں میں ہے۔ ان کا ”ڈرل بیبی ڈرل“ موقف امریکی فوسل فیول کی پیداوار کی بحالی کی طرف اشارہ ہے تاہم یہ پٹرول کی قیمتیں کم کرنے کے عزم سے مطابقت نہیں رکھتا۔ کھدائی اور فریکنگ کے لیے سرمایہ درکار ہوتا ہے اور یہ سرمایہ اس وقت تک نہیں آتا جب قیمتیں کم ہوں اور مارکیٹ کا منظر نامہ مندی کی طرف ہو۔

اگر ٹرمپ واقعی امریکی تیل کی پیداوار کو بڑھانے کے لیے سنجیدہ ہیں، تو انہیں سرمایہ کاری کو ترغیب دینے کے لیے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑے گا۔ لیکن کنویں پر قیمتوں میں اضافہ کا مطلب ہے کہ پمپ پر بھی قیمتیں بڑھیں گی—جو بالکل وہی ہے جس سے وہ بچنا چاہتے ہیں۔

ابتدائی طور پر ٹرمپ کے بیانات کا تیز ردعمل برینٹ کروڈ پر ظاہر ہوا ہے اور اس کی قیمت 2025 میں اپنی کم ترین سطح پر آگئی تھیں تاہم یہ مستحکم ہوتی نظر آ رہی ہیں۔ حالانکہ ٹرمپ کے تبصروں نے مختصر مدت کی اتار چڑھاؤ پیدا کی لیکن وسیع مارکیٹ اب دوبارہ بنیادی اصولوں کے مطابق ایڈجسٹ ہو رہی ہے۔ امریکی ذخائر کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق جو بڑی حد تک عوامی اتفاق رائے کے مطابق تھی، نے بھی استحکام فراہم کیا ہے۔ متوقع کمی سے کوئی بڑی حیرانگی نہیں جس سے اس خیال کو تقویت ملی کہ رسد کی حرکیات بڑی حد تک تبدیل نہیں ہوئی ہیں۔

اس دوران مارکیٹ آہستہ آہستہ ٹرمپ کے اثرات کو قیمتوں میں شامل کر رہی ہے اور بنیادی عوامل پر دوبارہ توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ چین کی جانب سے طلب کے مسائل، فیڈ کی شرح سود کی پالیسی، سخت روسی پابندیوں جیسے جغرافیائی سیاسی خطرات ممکنہ طور پر سیاسی اثر و رسوخ کے مقابلے میں تیل کے نقطہ نظر کو تشکیل دینے میں بڑا کردار ادا کریں گے. روس پر اضافی امریکی پابندیاں ٹرمپ کے تیل کی قیمتوں کو کم کرنے کے مقصد کے خلاف بھی کام کر سکتی ہیں جس میں رسد کو سخت کرنا اور قیمتوں میں اضافہ کرنا شامل ہے۔

اوپیک پلس، جس کی قیادت سعودی عرب اور روس کر رہے ہیں، کو ٹرمپ کی افراط زر کے خلاف جنگ کی سبسڈی دینے سے کوئی سروکار ہے اور نہ ہی اسے اس بات کا فوری کوئی جواز دکھائی دیتا ہے کہ وہ اپنے پیداواری کنٹرول کی حکمت عملی کو چھوڑ دے۔ 3 فروری کو ہونے والے اوپیک کے اجلاس سے زیادہ سے زیادہ ایک عمومی بیان کی توقع ہے، اور گروپ اپنی طے شدہ اپریل کی ٹائم لائن کے مطابق پیداوار میں کمی واپس لینے کے عہد پر قائم رہے گا۔

فی الحال، ٹرمپ کے الفاظ مارکیٹ میں قلیل مدتی اضطراب پیدا کرسکتے ہیں لیکن اس سے تیل کی مارکیٹ کے بنیادی حقائق تبدیل نہیں ہوں گے، بیان میں اگرچہ کم قیمتوں کا مطالبہ شامل ہوسکتا ہے لیکن اس کے باوجود دونوں سمتوں سے فوائد نہیں مل سکتے۔ زیادہ کھدائی کی ترغیب دیتے ہوئے سستی پٹرول کی ضمانت بھی نہیں دے سکتے۔ تیل کی مارکیٹ، جیسا کہ ہمیشہ ہوتا ہے، سیاسی شعبدے سے بے پرواہ رہتی ہے۔ بنیادی عوامل ہی قیمت کا تعین کریں گے اور انتخابی نعرے اس کا تعین نہیں کرسکتے۔

Comments

Comments are closed.