BR100 Increased By (1.66%)
BR30 Increased By (1.75%)
KSE100 Increased By (1.2%)
KSE30 Increased By (1.4%)
BAFL 58.67 Increased By ▲ 0.50 (0.86%)
BIPL 27.08 Increased By ▲ 0.08 (0.3%)
BOP 33.92 Increased By ▲ 0.43 (1.28%)
CNERGY 11.10 Increased By ▲ 0.36 (3.35%)
DFML 18.06 Increased By ▲ 0.28 (1.57%)
DGKC 215.83 Increased By ▲ 8.52 (4.11%)
FABL 100.69 Increased By ▲ 0.33 (0.33%)
FCCL 55.90 Increased By ▲ 1.72 (3.17%)
FFL 16.08 Increased By ▲ 0.01 (0.06%)
GGL 23.90 Increased By ▲ 0.99 (4.32%)
HBL 309.24 Increased By ▲ 5.57 (1.83%)
HUBC 219.89 Increased By ▲ 2.77 (1.28%)
HUMNL 10.73 Increased By ▲ 0.11 (1.04%)
KEL 7.30 Increased By ▲ 0.12 (1.67%)
LOTCHEM 27.29 Increased By ▲ 0.32 (1.19%)
MLCF 97.45 Increased By ▲ 2.58 (2.72%)
OGDC 319.09 Increased By ▲ 5.05 (1.61%)
PAEL 42.52 Increased By ▲ 0.25 (0.59%)
PIBTL 17.08 Increased By ▲ 0.04 (0.23%)
PIOC 272.98 Increased By ▲ 3.53 (1.31%)
PPL 221.32 Increased By ▲ 5.11 (2.36%)
PRL 63.42 Increased By ▲ 3.28 (5.45%)
SNGP 105.88 Increased By ▲ 2.99 (2.91%)
SSGC 25.93 Increased By ▲ 0.65 (2.57%)
TELE 8.46 Increased By ▲ 0.21 (2.55%)
TPLP 14.71 Increased By ▲ 1.34 (10.02%)
TRG 60.81 Decreased By ▼ -0.04 (-0.07%)
UNITY 10.01 Increased By ▲ 0.05 (0.5%)
WTL 1.21 Increased By ▲ 0.02 (1.68%)

افغان وزیر برائے مہاجرین بدھ کے روز دارالحکومت کابل میں وزارت کے دفتر میں ہونے والے دھماکے میں جاں بحق ہو گئے۔ یہ بات افغانستان میں طالبان حکومت کے سرکاری ذرائع نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتائی ہے۔

عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بدقسمتی سے وزارت مہاجرین میں ایک دھماکہ ہوا اور وزیر خلیل الرحمٰن حقانی اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ شہید ہوگئے۔

خلیل الرحمٰن حقانی جلال الدین حقانی کے بھائی تھے جنہوں نے طالبان کی دو دہائیوں پر محیط شورش کے دوران سب سے زیادہ پرتشدد حملوں کا ذمہ دار حقانی نیٹ ورک کی بنیاد رکھی تھی۔

خلیل الرحمٰن حقانی موجودہ وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے چچا بھی تھے۔

طالبان مسلح دستوں کی جانب سے 2021 میں افغانستان پر قبضے اور امریکہ اور نیٹو کی زیر قیادت غیر ملکی افواج کے خلاف ان کی جنگ کے خاتمےکے بعد سے ملک کے اندر پرتشدد کارروائیوں میں کمی آئی ہے۔

تاہم دولت اسلامیہ کی علاقائی تنظیم جسے دولت اسلامیہ خراسان کے نام سے جانا جاتا ہے، افغانستان میں سرگرم ہے اورعام شہریوں، غیر ملکیوں اور طالبان عہدیداروں کے خلاف ہتھیاروں اور بموں سے حملے بدستورکرتی رہی ہے ۔

Comments

Comments are closed.