BR100 Increased By (1.66%)
BR30 Increased By (1.75%)
KSE100 Increased By (1.2%)
KSE30 Increased By (1.4%)
BAFL 58.67 Increased By ▲ 0.50 (0.86%)
BIPL 27.08 Increased By ▲ 0.08 (0.3%)
BOP 33.92 Increased By ▲ 0.43 (1.28%)
CNERGY 11.10 Increased By ▲ 0.36 (3.35%)
DFML 18.06 Increased By ▲ 0.28 (1.57%)
DGKC 215.83 Increased By ▲ 8.52 (4.11%)
FABL 100.69 Increased By ▲ 0.33 (0.33%)
FCCL 55.90 Increased By ▲ 1.72 (3.17%)
FFL 16.08 Increased By ▲ 0.01 (0.06%)
GGL 23.90 Increased By ▲ 0.99 (4.32%)
HBL 309.24 Increased By ▲ 5.57 (1.83%)
HUBC 219.89 Increased By ▲ 2.77 (1.28%)
HUMNL 10.73 Increased By ▲ 0.11 (1.04%)
KEL 7.30 Increased By ▲ 0.12 (1.67%)
LOTCHEM 27.29 Increased By ▲ 0.32 (1.19%)
MLCF 97.45 Increased By ▲ 2.58 (2.72%)
OGDC 319.09 Increased By ▲ 5.05 (1.61%)
PAEL 42.52 Increased By ▲ 0.25 (0.59%)
PIBTL 17.08 Increased By ▲ 0.04 (0.23%)
PIOC 272.98 Increased By ▲ 3.53 (1.31%)
PPL 221.32 Increased By ▲ 5.11 (2.36%)
PRL 63.42 Increased By ▲ 3.28 (5.45%)
SNGP 105.88 Increased By ▲ 2.99 (2.91%)
SSGC 25.93 Increased By ▲ 0.65 (2.57%)
TELE 8.46 Increased By ▲ 0.21 (2.55%)
TPLP 14.71 Increased By ▲ 1.34 (10.02%)
TRG 60.81 Decreased By ▼ -0.04 (-0.07%)
UNITY 10.01 Increased By ▲ 0.05 (0.5%)
WTL 1.21 Increased By ▲ 0.02 (1.68%)
دنیا

نئی دہلی کی جانب کسانوں کا احتجاجی مارچ، پولیس کی شیلنگ

بھارتی پولیس کی کسانوں کے احتجاجی جلوس پرآنسو گیس کی شیلنگ بھارتی پولیس نے جمعہ کے روز دارالحکومت نئی دہلی کی جانب...
شائع اپ ڈیٹ

بھارتی پولیس نے جمعے کے روز احتجاجی مارچ کیلئے نئی دہلی کی جانب بڑھنے والے کسان مظاہرین پر آنسو گیس کی شیلنگ کی ہے۔ مظاہرین اپنی فصلوں کی کم از کم قیمتوں کی ضمانت کے لئے اپنے دیرینہ مطالبے کے حق میں احتجاج کر رہے تھے۔

کسانوں نے رواں ہفتے ”مارچ ٹو دہلی“ مہم دوبارہ شروع کی ہے جس کا مقصد 2021 میں ٹریکٹروں پر سوار مظاہرین کے دہلی پہنچ کر ڈرامائی احتجاج کی یاد تازہ کرنا ہے۔

دارالحکومت نئی دہلی سے تقریباً 200 کلومیٹر (125 میل) شمال میں واقع شنبھو کے مقام پر پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے کنکریٹ کے بلاک اور خار دار تاروں سے بھاری رکاوٹیں کھڑی کی تھیں۔

حکام نے جلوس کے راستے پر موبائل انٹرنیٹ سروسز بھی معطل کردی ہیں تاکہ مظاہرین کے درمیان باہمی رابطے کو روکا جا سکے۔

نیلے اور پیلے جھنڈے لہراتے ہوئے مظاہرین نے ناکہ بندی کا ایک حصہ توڑ دیا جس کے بعد پولیس نے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔

کسان رہنما سرون سنگھ پاندھر نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ فروری میں حکومت کے ساتھ ہمارے مذاکرات کے چار دور ہوئے تھے تاہم اس کے بعد سے ہمارے مطالبات پر مزید بات نہیں ہوئی ہے۔

سرون سنگھ پاندھر کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت ہمیں احتجاج کا جمہوری حق دے۔

احتجاج کرنے والے کسان اپنی فصل کی قیمت کی ضمانت کے علاوہ قرضوں کی معافی اور کئی سال پہلے حکومت کی جانب سے لی گئی اراضی کے معاوضے میں اضافے سمیت دیگر رعایتوں کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔

بھارت میں کسان اپنی بڑی تعداد کی وجہ سے سیاسی اثر و رسوخ رکھتے ہیں جبکہ ازسر نو شروع کیا گیا احتجاج ایسے وقت ہو رہا ہے جب پارلیمنٹ کا اجلاس جاری ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھارت کی ایک ارب 40 کروڑ آبادی میں سے دو تہائی لوگوں کا ذریعہ معاش زراعت سے وابستہ ہے جو ملک کی جی ڈی پی کا تقریبا پانچواں حصہ ہے۔

زرعی اصلاحات بلوں کے خلاف نومبر 2020 میں احتجاج ایک سال سے زیادہ عرصے تک جاری رہا جو وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کی طرف سے اس شعبے میں اصلاحات کی کوششوں کے لیے ایک بڑا چیلنج تھا۔

ایک سال بعد کسانوں کی احتجاجی مہم نے نریندر مودی کو تین متنازع قوانین منسوخ کرنے پر مجبور کیا تھا جن کے بارے میں کسانوں کا دعویٰ تھا کہ ان سے نجی کمپنیوں کو ملک کے زرعی شعبے کو کنٹرول کرنے کا موقع ملے گا۔

Comments

Comments are closed.